← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
اہل یثرب کا اسلام
Urdu · 11 min
قدیم یثرب (مدینہ) میں دو عرب قبیلے اوس اور خزرج آباد تھے۔ اسی کے ساتھ وہاں چند یہودی قبیلے بھی تھے۔ یہود نے اوس و خزرج کو باہم لڑارکھا تھا تاکہ وہ یہود کے مقابلہ میںکمزور رہیں اور ان کی مضبوط جمعیت بننے نہ پائے اور اس طرح یہود کی با لا تر ی ان کے اوپر قائم رہے۔ ہجرت نبوی سےپانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ قبیلہ خزرج یہودیوں کے ابھارنے سے اوس کے خلاف آمادۂ جنگ ہو گیا۔ قبیلۂ اوس کے ایک سردار ابوالحيسر انس بن رافع چند آدمیوں کو لےکر مکہ آئے تاکہ اپنے حریف کے مقابلہ میں قریش کی مد د حاصل کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آمد کا علم ہو ا تو آپ ان کے پاس گئے اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔
ان کے وفد کے ایک نوجوان ایاس بن معاذ اس سے متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ خدا کی قسم اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم آئے ہو (هَذَا وَاللهِ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ لَهُ)مگر ان کے ساتھیوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی۔ ابو الحیسر انس بن رافع اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر ایاس بن معاذ کے چہرہ پر پھینکی اور کہا ان باتوں کو رہنے دو،میری زندگی کی قسم ہم تو اس کے علاوہ کسی او ر کام کے لیے آئے ہیں (دَعْنَا مِنْك فَلَعَمْرِي لَقَدْ جِئْنَا لِغَيْرِ هَذَا) سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ427-28۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اوس کا وفد اسلام قبول کیے بغیر یثرب واپس چلاگیا۔ اس کے بعد اوس اور خزرج کے درمیان وہ جنگ ہوئی جو جنگ بُعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت دونوں قبیلوں کے درمیان دشمنی اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہر قبیلہ چاہتاتھا کہ دوسرے قبیلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے۔ اس جنگ میں پہلے خزرج نے اوس کو شکست دی۔ اس کے بعد اوس نے اپنے سردار ابو اسید بن حضير کی قیادت میں خزرج کو شکست دی۔ دونوں نے باری باری ایک دوسرے کو زبردست نقصانات پہنچائے۔ حتٰی کہ ایک نے دوسرے کے باغات اور مکانات جلا ڈالے۔ دونوں عرب قبیلے خود ہی اپنے ہاتھوں کمزور ہو کر رہ گئے۔
اس جنگ کافائدہ براہ راست یہود کو پہنچا۔ انہوں نے یثرب میں برتری کا مقام حاصل کرلیا۔ جب جذبات ٹھنڈے ہوئے تو دونوں قبائل کے سنجیدہ لوگوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اپنے کو خود اپنے ہاتھوں ہلاک کر کے دشمن کو موقع دے دیا کہ وہ ان کے اوپر غلبہ حاصل کر لے۔ دونوں قبیلوں کے باشعور لوگوں نے طے کیا کہ وہ اپنے اختلافات کو بھول جائیں اور مشتر کہ طور پر اپنا ایک بادشاہ مقرر کر لیں جو ان کے معاملات کا نظم کرے۔ اس کے لیے عبد اللہ بن ابی خزرجی کا انتخاب ہوا جو ایک صاحب شخصیت آدمی تھا اور اپنے اندر قائدانہ اوصاف رکھتاتھا۔ عین اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں نے کعبہ کی زیارت کے ارادہ سے مکہ کا سفر کیا۔ یہاں ان کی ملاقات رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے ہوئی۔ آپ نے ان کو بتایا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ تم لوگ میری دعوت کو قبول کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے وقت ان کو یاد آیا کہ یہو د بہت دنوں سے ان سے کہا کرتے تھے کہ ایک غلبہ والا نبی ظاہر ہونے والا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ہو کر تم کو شکست دیں گے اور تمہارے اوپر غلبہ قائم کریں گے۔ یثرب والوں نے ایک دوسرے سےکہااے لو گو، خدا کی قسم یہ تو وہی نبی ہیں جن کی خبر تم کو یہود دیتے تھے۔ دیکھو، وہ تم سے پہلے اس کی طرف سبقت نہ کرنے پائیں ( يَا قَوْمِ، تَعْلَمُوا وَاللهِ إنَّهُ لَلنَّبِيُّ الَّذِي تَوَعَّدَكُمْ بِهِ يَهُودُ، فَلَا تَسْبِقُنَّكُمْ إلَيْهِ)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
