← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
مہاجرین کی نصرت
Urdu · 28 min
مدینہ کے قبائل (انصار) نے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ساتھ دیا وہ تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ لوگ کسی کوکوئی چیز دیتے ہیں تو وہ یا بدلہ کے طور پر ہوتا ہے یا خوف کی وجہ سے۔لین دین کی تیسری قسم وہ ہے جو ’’برکت‘‘ کے تصور کے تحت وجود میں آتی ہے۔ کچھ زندہ یا مردہ لوگوں کے بارے میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ ’’بزرگ‘‘ ہیں اور ان کے اوپر خرچ کرنا یا چڑھا واچڑھانا اولاد اور اموال میں ترقی کا باعث ہوگا۔ مگر معلوم انسانی تاریخ میں غالباً یہ پہلی نمایاں مثال ہے کہ ایک قوم نے خالص مقصدی بنیاد وں پر لٹے پٹے مہاجرین کےلیے اپنے دروازے کھول دیے۔ ان کو نہ صرف اپنے گھروں میں جگہ دی بلکہ مواخاۃ قائم کر کے ان کو سگے بھائی کی طرح اپنی جائدادوں میں حصہ دار بنا دیا۔ اور یہ سب کچھ یہ جانتے ہو ئے کیا کہ مہاجرین کی یہ امداد صرف اقتصادی قربانی ہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ عرب و عجم کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ حضرت علی کےیہ دو الفاظ ان کی بہترین تصویر ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
كَانُوا صُدَقَاءَ صُبَرَاءَ (البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 145)۔ یعنی، (اوس و خزرج کے لوگ) بڑے سچے اور بڑے صبر کرنے والے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جب مہاجرین اپنا وطن چھوڑ کر یثرب پہنچے تو انصار کا یہ حال تھا کہ ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ مجھے میزبانی کا شرف حاصل ہو۔ حتّٰی کہ اس کے لیے قرعہ اندازی کی نوبت آگئی۔ انہوں نے اپنے اموال کے بہترین حصہ کو مہاجرین کے حوالے کر دیا (وَلَقَدْ تَشَاحُّوا فِينَا حَتَّى أَنْ كَانُوا لَيَقْتَرِعُونَ عَلَيْنَا ثُمَّ كُنَّا فِي أَمْوَالِهِمْ أَحَقَّ بِهَا مِنْهُمْ ) دلائل النبوۃ لابی نعیم، حدیث نمبر 224۔ ان کے غیر معمولی ایثار کے باوجود ا ن سے با قاعدہ بیعت لی گئی کہ عہدوں کی تقسیم میں دوسروں کو ان پر ترجیح دی جائیگی (أَثَرَةً عَلَيْنَا)مگر وہ اس کے لیے جھگڑا نہ کریں گے (وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ)صحیح مسلم، حدیث نمبر 1709۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاہم ہجرت کے بعد مدینہ کی زندگی آپ کے لیے کوئی آرام کی زندگی نہ تھی۔ اہل عرب کی متحدہ جار حیت کے بارے میں تمام اندیشے اپنی بد ترین شکل میں صحیح ثابت ہوئے۔ حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الْمَدِينَةَ وَآوَاهُمُ الأَنْصَارُ رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ وَكَانُوا لَا يَبِيتُونَ إِلا فِي السِّلاحِ وَلا يُصْبِحُونَ إِلا فِي كَذَا (الأحاديث المختارة لضياء المقدسي، حدیث نمبر 1145)۔ یعنی، جب آپ اور آپ کے اصحاب مدینہ آئے اور انصار نے انہیں پناہ دی تو تمام عرب نے مل کر آپ کو نشانہ پر لے لیا۔ مدینہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ وہ ہتھیاروں کے ساتھ رات گزارتے اور ہتھیار کے ساتھ صبح کرتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قریش نے تمام عرب میں اہل مدینہ کےمعاشی بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ شہر کی معاشیات اچانک بڑھ جانے والی دگنا آبادی کے لیے انتہائی نا کافی ہو گئیں۔ اس پر مزید آئے دن ہونے والی جنگوں کےاخراجات، ان چیزوں نے معاشی تنگی کو اپنے آخری درجہ پر پہنچا دیا۔ حضر ت عمر کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اسلام کو مدینہ میں دیکھا ہے۔ آپ سارے دن بھوک سے بے قرار رہتے۔ ردی کھجوریں بھی اتنی میسر نہ آتیں جس سے اپنا پیٹ بھر سکیں۔ بعد کے دور میں حضرت عائشہ سے کسی نے چراغ کا ذکر کیا تو انہوں نے جواب دیا اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لیے تیل ہوتا تو اس کو ہم پی جاتے۔ غزوات میں بے سر وسامانی کا عالم یہ تھا کہ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں، ہم لوگ آپ کے ہمراہ غزوہ کے لیے نکلے۔ ہمارے پاس چھ آدمیوں کے درمیان صرف ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے۔ مسلسل پیدل چلنے کی وجہ سے ہمارے قدم چھلنی ہو گئے اور ہم نے اپنے پیروں پر چیتھڑے لپیٹ لیے، اسی لیے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا) رکھا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
غزوات کے سفر میں کھانے کا ذخیرہ اتنا کم ہوتا تھا کہ بعض اوقات لوگ کھجور کو کھانے کے بجائے چوستےتھے۔ اور بقیہ کمی کو ببول کے پتوں اورٹڈیوں کے ذریعہ پوری کرتے تھے۔ اس پر مزید اضافہ وہ بیماری تھی جو غذائی عادت کی تبدیلی سے پیداہوئی۔ مکہ کے باشندے گوشت اور دودھ کے عادی تھے۔ مدینہ میں انہیں کھجور کھانے کو ملی۔ طبرانی نے روایت کیا ہے کہ ایک روز جب کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں تشریف لائے، ایک مکی مسلمان نے چلا کر کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يَا رَسُولَ اللهِ أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ (مسند احمد، حدیث نمبر 15988)۔يعني،اے خدا کے رسول ! کھجور نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ کے مدینہ پہنچنے کے بعد اسلام عملی او ر تاریخی طور پر دعوت کے مرحلہ سے نکل کر عملی مقابلہ کے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ دور دعوت میں آپ کا اصول یہ تھا کہ لوگوں کے معاشی، سیاسی، قبائلی اور اس طرح کے دوسرے نزاعی مسائل کو نہ چھیڑتے ہوئے اور اس سے بے تعلق رہ کر خالص ’’انذار و تبشیر‘‘کے کام میں مشغول رہیں۔ بنی عامر بن صعصعہ کو آپ نے سوق عکاظ میں اسلام کی دعوت دی تو انہیں یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ میں صرف پُر امن طور پر اپنا دینی پیغام پہنچاؤں گا۔ اس کے علاوہ تمہارے درمیان کوئی سیاسی، اقتصادی یا قبائلی جھگڑا نہیں کھڑا کروں گا۔
آپ نے ان سے فرمایا
