Maulana Wahiduddin Khan
19 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

قبیلہ سے اخراج

Urdu · 19 min

عرب کی صحرائی زندگی میں کسی شخص کا قبیلہ سے خارج کر دیا جانا ایسا ہی تھا جیسےکسی کو سمندر میں دھکیل دیا جائے۔ کیوں کہ قبائلی نظام میں، جب کہ کوئی ذمہ دار ملکی حکومت نہیں ہوتی تھی، کوئی شخص کسی قبیلہ کی حمایت ہی میں زندگی گزار سکتا تھا۔ منٰی کی قیام گاہوں میں ایک بار آپ نے ایک قبیلہ کے سامنے اپنی دعوت پیش کی۔ قبیلہ نے ماننے سے انکار کیا۔تاہم ان میں سے ایک شخص میسرہ بن مسروق عبسی کی باتوں سے اندازہ ہو ا کہ انہوں نے آپ کی دعوت کا اثر قبول کیاہے

وَطَمِعَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فِي مَيْسَرَةَ، فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ مَيْسَرَةُمَا أَحْسَنَ كَلَامَك وَأَنْوَرَهُ، وَلَكِنَّ قَوْمِي يُخَالِفُونَنِي، وَإِنَّمَا الرَّجُلُ بِقَوْمِهِ (البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ170)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میسرہ سے امید ہوئی۔ آپ نے ان سے بات کی، میسرہ نےجواب دیا، آپ کی بات کتنی اچھی اور نورانیت سے بھری ہوئی ہے۔ مگر میری قوم مخالف ہے اور آدمی اپنی قوم ہی کے ساتھ رہ سکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان حالات میں قبیلہ سے اخراج آپ کے لیے انتہائی سنگین واقعہ تھا۔ اب اپنے وطن میں آپ کے لیے کوئی سایہ نہ تھا۔ آپ کے لیے واحد صورت یہ تھی کہ اپنے لیے کوئی دوسرا حمایتی قبیلہ تلاش کریں ۔ مکہ سے نکل کر طائف جانا اس سلسلے میں آپ کی پہلی کوشش تھی۔ حضرت عائشہ سے اس سفر کی رو داد بیا ن کرتے ہوئے ایک بار آپ نے کہا إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلاَلٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231)۔یعنی، جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل کے سامنے پیش کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں 

وَمَاتَ أَبُو طَالِبٍ وَازْدَادَ مِنَ الْبَلَاءِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةٌ فَعَمَدَ إِلَى ثَقِيفٍ يَرْجُو أَنْ يُؤْوُوهُ وَيَنْصُرُوهُ (دلائل النبوۃ لابی نعیم، حدیث نمبر 221)۔ یعنی، ابو طالب کی وفات کے بعد آپ کو بہت زیادہ تکلیفیں پہنچائی جانے لگیں۔ اس وقت آپ نے قبیلہ ثقیف (طائف) کارخ کیا۔ اس امید میں کہ وہ آپ کوپناہ دیں گے اور آپ کی مدد کریں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا، اس کی ایک جھلک اس دعا میں نظر آتی ہے جو طائف سے واپسی کے وقت آپ کے لہو لہان چہرہ سے نکلی تھی

اللَّهمّ إلَيْك أَشْكُو ضَعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ420)۔يعني، خدا یا میں تجھی سے شکایت کرتاہوں اپنی قوت کی کمی کی اور اپنے وسائل کی قلت کی اور لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے کی۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

طائف سے لوٹتے ہوئے آپ نے اهلِ طائف سے کہا

تم نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کی خبر مکہ تک نہ پہنچے ورنہ انہیں مزید جسارت ہو جائے گی إذَا فَعَلْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ فَاكْتُمُوا عَنِّي، وَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْلُغَ قَوْمَهُ عَنْهُ، فَيُذْئِرَهُمْ ذَلِك عَلَيْهِ (سیرت ابن ہشام،جلد1، صفحہ419) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

طائف سے واپس ہوکر دوبارہ آپ مکہ کے باہر مقیم ہوئے اور شہر کے مختلف لوگوں کے پاس پیغام بھیجا کہ کوئی آپ کو اپنی شخصی حمایت میں لے لے تو مکہ میں آکر رہ سکیں ۔ بالآخر مطعم بن عدی نے آپ کی حمایت قبول کی اور اس کے لڑکوں کی تلوار کے سایہ میں آپ دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے۔