چنانچہ انہوں نے آپ کی دعوت قبول کر لی۔ انہوں نے مزید کہا ہم اپنی قوم کو چھوڑ کر آئے ہیں۔ ان میں جتنا شروعداوت ہے اتنا کسی اور قوم میں نہیں۔ شاید اللہ آپ کے ذریعہ ان کو متحد کر دے۔ ہم واپس جاکر اس دین کو ان کے سامنے پیش کریں گے جس کو ہم نے قبول کر لیاہے۔ اگر اللہ نے ان کو اس دین پر جمع کر دیا تو آپ سے زیادہ اس ملک میں کوئی طاقت ورنہ ہوگا (فَأَجَابُوهُ فِيمَا دَعَاهُمْ إلَيْهِ، بِأَنْ صَدَّقُوهُ وَقَبِلُوا مِنْهُ مَا عَرَضَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْإِسْلَامِ، وَقَالُواإنَّا قَدْ تَرَكْنَا قَوْمَنَا، وَلَا قَوْمَ بَيْنَهُمْ مِنْ الْعَدَاوَةِ وَالشَّرِّ مَا بَيْنَهُمْ، فَعَسَى أَنْ يَجْمَعَهُمْ اللهُ بِك، فَسَنَقْدَمُ عَلَيْهِمْ، فَنَدْعُوهُمْ إلَى أَمْرِك، وَتَعْرِضُ عَلَيْهِمْ الَّذِي أَجَبْنَاك إلَيْهِ مِنْ هَذَا الدِّينِ، فَإِنْ يَجْمَعْهُمْ اللهُ عَلَيْهِ فَلَا رَجُلَ أَعَزُّ مِنْك) سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 429۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد یثرب کے لوگ جوق در جوق اسلام لائے۔ وہ اسلام کے انصار (مددگار) بن گئے۔ ان کی قربانی اور تعاون سے اسلام کو عرب میں غلبہ حاصل ہوا۔
یثرب کے لوگوں نے ہجرت سے پانچ سال پہلے آپ کی دعوت کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔ مگر پانچ سال بعد یہی لوگ آپ کے مومن بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلی ملاقات کے وقت ان کے ذہن میں جنگ کے خیالات بھر ے ہوئے تھے۔ وہ سارے معاملہ کو اس نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے کہ ان کا ایک دشمن ہے اور اس دشمن کو انہیں شکست دیناہے۔ ان کی نفسیات پر جنگ کے مسائل چھائے ہوئے تھے۔ اس ذہنی پس منظر میں خدا اور آخرت کی باتیں انہیں غیر متعلق بلکہ تباہ کن معلوم ہوتی تھیں۔ ان کو ایسا نظر آتا تھا گویا ان کو اصل محاذ سے ہٹایا جارہا ہے۔
مگر جب جنگ بعاث میں ساری طاقت خرچ کرنے کے بعد ان کے حصہ میں صرف تباہی آئی۔حتٰی کہ یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ یہود ان کو لڑا لڑا کر ان کی عرب نسل کا خاتمہ کردیں گے تو ان کا ذہن بد لنا شروع ہو گیا۔ اب وہ معاملہ کو جنگ سے وسیع تر دائرہ میں رکھ کر دیکھنے لگے۔ اب وہ جنگ کےبجائے امن،اختلاف کے بجائے اتحاد کی اصطلاحوں میں سوچنے لگے۔ ان کو نظر آیا کہ اصل مسئلہ اوس و خزرج کا نہیں بلکہ اوس و خزرج کے مقابلہ میں یہود کا ہے۔ اس کا حل انہیں یہ نظر آیا کہ ان کا ایک عقیدہ ہو جو قبائلی تفریق کو ختم کر ے اور ان کےلیے نظر یاتی اتحاد کی بنیاد فراہم کرے اور اسی کے ساتھ ایک شخصیت ہو جو ان کو باہم جوڑے اور ان کا مشترکہ قائدبن سکے۔ یہ دونوں چیزیں (نظر یہ اور شخصیت ) انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں مل گئیں اور انہوں نے لپک کر اس کو قبول کر لیا۔
اسی لیے حضرت عائشہ نے فرمایا بعاث کی جنگ ایک ایسی جنگ تھی جس کو اللہ نے اپنے رسول کی تائید کے لیے فراہم کیا تھا (كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ، يَوْمًا قَدَّمَهُ اللهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3777۔
other sourceWords of another person or source