إِنِّي رَسُولُ اللهِ فَإِنْ أَتَيْتُكُمْ تَمْنَعُونِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَمْ أُكْرِهْ أَحَدًا مِنْكُمْ عَلَى شَيْءٍ (ابو نعیم، دلائل النبوۃ، حدیث نمبر 215)۔يعني، میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمہارے یہاں آؤں تو کیا تم میری حفاظت کرو گے تاکہ میں اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچادوں اور میں تم میں سے کسی کو کسی چیز پر مجبور نہیں کروں گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعثت کے اصل مقصد کی حیثیت سے یہ کام اب بھی بد ستور جاری تھا۔ مگر اب اسلام کو ایک اور چیز سے نمٹنا تھا۔ اور وہ ماحول کے پیدا کردہ عملی مسائل تھے۔ اس سلسلے میں آپ نے اپنے سامنے بنیادی اصول یہ رکھا کہ ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن سے لوگوں کے دل اسلام کے لیے نرم ہو جائیں، اور لڑائی بھڑائی کے بغیر اسلامی مقاصد تک پہنچنا ممکن ہو سکے۔ یہی وہ بات ہے جس کو آپ نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 335)۔یعنی،ایک مہینہ تک کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طریق عمل کے دو خاص پہلو تھے۔ ایک قوت مرہبہ کا حصول (الانفال،8:60)، دوسرا تالیف قلب (التوبہ، 9:60)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تالیف قلب کے تحت آپ نے لوگوں کو اس کثرت سے اموال دیے کہ دادودہش کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ صفوان بن امیہ مکہ کے بڑے سردارتھے۔فتح مکہ کے بعد وہ بھاگ کر ایک گھاٹی میںچھپ گئے۔ آپ نے انہیں امان دے کر بلایا۔ ہوازن کی فتح کے بعد جب آپ جعرانہ کےمقام پر مال غنیمت کی دیکھ بھال کر رہے تھے، اس وقت صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ تھے اور ابھی حالت کفر میں تھے۔ صفوان بن امیہ ایک گھاٹی پر پہنچے جو بکریوں اور اونٹوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ حیرت و استعجاب کے ساتھ مسلسل اس کو دیکھتے رہے۔ آپ نے ان کا یہ حال دیکھ کر پوچھا ’’اے ابو وہب ! کیا یہ مال سے بھری ہوئی گھاٹی تم کو پسند ہے، صفوان نے کہا ہاں۔ آپ نےفرمایاهُوَ لَك وَمَا فِيهِ(وہ اور اس میں جو کچھ ہے، سب تمہارا ہے)۔ صفوان نے یہ سن کر کہا،نبی کے سوا کسی کا نفس اتنی بڑی سخاوت نہیں کرسکتا (مَا طَابَتْ نَفْسُ أَحَدٍ بِمِثْلِ هَذَا إِلَّا نَفْسَ نَبِيٍّ)۔ میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا (وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ) مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ855۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
آپ کا متعدد شا دیاں کرنا بھی ایک اعتبار سے اسی ذیل کاایک واقعہ ہے۔ قبائلی نظام میں رشتہ داری اولین اہمیت کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ ہجرت کے بعد آپ کا کئی شادیاں کرنے کا اہم پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعہ بے شمار لوگوں سے رشتہ داریاں قائم ہو گئیں اور ان کے قلوب آپ کے اورآپ کی دعوت کے حق میں نرم پڑگئے۔ پہلی شادی کے علاوہ، جو آپ نے تقریباً دگنی عمر کی بیوہ سے نبوت سے پہلے کی تھی۔ دوسری شادیاں حقیقتہً ازدواجی تقاضے کے تحت وقوع میں نہیں آئیں، بلکہ ان کے ذریعہ اہم دعوتی اور سیاسی فائدے حاصل کرنا مقصود تھا۔
