Maulana Wahiduddin Khan
29 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

ایک سوال اور اس کا جواب

Urdu · 29 min

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی جس کا نام فاطمہ تھا۔ اس کے قبیلہ والوں کوڈر ہو ا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اسامہ بن زید رسول اللہ کے بہت قریبی لوگوں میں تھے۔ چنانچہ لوگوں نے اسامہ سے کہا کہ تم رسول اللہ سے سفارش کر و کہ ہماری عورت کو چھوڑ دیا جائے۔ حضرت اسامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فاطمہ مخزومی کی معافی کی درخواست کی۔یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے لیے مجھ سے سفارش کر رہے ہو (أَتُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ)اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور تقریر کرتے ہوئے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میری لڑکی فاطمہ چوری کرتی تو یقیناً میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا)چنانچہ اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد وہ تائب ہو کر ایک صالح خاتون بن گئی (صحيح البخاري، حديث نمبر 4304) ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ کی ایک حد کو معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ پھر کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد لوگوں کو اتنی فراخ دلی کے ساتھ معاف کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالت میں کیے جانے والے جرم اور جنگی حالت میں کیے جانے والے جرم میں فرق ہے۔ عام حالات میں کوئی شخص جرم کرے تو اس کا جرم معاف نہیں کیا جاسکتا۔ مگر جنگ و مقابلہ کے دوران دشمن گروہ کے افراد جو جرائم کرتے ہیں وہ اس وقت معاف کر دیے جاتے ہیں، جب کہ مذکورہ فرد اطاعت قبول کر کے معافی کا طالب ہو۔ غیر جنگی حالات میں کیا ہوا جرم ’’حد‘‘ پر ختم ہو تا ہے اور جنگی حالات میں کیا ہو اجرم اطاعت اور درخواست معافی پر۔ عرب میں اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کے خلاف بد ترین قسم کے جرائم کیے تھے۔مگر اعلان کیا گیا کہ یہ کفر کرنےو الے لوگ اگر باز آجائیں تو اب تک جو کچھ ہو چکا ہے وہ معاف کر دیا جائے گا (الانفال، 8:38) ۔حکم ہوا کہ دشمن اگرصلح کی درخواست کرے تو قبول کر لو، حتٰی کہ اس وقت بھی جب کہ صلح کے بعد اس کی طرف سے خیانت کا اندیشہ ہو

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ (8:61-62)۔ يعني، اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے،وہی ہے جس نے اپنی نصرت سے اور مومنین کے ذریعہ تم کو قوت دی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جن مباح الدم افراد کو اس موقع پر معافی دی گئی ان میں سے ایک عکرمہ بن ابی جہل تھے۔ وہ اپنے والد کےساتھ اسلام دشمنی میں بے حد سرگرم رہ چکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح کی تکلیفیں پہنچائی تھیں مگر جب معلوم ہو اکہ وہ آپ کے پاس مطیع ہو کر آر ہے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب سے کہا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

يَأْتِيَكُمْ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا، فَلَا تَسُبُّوا أَبَاهُ، فَإِنَّ سَبَّ الْمَيِّتِ يُؤْذِي الْحَيَّ(مستدرك الحاكم، حديث نمبر 5055)۔یعنی، عکرمہ بن ابی جہل مومن ہو کر تمہارے پاس آرہے ہیں تو ان کے باپ کو تم لوگ برانہ کہنا۔ مردہ کو برا کہنے سے زندہ کو تکلیف ہوتی ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی وہ فراخ دلی اور وسعت ظرفی تھی کہ عرب میں اچانک یہ منظر نظر آیا کہ فتح مکہ سے پہلے جو لوگ اسلام کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے وہ فتح کے بعد اسلام کے زبردست حامی اور پاسبان بن گئے۔