اب آپ نے یہ منصوبہ بنایا کہ مختلف میلوں اور بازاروں میں اطراف کے جو قبائل مکہ آتے ہیں ، ان میں جائیں اور ان کو آمادہ کریں کہ وہ آپ کو اپنی حمایت میں لے لیں۔ آپ نے اپنے چچا عباس سے کہا

لَا أَرَى لِي عِنْدَك وَلَا عِنْدَ أَخِيك مَنَعَةً، فَهَلْ أَنْتَ مخرجى إِلَى السُّوق غَدا حَتَّى نقر فِي مَنَازِلَ قَبَائِلِ النَّاسِ(البدایہ والنہایہ، جلد 2، صفحہ159)۔ يعني، تمہارے اور تمہارے اقربا کے یہاں میرے لیے حفاظت نہیں ۔ کیا آپ کل مجھے بازار لے چلیں گے تاکہ ہم لوگوں کی قیام گاہوں پر چل کر ٹھہریں اور ان سے بات کریں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ ایک ایک قبیلہ کی قیام گاہ پر جاتے اور اس سے پوچھتے کہ تم لوگوںکے یہاں حفاظت کا کیا انتظام ہے (كَيفَ المنعة فِيكُم) { FR 22 }۔ ان کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرتے (يعرض عليهم نفسه){ FR 23 }۔ان سےکہتے کہ میرے قبیلہ نے مجھ کو نکال دیاہے (كَذَّبَنِي وَطَرَدَنِي){ FR 24 }۔تم مجھ کو اپنی حفاظت میں لے لوتاکہ میں تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دے سکوں (يَمْنَعُونِي وَيُؤْوُونِي حَتَّى أُبَلِّغَ عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا أَرْسَلَنِي بِهِ ){ FR 25 }۔مورخین نے اس سلسلے میں پندرہ قبیلوں کے نام لکھے ہیں جن سے آپ فرد اً فرداً ملے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر قبائل کو معلوم تھا کہ قریش کے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینا کس قدر خطرناک ہے۔ چنانچہ ہر ایک نے آپ کو اپنی پناہ میں لینے سے انکار کردیا۔ ایک قبیلہ کےکچھ لوگوں میں آپ کی بابت نرمی پید اہوئی تو اس کے ایک بزرگ نے کہا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

أَخْرَجَتْهُ عَشِيرَتُهُ وَتُؤْوُونَهُ أَنْتُمْ؟ تَحَمَّلُونَ حَرْبَ الْعَرَبِ قَاطِبَةً(ابو نعیم فی دلائل النبوۃ، حدیث نمبر 222)۔يعني، اس کے قبیلہ نے اس کو نکال دیاہے اور تم اس کی پشت پناہی کرنا چاہتے ہو کیا تم تمام عرب سے لڑائی مول لینا چاہتے ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وہ جانتے تھے کہ کسی قبیلہ سے نکالے ہوئے شخص کو حفاظت میں لینا اس قبیلہ سے اعلان جنگ کےہم معنى ہے اور جب کہ یہ قبیلہ قریش ہو جس کو پورے ملک پر سیادت حاصل ہو تو مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔ عرب روایات میں یہ بات انتہائی معیوب تھی کہ کوئی شخص کسی سے پناہ طلب کرے اور وہ اس کو پناہ نہ دے۔ عرب تاریخ میںیہ پہلا نمایاں واقعہ تھا کہ آپ کئی سال تک مختلف قبائل کے درمیان پھرتے رہے، مگر کوئی آپ کو پناہ دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ نہ طائف کے لوگ نہ دیگر عر ب قبائل۔ اس کی وجہ آپ کے معاملہ کی مخصوص نوعیت تھی۔ آپ کو ’’طرد‘‘ کرنے والے قریش تھے جو سارے عرب کے قائد تھے۔ قریش کے نکالے ہوئے ایک شخص کوپناہ دینے کا مطلب سارے عرب سے جنگ مول لینے کے ہم معنی تھا۔ یہی پس منظر تھا جس کی بنا پر انصارسے بیعت کے وقت ابو لہیثم بن التيہان نے اپنے ساتھیوں سے کہا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِنْ تُخْرِجُوهُ بَرَتْكُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 566)۔يعني،جان لو، اگر تم ان کو اپنے یہاں لے گئے تو سارے عرب مل کر تم کو ایک تیرسے نشانہ بنالیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے علاوہ ایک اوروجہ بھی تھی وہ قبائل جو سرحدی علاقوں میں آباد تھے، ان کے پڑوس کی غیر عرب حکومتوں سے معاہدات تھے، وہ ڈرتے تھے کہ آپ جیسی ایک متنازعہ شخصیت کو اپنے ساتھ لے جائیں تو ان حکومتوں سے کوئی جھگڑا نہ شروع ہو جائے۔ البدایہ و النہایہ میں ہے کہ آپ منٰی کے میلہ میں گئے وہاںبنو شیبان بن ثعلبہ کے سرداروں سے آپ کی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے آپ کے پیغام کی تحسین کی۔ مگر آخر میں ہانی بن قبیصہ نے کہا کہ ہم کسریٰ (شاہ فارس) کی مملکت کی سرحد پر بسے ہوئے ہیں اور شاہان فارس سے ہمارے معاہدے ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وَلَعَلَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي تَدْعُونَا إِلَيْهِ مِمَّا تَكْرَهُهُ الْمُلُوك(البدایہ والنہایہ، جلد3، صفحہ 144)۔ يعني، اور جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں شاید وہ بادشاہوں کی ناراضگی کا باعث ہو۔