معاہدہ حدیبیہ کی رو سے اگلے سال (628ء) آپ دوہزار مسلمانوں کے ساتھ کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ گئے۔ اس موقع پر تین روزہ قیام کے دوران آپ نے میمونہ بنت الحارث سے نکاح کیا جو بیوہ ہو گئی تھیں۔ میمونہ کی آٹھ بہنیں تھیں جن کی شادی مکہ کے آٹھ ممتاز گھر انوں میں ہوئی تھی۔ آپ نے میمونہ سے نکاح کر کے آٹھ خاندانوں سے اپنی رشتہ داری قائم کرلی۔ نیز خالد بن ولید میمونہ کے بھانجے تھے اور انہوں نے ان کو اپنے بچے کی طرح پالا تھا۔ نکاح کے بعد قریش کا سب سے بڑا فوجی سردار آپ کا بیٹا ہوگیا۔ چنانچہ اس کے بعد پھر خالد بن ولید مسلمانوں کے خلاف کسی معرکہ میں نہیں نکلے اور جلدہی مسلمان ہو گئے۔ اس تقریب سے آپ نے مکہ والوں کی دعوت ولیمہ کا بھی انتظام کیا تھا۔مگر مکہ والوں نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق آپ صرف تین روز مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں اور یہ مدت پوری ہو چکی ہے، آپ کو فوراً واپس جانا چاہیے۔ اس لیے آپ مکہ والوں کوولیمہ نہ کھلا سکے جو درحقیقت ان کی تالیف قلب کے لیے انتہائی اہمیت رکھتاتھا۔ خالد بن الولید اور عمر و بن العاص دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوئےتھے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو ان کو دیکھ کر ایک شخص چیخ پڑا ان دو کے بعد مکہ نے اپنی نکیل دے دی (قَدْ أَعْطَتْ مَكّةُ الْمَقَادَةَ بَعْدَ هَذَيْنِ)مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ744۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ام حبیبہ بنت ابو سفیان اور ان کے شوہر عبید اللہ بن جحش نے اسلام قبول کر لیا تھا اور دونوں ہجرت کر کے حبش چلے گئے۔ وہاں ان کے شوہر نے نصر انیت اختیار کر لی، اس کے بعد جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے ام حبیبہ سے نکاح کا منصوبہ بنایا۔ اس طرح آپ ابوسفیان کے داماد ہو جاتے تھے جو بد ر میں ابو جہل کے قتل ہو جانے کے بعد مکہ کے سب سے بڑے لیڈر تھے۔ اس کے لیے آپ نے غائبانہ نکاح کا انتظام کیا۔ کیونکہ اندیشہ تھا کہ اگراُم حبیبہ حبش سے مکہ واپس آگئیں تو ان کا باپ آ پ سے نکاح نہ ہونے دے گا۔ ام حبیبہ سے آپ کا نکاح غائبانہ طور پر نجاشی (بادشاہ حبش) نے پڑھایا۔ اس کے بعد وہ سیدھے مدینہ بھیج دی گئیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد ابو سفیان کی مخالفت کمزور پڑگئی۔ یہاں تک کہ فتح مکہ سے ایک دن پہلےانہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
اس حکمت کا دوسرا پہلووہ ہے جس کو قرآن کے الفاظ میں ’’ارہاب ‘‘ کی پالیسی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی طاقت کے استعمال کے بجائے طاقت کے مظاہرہ کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ احد (3 ھ)کی شکست مسلمانوں کے لیے مکمل شکست بن سکتی تھی اگر ابو سفیان اپنی فوج کو لے کر واپس نہ ہوجاتا اور اگلے روز دوبارہ حملہ کرتا۔ چنانچہ روحا کے مقام پر پہنچ کر ابو سفیان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اور وہ اپنی فوج کو دوبارہ مدینہ کی طرف واپس لوٹا نے کا ارادہ کرنے لگا۔ مگر اس سخت ترین انتشار کی حالت میں بھی پیغمبر اسلام کا جنگی اطلاعات کا نظام اتنا مکمل تھا کہ آپ کو فوراً ابو سفیان کے ارادہ کی خبر ہوگئی۔ آپ نے اقدام کا فیصلہ کیا۔ آپ نے اپنی زخمی فوج کو منظم کر کے فوراً مکہ کی طرف کو چ کردیا اور حمراء الا سدتک پہنچ گئے جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ آپ کا یہ سفر پورے اعلان واظہار کے ساتھ تھا جب کہ عام طور پر آپ نہایت خاموشی کے ساتھ کو چ کیا کرتے تھے۔ ابو سفیان کو خبر ہوئی تو اس نے سمجھا کہ آپ کو مزید کمک آگئی ہے۔ وہ واپسی کا ارادہ ترک کرکے مکہ کی طرف روانہ ہوگیا جب آپ کو اطمینان ہو گیا کہ ابو سفیان کی فوج واپس ہو چکی ہے تو آپ مدینہ لوٹ آئے۔