حصّہ سوم

ختم نبوت

بعثت کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ کسی عرب قبیلہ کا ایک شخص کعبہ کی زیارت کے لیےمکہ آیا۔ وہ جب واپس گیا تو اس کے قبیلہ والوں نے پوچھا، مکہ کی کوئی خبر بتاؤ۔ اس نے جواب دیا

تنبّأ محمد بن عبد الله وتبعه ابن أبي قحافة(محمدبن عبدالله نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور ابو قحافہ کا لڑکا ان کا ساتھ دے رہا ہے ( البدء والتاريخ، جلد 5، صفحه 82۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 610ء میں جب آپ نے نبوت کا اعلان فرمایا، اس وقت لوگوں کے ذہن میں آپ کی تصویر کیاتھی۔ آپ کے مخالفین اس زمانہ میں آپ کو ابن ابی کبشہ کہتے تھے، جس کا مطلب ہوتاتھا فلاںدیہاتی کا لڑکا۔ کوئی زیادہ شریف زبان بولنا چاہتا تو کہتا فتی من قریش، یعنی قبیلہ قریش کا ایک جوان۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال اپنے زمانہ میں تھا۔ مگر صدیاں گزرنے کے بعد اب صورت حال بالکل مختلف ہے۔ کیوں کہ اب آپ کی نبوت کوئی نزاعی مسئلہ نہیں۔ اب وہ ایک تسلیم شدہ واقعہ (Established Facts)کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ آج جب ایک شخص کہتا ہے ’’محمد رسول اللہ ‘‘تو اس کے ذہن میں ایک ایسے پیغمبر کا تصور ہوتا ہے جس کے گرد ایک عظیم الشان تاریخ بن چکی ہے، جس کی پشت پر ڈیڑھ ہزار برس کی تصدیقی عظمتیں قائم ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ یہ تاریخ مکمل طور پر آپ سے الگ کر دی جائے اور نبی عربی دو بارہ ’’ابن ابی کبشہ ‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوں تو اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ آپ پر ایمان لانے والوں کی تعداد جو آج کروروں میں گنی جاتی ہے، صرف درجنوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ’’ابن ابی کبشہ ‘‘ کے حلیہ میں رسول خدا کو پہچان لینا انتہائی مشکل کام ہے۔ جب کہ یہی کام اس وقت انتہائی آسان ہو جاتا ہے جب رسول ایک مسلّمہ تاریخی حیثیت یا قرآن کے لفظوں میں مقام محمود (الاسراء،17:79)کا درجہ حاصل کر چکا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پچھلے ادوار میں نبیوںکے ہم زمانہ لوگوں کے لیے نبی کا انکار کرنے کی سب سے بڑی نفسیاتی وجہ یہی تھی۔ ’’یہ تو وہی معمولی شخص ہے جس کو اب تک ہم فلاں بن فلاں کے نام سے جانتے تھے، وہ اچانک خدا کا پیغمبر کیسے ہوگیا۔ ‘‘ جب بھی کوئی نبی اٹھتا، یہ خیال ایک قسم کا شک اور تر د دبن کر ان کے اوپر چھا جاتا، اور نبي کی پیغمبر انہ حیثیت کو پہچاننے کے معاملہ کو اس کے معاصرین کے لیے مشکل بنادیتا۔

یہ صورت حال، خاتم النبیین کے ظہور سے پہلے، انسانیت کو مسلسل ایک کڑی آزمائش میں مبتلا کیے ہوئے تھی۔ ہر بار ان کے اندر سے ایک نیا شخص خدا کے رسول کی حیثیت سے اٹھتا۔ مخاطب قوم کی اکثریت، مذکورہ نفسیاتی رکاوٹ کی وجہ سے، اپنے ہم عصر نبی کے بارے میں شک اور تردد میں پڑکر انکار کر دیتی اور با لآخر سنت اللہ کے مطابق ہلاک کر دی جاتی۔ اب اللہ تعالےٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک ایسا نبی بھیجے جو ساری دنیا کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دے۔ اس کی ذات پچھلے پیغمبروں کی طرح لوگوں کواس آزمائش میں نہ ڈالے کہ ’’معلوم نہیں یہ واقعی پیغمبر ہے یا شخصی حوصلہ مندی نے اس کو اس قسم کے دعوے پر آمادہ کر دیا ہے۔ ‘‘ اس کی نبوت ہر دور کے لوگوں کے لیے ایک مسلّمہ واقعہ کی حیثیت رکھتی ہو۔ لوگ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کی’’ محمودیت ‘‘ کی وجہ سے اس کو پہچان لیں اور اس پر ایمان لاکر خدا کی رحمتوں میںحصہ دار بنیں۔

متعدد روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبي صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے افراد تمام دوسرے انبیاء کی امتوں سے زیادہ ہوں گے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4981)۔ اس کا تعلق بھی اسی مسئلہ سے ہے۔ آپ کے بعد چونکہ کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اس لیے آپ کی امت میں آپ کے بعد دوبارہ کفر و اسلام کا مسئلہ کھڑا ہونے والا نہیں ہے۔ آپ کی امت بد ستور بڑھتی رہے گی ،یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملہ کو بنی اسرائیل کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ حضرت مسیح کے زمانہ میں جو یہود تھے۔ وہ سب خدا کی شریعت پر ایمان رکھتے تھے ، وہ حضرت موسیٰ کے امتی تھے۔ مگر ابن مریم کی صورت میں جب ان کے اندر ایک نیا نبی اٹھا تو اس کو ماننا یہود کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ حضرت موسیٰ کو وہ اب بھی مانتے تھے۔ مگر اپنے ہم عصر نبی کا انکار کر رہے تھے۔ اس کی وجہ سے، ایک درجن مومنینِ مسیح کو چھوڑ کر، سارے کے سارے یہودی کا فر قرار پاگئے۔ حضرت مسیح کے چھ سو برس بعد جب نبی عربی کی بعثت ہوئی تو مسلمانوں کی اس نئی جماعت (عیسائیوں) کی تعداد بہت بڑھ چکی تھی۔ مگردوبارہ وہی ہو اکہ نئے ’’اسماعیلی نبی ‘‘ کو ماننے کے لیے وہ اپنے کو آمادہ نہ کر سکے۔ وہ تاریخی نبی (حضرت مسیح) پر بد ستور ایمان رکھتے تھے۔ مگر اپنے ہم عصر نبی (حضرت محمد ) کے منکر تھے۔ اس کی وجہ سے دوبارہ ایسا ہوا کہ نبوت محمدی پر ایمان لانے والے چند عیسائیوں کو چھوڑ کر پوری عیسائی قوم کوکافر قرار دے دیا گیا۔

ختم نبوت کی وجہ سے امت محمدی ،کم از کم موجودہ دنیا میں،اس قسم کی آزمائش سے دوبارہ دوچار ہونے والی نہیں۔ اس لیے آپ کے امتیوں کی تعداد بھی دوسرے انبیاء کے پیروؤں سے زیادہ رہے گی۔ یہ بھی ایک پہلو ہے آپ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا جو اس لیے حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقام محمود پر کھڑاکیا۔ مقام محمود دنیوی اعتبار سےیہ ہے کہ آپ کی نبوت کو ساری دنیا کے لیے ایک تاریخی مسلّمہ بنا دیا گیا۔ یہی تعریفی حیثیت قیامت کے دن خصوصی خداوندی اعزاز کی صورت میں ظاہر ہوگی جو اولین و آخرین میں آپ کے سوا کسی کو حاصل نہ ہو گی۔

