ہجرت کا واقعہ اسلامی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس کو اسلامی کیلنڈر کے آغاز کے لیے استعمال کیا۔ مگر اس واقعہ کی اصل حقیقت طلسماتی کہانیوں میں گم ہو گئی ہے۔
مثال کےطور پر کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غار ثور میں داخل ہوئے تو مکڑی نے ا س کے منہ پر جا لا تن دیا اور اس کے بعد فاختہ آئی اور اس نے جالے کے اوپر انڈے دے دیے۔ مگر اس معاملہ میں وہی ہوا جو عام طور پر اس طرح کے واقعات میں ہوتا ہے۔ یعنی اصل بات پر اپنے تخیل سے اضافہ کر کے اس کو کچھ سے کچھ بنا دیا۔
جیسا کہ ابن کثیر نے واضح کیا ہے، اس معاملہ میں صحیح ترین روایت وہ ہے جو امام احمد نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں
فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ، فَمَرُّوا بِالْغَارِ، فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ، فَقَالُوالَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ(مسند احمد، حدیث نمبر 3251، وھو ضعیف)۔ یعنی،وہ آپ کے نشانات پر چلے۔ جب وہ پہاڑ تک پہنچے تو راستہ ان پر مشتبہ ہوگیا۔ پھر وہ پہاڑ پر چڑھے اورغار سے گزرے۔ انہوں نے دیکھا کہ غار کے منہ پر مکڑی کا جالا ہے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا کہ اگر وہ یہاں داخل ہوتے تو اس کے منہ پر مکڑی کا جالا باقی نہ رہتا۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ انہوں نے جو غار دیکھا وہ غار ثور ہی تھا تب بھی مذکورہ روایت کے مطابق بات صرف اتنی ہے کہ انہوں نے اس کے منہ پر مکڑی کا جالا دیکھا۔ روایت میں یہ باتیں بالکل موجود نہیں ہیں کہ خدا نے حکم دیا توایک مکڑی آئی اور اس نے جالا تن دیا۔ پھر خدا نے فاختہ کو حکم دیا تو فاختہ آئی اور اس نے وہاں انڈے دے دیے۔ اس قسم کی تمام باتیں لوگوں نے اپنے تخیل سے اصل واقعہ پر اضافہ کر لیں۔
اس قسم کے اضافوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کی نگاہ عجائبات اور طلسمات کی طرف چلی جاتی ہے اور حکمت اور نصیحت کا پہلو نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