other sourceWords of another person or source

اس زمانہ میںآپ پر جو بے بسی کا عالم تھا اس کا اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے جو اس سلسلہ میں روایات میں آئے ہیں ۔ ایک بار آپ ایک قبیلہ میں گئے جس کو بنو عبد اللہ کہا جاتا تھا

فَدَعَاهُمْ إلَى اللهِ وَعَرَضَ عَلَيْهِمْ نَفْسَهُ، حَتَّى إنَّهُ لَيَقُولُ لَهُمْيَا بَنِي عَبْدِ اللهِ، إنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ اسْمَ أَبِيكُمْ، فَلَمْ يَقْبَلُوا مِنْهُ مَا عَرَضَ عَلَيْهِمْ (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ424)۔یعنی، ان کو آپ نے خدا کی طرف بلایا اور اپنے آپ کو ان کے سامنے پیش کیا کہ وہ آپ کو اپنی حمایت میں لے لیں ۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایااے بنو عبد اللہ ! اللہ نے تمہارا نام کتنا اچھا رکھا ہے، پھر بھی انہوں نے وہ چیز قبول نہ کی جو آپ نے ان کے سامنے پیش کی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح مکّی زندگی کے آخری تقریباً تین سال مختلف قبائل کے درمیان اپنا حمایتی تلاش کرنے میں گزر گئے۔ مگر ہر قسم کی جدو جہد کے باوجود کوئی قبیلہ بھی آپ کی حمایت کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ بعض قبائل کہہ اٹھے، کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ آپ ہم سے مایوس ہو جائیں (مَا آنَ لَك أَنْ تَيْأَسَ مِنَّا)۔بالآخر اللہ تعالیٰ نے یثرب (مدینہ) کے قبائل اوس اور خزرج کو اس کی توفیق عطا فرمائی (دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی، حدیث نمبر 224)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوس اور خزرج کی اس آمادگی کا ایک خاص نفسیاتی پس منظر بھی تھا۔ یہ قبائل یہود کے پڑوس میں بسے ہوئےتھے۔ خیبر کےیہودی اس علاقہ کی بہترین زمینوں پر قابض تھے، تجارتیں بھی انہیں کے قبضہ میں تھیں۔ چنانچہ یثرب کے عربوں (اوس و خزرج) کی معاشیات کا بڑا ذریعہ خیبر کے یہودیوں کے یہاں مزدوری کرنا تھا۔ ہجرت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اپنے ہاتھوں سے مسجد نبوی کی تعمیر کر رہے تھے تو آپ کی زبان پر یہ شعرتھا

هَذَا الحِمَالُ لاَ حِمَالَ خَيْبَرْ

هَــذَا أَبَـرُّ رَبَّنَـا وَأَطْهَـر

یعنی،یہ مزدوری ہے مگر خیبر کی مزدوری کی طرح نہیں۔ ہمارے رب کی قسم یہ اس سے بہت بہتر اور بھلی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3906)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہودیوں کے اقتصادی غلبہ اور استحصال کی وجہ سے ان میں اور اوس و خزرج میں اکثر لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں ۔ چنانچہ ان سے یہودی کہا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں کے مطابق جلد ہی عرب میں ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے۔ وہ جب آئے گا تو ہم اس کے ساتھ ہو کر تم سے لڑیں گے اور تم کو ہمیشہ کے لیے فنا کر دیں گے۔ یہو دیوں کے اسی قول کی طرف قرآن کے ان الفاظ میں اشارہ ہے وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا (2:89)۔ یعنی، اور وہ پہلے سے منکروں پر فتح مانگا کرتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوس وخزرج کے لوگوں نے آپ کی دعوت سنی تو انہوں نے کہا ’’بخدايہی وہ نبی ہے جس کے بارے میں یہود ہم سے کہا کرتے تھے۔ قبل اس کےکہ یہود سبقت کریں ہمیں آپ پر ایمان لاکر آپ کے گروہ میں شامل ہو جانا چاہیے۔ ‘‘ اس مخصوص پس منظر کے علاوہ دوسرے تاریخی اور سماجی اسباب بھی تھے جس کی وجہ سے اوس و خزرج کے لیے آپ کی بات کو سمجھنا اور اس کو مان لینا دیگر عرب قبائل کے مقابلہ میں آسان ہو گیا اور انہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب وہ وقت آگیا تھا جس کے آپ برسوں سےمنتظر تھے۔ آپ کو ایک ایسی جگہ مل گئی تھی جہاں قبائلی حمایت کےتحت اپنی جدو جہد کومؤثر شکل میں جاری رکھ سکیں اور مکہ اور اطراف مکہ کے مسلمانوں کو ایک مقام پر جمع کر کے اس کو اسلامی مرکز بنا دیں۔ اہل یثرب کا بڑی تعداد میں اسلام لانا اس بات کا امکان پیدا کررها تھا کہ اسلام کی متفرق طاقتوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کر دیا جائے اور پھر دعوت حق کی جدو جہد کو زیادہ مؤثر شکل میں جاری رکھا جاسکے۔ چنانچہ اوس و خزرج نے بیعت کر لی تو تاریخ میں آتا ہے کہ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قَالَ فَلَمْ يَلْبَثْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إلى أصحابه فقال لهماحمدوا لله كَثِيرًا فَقَدْ ظَفِرَتِ الْيَوْمَ أَبْنَاءُ رَبِيعَةَ بِأَهْلِ فَارِسَ (البدایہ والنهایہ، جلد 3، صفحہ 145)۔ یعنی، آپ فوراً اپنے اصحاب کی طرف لوٹے اور ان سے کہا۔ خدا کا شکر کرو، اللہ نے آج کے دن ربیعہ کی اولاد کو اہل فارس پر غلبہ دے دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ نے ہجرت کی تیاری شروع کردی۔ آپ کے انتہائی اخفا کے باوجود قریش کو بھی خبریں مل رہی تھیں۔ حضرت عروہ نے بیان کیاہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ثُمَّ إِنَّ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَمَكْرَهُمْ حِينَ ظَنُّوا أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَارِجٌ، وَعَلِمُوا أَنَّ اللهَ قَدْ جَعَلَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ مَأْوًى وَمِنْعَةً، وَبَلَغَهُمْ إِسْلَامُ الْأَنْصَارِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَأَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ عَلَى أَنْ يَأْخُذُوا رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَقْتُلُوهُ، وَإِمَّا أَنْ يَسْجِنُوهُ، أَوْ يَسْحَبُوهُ - شَکّ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ - وَإِمَّا أَنْ يُخْرِجُوهُ، وَإِمَّا أَنْ يُوثِقُوهُ(مجمع الزوائد و منبع الفوائد، حدیث نمبر 9902)۔ یعنی،مشرکین قریش نےجب یہ گمان کر لیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے اور انہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے آپ کے لیے مدینہ میں ٹھکانا اور حفاظت کا انتظام کردیا ہے اورانہوں نے سنا کہ انصار نے اسلام قبول کر لیا ہے اور مہاجرین مدینہ میں جمع ہورہے ہیں تو انہوں نے آپ کے خلاف سازش کی اور طے کیا کہ آپ کو گرفتار کرلیں اور اس کے بعد یا تو قتل کر دیں یا قید میں ڈال دیں یا شہر بدر کردیں یا باندھ کر رکھیں ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اوس و خزرج کے ایمان کے بعد آپ نے چھ مہینے کے دوران سفر کا انتہائی کا مل منصوبہ بنایا، اور اس کےبعد نہایت خاموشی سے مکہ سے نکل گئے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content