مگر کسی نبی کو مقام محمود پر کھڑا کرنا سادہ طور پر محض نا مزدگی کا معاملہ نہ تھا۔ یہ ایک نئی تاریخ کو ظہور میں لانے کا معاملہ تھا۔ اس کے لیے ایک طرف ایسی معیاری شخصیت درکار تھی جیسی کوئی دوسری شخصیت بنی آدم میں پیدا نہ ہوئی ہو دوسری طرف ایسی قربانی اور حوالگی درکار تھی جیسی قربانی و حوالگی کا ثبوت کسی دوسرے انسان نے نہ دیا ہو۔ یہی وہ نازک لمحہ تھاجب کہ خدا نے اپنے ایک بندے کو پکار کر کہا يٰٓاَيُّہَا الْمُدَّثِّرُ، قُـمْ فَاَنْذِرْوَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (74:1-3)۔یعنی، اے کپڑے میں لپٹنے والے۔ اٹھ اور لوگوں کو آگاہ کر۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اور کمبل میں لپٹی ہوئی اس عظیم روح نے لبیک کہہ کر اپنے آپ کو ہمہ تن خدائی منصوبہ کے حوالے کر دیا۔ اس کےبعد طویل عمل کے نتیجہ میں با لآخر وہ نبوت ظہور میں آئی جو سارے عالم کے لیے رحمت بن گئی۔ جس نےانسانی تاریخ میں باربار نئے نبیوں کی آمد کے آزمائشی دور کو ختم کیا اور ایک مسلّمہ نبوت کے دور کا آغاز کر کے لوگوں کے لیے خدا کی رحمتوں میں فوج در فوج داخل ہونے کا دروازہ کھول دیا۔

نبوت کو تاریخی مسلّمہ بنا نے کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ آئندہ کے لیے نبیوں کی آمد کا سلسلہ بند ہو جائے۔ مگر یہ بھی محض اعلان کا معاملہ نہ تھا۔ ختم نبوت سے پہلے ضروری تھا کہ چند شرائط لازمی طورپر پوری ہو چکی ہوں

1۔ زندگی کے تمام معاملات کے لیے احکام خدا وندی کا نزول (وَھُوالَّذِیْ اَنْزَلَ اِلَیْکُمْ الْکِتابَ مُفَصَّلَا)6:114۔

Qur'anQuotes the Qur'an

2۔ انسانی کردار کے لیے ایک کامل نمونہ سامنے آجانا (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃ)33:21۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3۔ وحی اِلٰہی کی دائمی حفاظت کا انتظام (اِنِّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنِّالَہ لَحَافِظُوْنَ) 15:9

Qur'anQuotes the Qur'an

اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک فیصلہ کے ذریعہ ان تینوں شرائط کی تکمیل کا انتظام فرما دیا۔

پچھلے نبیوں کے لیے اللہ کی سنت یہ رہی ہے کہ ہر نبی کو کچھ آیات (معجزے) دیے جاتے تھے۔ نبی اپنی مخاطب قوم میں تبلیغ و دعوت کا فریضہ آخری حد تک ادا کرتا۔ وہ غیر معمولی نشانیوں کے ذریعہ اپنے نمائندۂ اِلٰہی ہونے کا ثبوت پیش کرتا۔ اس کے با وجود جب لوگ ایمان نہ لاتے تو نبی کا کام ختم ہو جاتا۔ ا ب اللہ تعالیٰ کے فرشتے متحرک ہوتے اور زمینی یا آسمانی عذاب کے ذریعہ اس قوم کو ہلاک کر دیتے۔

نبی آخر الزماں کے لیے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوا کہ آپ کی مخاطب قوم کے لیے اس قسم کا عذاب نہیں آئے گا۔ بلکہ خود نبی اور آپ کے اصحاب کو ان سے ٹکر اکر انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ دین خداوندی کو قبول کریں (تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ( الفتح،48:16۔اس کے باوجود ان میں سےجو لوگ اطاعت نہ کریں وہ اہل ایمان کی تلواروں سے قتل کر دیے جائیں (قاتِلوھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللہُ بِاَیْدِیْکُم)التوبة،9:14۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس سے پہلے جو کام فرشتے کرتے تھے، اس کو انسانوں کے ذریعہ انجام دیا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی فیصلۂ اِلٰہی کا نتیجہ تھا کہ ہجرت اور اتمام حجت کے بعد دیگر انبیاء کی قوموں کے برعکس، اہل عرب پر کوئی جو الامکھی پہاڑ نہیں پھٹا اور نہ آسمان سے آگ برسی۔ بلکہ رسول اور اصحابِ رسول کو ان کے ساتھ ٹکر ا دیاگیا۔ اس فوجی تصادم میں اللہ کی خصوصی نصرت کے ذریعہ رسول اور آپ کے اصحاب کو فتح حاصل ہوئی۔ خدا کا دین ایک با قاعدہ اسٹیٹ کی شکل میں جزیرہ نمائے عرب پر قائم ہو گیا۔

اس واقعہ کے مختلف نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ دعوت نبوت کو، انفرادی تقاضوں سے لے کر اجتماعی معاملات تک زندگی کے تمام مراحل سے گزر ناپڑا اور انسانی زندگی کے تمام پہلؤوں کے لیے مسلسل احکام اترتے رہے۔ اگر یہ واقعات پیش نہ آتے تو اسلامی شریعت میںہر قسم کے احکام نہیں اتر سکتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ حالات کے لحاظ سےاپنے احکام بھیجتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کتابی مجموعہ کی شکل میںبیک وقت سارے احکام لکھ کر نبی کو دے دیے جائیں۔ فرشتوں کے ذریعے منکرینِ عرب کا استیصال کرنے کے بجائے اہل ایمان کی تلوار کے ذریعہ ان کو زیر کرنے کے فیصلے نے شریعت کی تکمیل کے اسباب پیدا کر دیے۔

پھر اسی کی وجہ سے یہ امکان پیدا ہو ا کہ پیغمبر کا سابقہ زندگی کی تمام صورتوں سے پیش آئے۔ اور ہر قسم کی سرگرمیوں میں وہ اسلامی کردار کا عملی نمونہ دکھاسکے۔ اس کےبعد خود حالات کے ارتقاء کے تحت ایسا ہوا کہ نبی کو مسجد اور مکان سے لے کر میدان جنگ اور تخت حکومت تک ہر جگہ کھڑا ہونا پڑا اور ہر جگہ اس نے معیاری انسانی کردار کا مظاہرہ کر کے قیامت تک کے لوگوں کے لیے نمونہ قائم کردیا۔

پھر اسی واقعہ نے قرآن کی حفاظت کی صورتیں بھی پیدا کیں۔ پچھلی آسمانی کتابیں جو محفوظ نہ رہ سکیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کے بعد ان کتابوں کی پشت پر کوئی ایسی طاقت نہ رہی جو بزور ان کو ضائع ہونے سے بچاتی۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے اپنی ہم عصر قوموں سے مقابلہ کر کے اولاً عرب اور اس کے بعد قدیم دنیا کے بڑے حصہ پر اسلام کا غلبہ قائم کر دیا۔ اس طرح کتاب اِلٰہی کو حکومتی اقتدار کا سایہ حاصل ہو گیا جو خدا کی کتاب کو محفوظ رکھنے کی یقینی ضمانت تھا۔ یہ انتظام انتا طاقت ور تھا کہ ایک ہزار برس تک اس میں کوئی فرق نہ آسکا۔ اسلامی اقتدار کے زیر سایہ قرآن ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا رہا۔ یہاں تک کہ صنعتی انقلاب ہوا اور پریس کا دور آگیا جس کے بعد قرآن کے ضائع ہونے کا کوئی سوال نہیں۔

یہ سب جو ہوا، اس طرح ٹھنڈے ٹھنڈے نہیں ہوگیا جیسے آج ہم اس کو سیرت و تاریخ کی کتابوں میں پڑھ لیتے ہیں۔ اس کے لیے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو نا قابل برداشت طوفان سے گزر نا پڑا۔ کفار کے مطالبہ اور نبی کی خواہش کے باوجود ان کو فوق الفطری معجزے نہیں دیے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اپنے اخلاق و کردار کو معجزاتی واقعات کا بدل بنانا پڑا۔ ان کے مکذّبین کے لیے کوئی ارضی و سماوی عذاب نہیں آیا۔ اس طرح انہیں وہ کام کرنا پڑا جس کے لیے پہلے بھونچال آتے تھے اور آتش فشاں پھٹتے تھے۔ ختم نبوت کے فیصلہ کے باوجود کتاب اِلٰہی کو یکبارگی ان کے حوالے نہیں کیاگیا۔ اس لیے ان کے واسطے ضروری ہو گیاکہ وہ زندگی کے وسیع سمندروں میں کو دیں اور ہر قسم کی چٹانوں سے ٹکرائیں تاکہ تمام معاملات زندگی کے بارے میں ان پر احکام اِلٰہی کا نزول ہو سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔

اس پورے عمل کے دوران نبی اور آپ کے اصحاب امتحان کے اس انتہائی کڑے معیار پر تھے جس کو قرآن میں زلزال شدید (الاحزاب، 33:11)کہا گیا ہے۔ نبی کو سخت ترین حکم تھا کہ ظالموں کی طرف ادنیٰ جھکاؤ بھی مت دکھاؤ(الاسراء،17:75) ورنہ تم کو دگنی سزادی جائے گی۔ حالات خواہ کتنے ہی شدید ہوں، آپ کے ساتھیوں کے لیے کسی بھی حال میں تخلف (التوبہ، 9:120) کی اجازت نہ تھی، یعنی اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنےسے پیچھے ہٹنا۔ آپ کی ازواج اگر دو وقت کی روٹی کا بھی مطالبہ کریں تو ان کے لیے یہ صاف جواب تھاکہ پیغمبر کی صحبت اور دنیا میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کر لو (الاحزاب، 33:28)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ نبوتِ محمودی (تاریخی طور پر تسلیم شدہ نبوت)کو بروئے کا ر لانا انسانی تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اور یہ سب کچھ اتنی قیامت خیز سطح پر ہو ا کہ خود رسول کی زبان سے نکلاکہ ’’اس راہ میں مجھ کو اتنا ستایا گیا جتنا کسی دوسرے نبی کو نہیں ستایا گیا۔‘‘آپ کی رفیقہ حیات نے شہادت دی کہ لوگوں نے آپ کو روند ڈالا تھا(حَطَمَهُ النَّاسُ)صحیح سلم، حدیث نمبر 732۔ خاتم النبیین اور آپ کے ساتھیوں نے دنیا کا آرام تو درکنا ر زندگی کی ناگزیر ضرورتوں سے بھی اپنے کو محروم کر لیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوسکا کہ تاریخ میں اس نبوت کا دور شروع ہو جس کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نبی عربی کا آپ کے بعد آنے والی نسلوں پر یہی وہ احسان عظیم ہے جس کی وجہ سے دائمی طورپر آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاریخ کے اس مشکل ترین مشن میں چونکہ آپ کے اہل خاندان نے آپ کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور آپ کے اصحاب اس صبر آزما جدوجہد میں پوری طرح صادق القول اور صابر العمل ثابت ہوئے، اس لیے رسول کے ساتھ آپ کے آل اور آپ کے اصحاب کے لیے بھی رحمت اور سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے اوپر احسان کرے تو انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس پر شکر کا اظہار کیا جائے۔ درود و سلام اسی قسم کے ایک عظیم ترین احسان کا دعا کی شکل میں اعتراف ہے۔ حدیث میں ہے البَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ(سنن الترمذي، حديث نمبر 3546)۔یعنی، وہ بخیل ہے، جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اَللّٰھُمَّ صَلِّ علٰی سَیّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّم

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content