غزوہ مُوتہ (جمادی الاول 8ھ) کے اگلے سال قیصر روم نے سرحد شام پر فوجی تیاریاں شروع کردیں۔ اس کے ماتحت غسانی اور دوسرے عرب سردار بھی فوج اکٹھا کر نے لگے۔ اس کے جواب میں آپ 30ہزار کا لشکر لے کر نکلے جس کو غزوہ تبوک (رجب 9ھ)کہا جاتاہے۔ تبوک کا غزوہ حقیقتہً ایک جنگی تدبیر تھی جس کا مقصد دشمن کے اقدام سے پہلے اقدام تھا، تاکہ دشمن مرعوب ہو کر اقدام کا حوصلہ کھودے۔ چنانچہ تبوک کے مقام پر پہنچ کر جب معلوم ہوا کہ قیصر نے مقابلہ کے لیے بڑھنے کے بجائے سرحد سے اپنی فوجیں ہٹانی شروع کردی ہیں تو آپ نے بھی جنگی ٹکراؤ کا ارادہ ترک کردیا۔ البتہ قیصر کے ہٹ جانے سے آپ کو جو اخلاقی فتح حاصل ہوئی تھی اس سے آپ نے سیاسی فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنایا۔ آپ نے تبوک میں بیس دن ٹھہر کر سرحد کے ان قبائل سے رابطہ قائم کیا، جو اس وقت تک رومیوں کے زیر اثر تھے۔ اس سلسلے میں دو متہ الجندل کے عیسائی رئیس اُکیدربن عبد المِلک کِندی، ایلہ کے عیسائی یو حنابن رویہ، اور اسی طرح مَقنا۔ جرباء اور اذرُح کے نصرانی روسانے بھی جزیہ ادا کرکے مدینہ کی ماتحتی قبول کی۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ابو بکر صدیق کی خلافت کے بعد جیش اسامہ کی روانگی بھی اسی قسم کا ایک واقعہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبیلہ طے کے سوا مدینہ کے اطراف کے تمام عرب قبائل باغی ہو گئے۔ اپنی تعداد کی کمی اور دشمن کی کثرت کی وجہ سے مسلمانوں کا حال ایسا ہو رہا تھا جیسے ’’جاڑے کی بارش میں بھیگی ہوئی بکری‘‘(كَالْغَنَمِ الْمَطِيرَةُ فِي اللَّيْلَةِ الشَّاتِيَةِ) سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ665۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس وقت بظاہر حالات کا تقاضا تھا کہ اندرونی دشمنوں کو زیر کرنے کےلیے اپنی طاقت کو محفوظ رکھا جائے۔مگر پیغمبر کے فیصلہ پر قائم رہتے ہوئے خلیفہ اول نے طے کیاکہ اسامہ کے لشکر کوجو سات سو افراد پر مشتمل تھارومیوں کے مقابلہ کے لیے شام روانہ کردیں۔ اس اقدام کا جو اثر پڑا وہ حضرت ابو ہریرہ کے الفاظ میں یہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ بِقَبِيلٍ يُرِيدُونَ الِارْتِدَادَ إِلَّا قَالُوالَوْلَا أنَّ لِهَؤُلَاءِ قُوَّةً مَا خَرَجَ مِثْلُ هَؤُلَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ، وَلَكِنْ نَدَعُهُمْ حَتَّى يَلْقَوُا الرُّوم، فَلَقُوا الرُّوم فَهَزَمُوهُمْ وَقَتَلُوهُمْ، وَرَجَعُوا سَالِمِينَ، فَثَبَتُوا عَلَى الْإِسْلَامِ (الاعتقاد للبیہقی، صفحہ406)۔ اسامہ کا لشکر جب ان قبیلوں پر سے گزرتا جو مرتد ہونا چاہ رہے تھے، وہ کہتے کہ اگر مسلمانوں کے پاس قوت نہ ہوتی تو اس قسم کی فوج ان کے پاس سے روانہ نہ ہوتی۔ ہم ابھی انہیں چھوڑدیں اور روم سے لڑنے دیں ، چنانچہ وہ رومیوں سے لڑے اور انہیں شکست دی اور انہیں قتل کیا اور سلامتی کے ساتھ واپس آئے۔ یہ دیکھ کر ارتداد کا ارادہ کرنے والے بھی اسلام پر جم گئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ مدینہ پہنچے تو وہاں مشرکین کی ایک مختصر اقلیت کو چھوڑ کر دوبڑے گروہ آباد تھے۔ یہود اور مسلمان۔ پھریہ بھی مختلف ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے تھے جن کے درمیان کوئی اتفاق نہ تھا۔ لوگ نفسیاتی طور پر ایک ایسے شخص کے منتظر تھے جو ان کے درمیان اتحاد اور نظم پیدا کردے۔ آپ نے اس صورت حال کا اندازہ کر کے اپنی طرف سے ایک صحیفہ (نہ کہ معاہدہ) جاری کردیا جس میں یہود اور مسلمانوں کو مستقل حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا (إنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دُونِ النَّاسِ... وَإِنَّ يَهُودَ ...أُمَّةٌ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ، لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمِيْنِ دِينُهُمْ)اس صحیفہ میںدونوں کے مروجہ حقوق اور ذمہ داریوں کو چھیڑے بغیر انہیں ایک قابل قبول شکل میں تسلیم کر لیا گیا۔ اور اس کے بعد ایک دفعہ ان لفظوں میں شامل کر دی گئی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَإِنَّكُمْ مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ، فَإِنَّ مَرَدَّهُ إلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى مُحَمَّد (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 501-3)يعني، اور جب بھی تم میں کسی معاملہ میں کوئی اختلاف ہو تووہ معاملہ خد ا اور رسول کی طرف لوٹے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح یہ صحیفہ گو یا ایک قسم کا سیاسی اقدام تھا جس کے ذریعہ آپ نے انتہائی حکیمانہ طور پر مدینہ کے اوپر اسلام کی دستوری حکومت کا اعلان کر دیا۔
آپ کے مدینہ پہنچنے کے بعد قریش کا غصہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ سارے مسلمانوں نے سمٹ کر ایک مقام پر اپنا مضبوط مرکز بنا لیاہے۔ ہجرت کے دوسرے ہی سال آپ کے سامنے یہ نازک صورت حال آئی کہ یا تو آگے بڑھ کر قریش کے لشکر کا مقابلہ کریں یا اس کو موقع دیں کہ وہ مدینہ میں گھس آئے اور اسلام کے بنتے ہوئے آشیانہ کو منتشر کردے۔ اگر چہ قریش کے لشکر کی تعداد ساڑھے نو سو اور مسلمانوں میں قابلِ جنگ افراد کی تعداد صر ف تین سو تیرہ تھی۔ مگر آپ نے اپنے پیغمبر انہ تدبر سے یہ سمجھا کہ اہل شرک اپنی کثرت کے باوجود صرف نفرت اور حسد کا منفی سرمایہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کے پاس ایمان و یقین کا مثبت خزانہ ہے جو اول الذکر سے بدر جہا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے علاوہ عرب اپنے جاہلی پرائڈ (pride) کے تحت اکیلے اکیلے لڑتے تھے تاکہ ہر شخص اپنا منفرد کمال دکھائے اور بہادر مشہور ہو۔ مسلمان اللہ پر ایمان لاکر اپنے اندر یہ کم زوری ختم کر چکے تھے۔ آپ نے انہیں عرب تاریخ میں پہلی بار مورچہ بندی کی تلقین کی۔ آپ نے انہیں سکھایا کہ ذاتی کمال دکھانے کا شوق نہ کرو، بلکہ دستہ بنا کر لڑو۔ قریش کی انفرادی طاقت کو اپنی اجتماعی طاقت سے شکست دو (الصف، 61:4)—ایمان اورمورچہ بندی کی طاقت سے وہ عظیم الشان واقعہ وجود میں آیا، جس کو اسلام کی تاریخ میں بدر کی فتح کہتے ہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically