← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
اغاز دعوت
Urdu · 20 min
آغاز دعوت
اپنی زندگی کے چالیسویں سال جب آپ کو غار حرا میں پہلی وحی ملتی ہے تو آپ پر ٹھیک وہی رد عمل ہوتاہے جو ایک ’’انسان‘‘ پر ہونا چاہیے۔ آپ خوف زدہ حالت میں گھر واپس آتے ہیں۔ یہاں آپ کی بیوی خدیجہ ہیں۔ وہ خود واقعۂ وحی سے الگ ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں تھیں کہ اس کے بارے میں غیر متاثر رائے قائم کر سکیں۔ چنانچہ وہ آپ سے کہتی ہیں :
unverifiedAttribution could not be verified automatically
كَلَّا وَاللهِ مَا يُخْزِيك اللهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ، وَتَكْسِبُ المَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3، صحیح مسلم، حدیث نمبر 160)۔ یعنی، ہر گز نہیں ۔ خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوانہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ بے روزگاروں کو کمانے کے قابل بناتے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت کےوقت لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت کی جدو جہد کے سلسلہ میںآپ کے یہاں وہی فطری ترتیب نظر آتی ہے جو کسی نئے ماحول میں ایک داعی کو پیش آتی ہے۔ حالات کا تقاضا تھا کہ اولاً پوشیدہ طور پر کام کیا جائے
ذكر ابن اسحاق ان عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ بَعْدَ ذَلِك بِيَوْمٍ وَهُمَا يُصَلِّيَانِ. فَقَالَ عَلِيٌّ يَا مُحَمَّدُ مَا هَذَا؟ قَالَ دِينُ اللهِ الَّذِي اصْطَفَى لِنَفْسِهِ، وَبَعَثَ بِهِ رُسُلَهُ، فَأَدْعُوكَ إِلَى اللهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيك لَهُ، وَإِلَى عِبَادَتِهِ. وَأَنْ تَكْفُرَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى. فَقَالَ عَلِيٌّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَسْمَعْ بِهِ قَبْلَ الْيَوْمِ، فَلَسْتُ بِقَاضٍ أَمْرًا حَتَّى أُحَدِّثَ بِهِ أَبَا طَالِبٍ. فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْشِيَ عَلَيْهِ سَرَّهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَعْلِنَ امره. فقال لهيا على إذ لَمْ تُسْلِمْ فَاكْتُمْ. فَمَكَثَ عَلِيٌّ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ إِنَّ اللهَ أَوْقَعَ فِي قَلْبِ عَلِيٍّ الْإِسْلَامَ، فَأَصْبَحَ غَادِيًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهُ فَقَالَ مَاذَا عَرَضْتَ عَلَيَّ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهِ وَحْدَهُ لَا شريك لَهُ وَتَكْفُرُ بِاللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَتَبْرَأُ مِنَ الْأَنْدَادِ، فَفَعَلَ عَلِيٌّ وَأَسْلَمَ، وَمَكَثَ يَأْتِيهِ عَلَى خَوْفٍ مِنْ أَبِي طَالِبٍ وَكَتَمَ عَلِيٌّ إِسْلَامَهُ وَلَمْ يُظْهِرْهُ (البدایہ والنہایہ،جلد 3، صفحہ24)۔ یعنی،ابن اسحاق کا بیان ہے کہ علی بن ابی طالب آپ کے گھر میں آئے، اس وقت آپ اور حضرت خدیجہ نما زپڑھ رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا اے محمد ! یہ کیا ہے۔ آپ نے جواب دیا اللہ کا دین جس کو اس نے اپنے لیے منتخب کیا اور اس کی تبلیغ کے لیے اپنے رسول بھیجے۔ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتاہوں، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی عبادت کی تلقین کرتاہوں۔ اوریہ کہ تم لات و عزیٰ کو ماننا چھوڑد و۔ علی بن ابی طالب نے کہا، یہ ایسی بات ہے جس کو آج سےپہلے میںنے نہیں سنا۔ میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا جب تک اپنے باپ ابوطالب سے اس کی بابت بات نہ کرلوں۔ آپ کو یہ پسند نہیں آیا کہ اعلان سے پہلے یہ راز کھل جائے۔ آپ نے کہا اے علی، اگر تم اسلام نہیں لاتے تو اس معاملہ کو پوشیدہ رکھو۔ علی بن ابی طالب اس رات رکے رہے پھر اللہ نے ان کے دل میں اسلام ڈال دیا۔ اگلے روز صبح وہ رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کےپاس آئے اور کہا، اےمحمد ! کل آپ نے مجھ سے کیا کہا تھا۔ آپ نے فرمایا، گواہی دو کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، ا س کا کوئی شریک نہیں۔ اور لات و عزیٰ کو نہ مانو، او رجن کو خدا کا شریک و سہیم بنایا جاتا ہے، ان سے اظہار بیزاری کرو۔ علی نےاس پر عمل کیا او ر اسلام لے آئے۔ اس کے بعد ابو طالب کے ڈر سے آپ کے پاس چھپ چھپ کر آتے رہے اور علی نےاپنے اسلام کو چھپائے رکھا اس کو ظاہر نہ کیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اوس وخزرج کے ابتدائی مسلمان جب یثرب واپس ہوئے تو آغاز میں ان کا طریقہ بھی یہی تھا کہ خفیہ طور پر دعوتی کام کرتے (فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَدَعَوْهُمْ سِرًّا ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 849۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آ پ نے اپنی پوری زندگی میں شدت سے اس کا اہتمام رکھا کہ کوئی اقدام اس وقت سےپہلے نہ کیا جائے جب کہ اس کی طاقت پیدا ہو چکی ہو۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 38صحابہ جمع ہو گئے تو حضرت ابو بکر نے آپ سے ’’ظہور‘‘ کے لیے اصرار کیا۔ یعنی اب ہم لوگ سامنے آجائیں اور کھلم کھلا تبلیغ کریں۔ مگر آپ کا جواب تھايَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّا قَلِيلٌ(اے ابوبکر ! ابھی ہم تھوڑے ہیں )۔ اسی طرح نبوت کے چھٹے سال جب حضرت عمر اسلام لائے تو انہوں نے آپ سے کہا ’’اے خد ا کے رسول ! ہم کیوں اپنے دین کو چھپا ئیں جب کہ ہم حق پر ہیں۔ اس کے برعکس دوسروں کا دین نمایاں رہے، حالاں کہ وہ باطل پر ہیں ‘‘ آپ نے انہیں بھی یہی جواب دیا يَا عُمَرُ، إِنَّا قَلِيلٌ(اے عمر، ابھی ہم تھوڑے ہیں)من حديث خيثمة بن سليمان القرشي، صفحہ 127-129۔ آپ کا یہی انداز مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ہجرت کے بعد جب اسلامی طاقت ایک جگہ منظم اور مرتکز ہوگئی اور قریش فوج لے کر اس کے استیصال کے لیے آگئے، اس وقت مقابلہ کی اجازت دی گئی۔ بدر کے میدان میں جب آپ کے اصحاب نے اسلام دشمنوں سے مقابلہ شروع کیا تونبی صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا تھاهذا یوم لہ مابعدہ۔ گویا اہل اسلام کے لیے عملی اقدام کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ اس پوزیشن میں ہو جائیں کہ اپنے اقدام سے اسلام کے لیے نیا مستقبل پید ا کر سکتے ہوں۔ اس سے پہلے عملی اقدام جائز نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جب آپ کو دعوت عام کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ کو احساس ہو ا کہ یہ بہت بڑاکام ہے جس کے لیے ہمہ تن مصروف ہونا ضروری ہے۔ آپ نے چاہا کہ آپ کے خاندان کے لوگ آپ کی اقتصادی ذمہ داریوں میں آپ کےکفیل ہو جائیں تاکہ آپ اس کا م کو بخوبی طورپر انجام دے سکیں۔ آپ نے اپنے مکان پر خاندان عبد المطلب کو جمع کیا جو اس وقت تقریباً 40افراد پر مشتمل تھے۔ ایک روایت کے مطابق 30آدمی جمع ہوئے۔ آپ نے ان کو بتایا کہ خدا نے مجھےنبوت عطا کی ہے تم لوگ میرے ساتھ تعان کر و تاکہ میں اس ذمہ داری کو اداکر سکوں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي بُعِثْتُ لَكُمْ خَاصَّةً وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةٍ، وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ، فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي؟(مسند احمد،حدیث نمبر 1371)۔ يعني، اے خاندان عبد المطلب ! میں تمہاری طرف خاص طور پر اور تمام لوگوں کی طرف عام طور پر بھیجا گیا ہوں پھر تم میں سے کون مجھ سےاس پر بیعت کرتاہے کہ وہ میرا بھائی اور ساتھی ہوگا۔
hadithQuotes a hadith
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے کہا
مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي؟ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا، مَنْ يَقُومُ بِهَذَا؟ (مسند احمد، حدیث نمبر 883)۔یعنی، تم میں سےکون میرے قرضوں اور میرے وعدوں کا ضامن بنتا ہے اور میرے پیچھے میرے گھر والوں کا ذمہ دار بنتا ہے اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ایک شخص بولا، اے محمد، آپ تو ایک سمندر ہیں۔ کون اس ذمہ داری کےلیے کھڑاہو سکتاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ کا خاندان آپ کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ عباس بن عبد المطلب آپ کے چچا تھے۔ وہ اقتصادی حیثیت سے اس پوزیشن میںتھے کہ آپ کی ذمہ داری لے سکیں۔ مگر وہ بھی خاموشی رہے (فَسَكَتُوا وَسَكَتَ الْعَبَّاسُ خَشْيَةَ أَنْ يُحِيطَ ذَلِك بِمَالِهِ) السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد1، صفحہ 460۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نصرت فرمائی۔ اولاً آپ کی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد اور اس کے بعد ابو بکر صدیق کا مال مکی زندگی میں آپ کا اقتصادی سہارا بنا رہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لوگوں کو دعوت حق پہنچانے کے لیے آپ بچوں کی طرح حریص تھے۔ ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ مکّہ کے ممتاز لوگ ایک روز غروب آفتاب کے بعد کعبہ کے پاس جمع ہوئے او رآپ کو بات چیت کےلیے بلایا (فَبَعَثُوا إلَيْهِإنَّ أَشْرَافَ قَوْمِك قَدْ اجْتَمَعُوا لَك لِيُكَلِّمُوك) اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فَجَاءَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا، وَهُوَ يَظُنُّ أَنْ قَدْ بَدَا لَهُمْ فِيمَا كَلَّمَهُمْ فِيهِ بَدَاءٌ، وَكَانَ عَلَيْهِمْ حَرِيصًا يُحِبُّ رُشْدَهُمْ، وَيَعِزُّ عَلَيْهِ عَنَتُهُمْ (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ295)۔يعني، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے آئے۔ آپ کوخیال ہوا کہ شاید انہیں قبول حق کی طرف کچھ میلان ہوگیا ہے اور آپ قریش کی ہدایت کے لیے بے حد حریص تھے اور ان کی ہلاکت آپ پر بہت گراں گزرتی تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر بلانے والوں نے آپ کو محض بحث مباحثہ کے لیے بلایا تھا نہ کہ بات ماننے کےلیے۔ چنانچہ طویل گفتگو کے بعد آپ غمگین واپس لوٹے
وَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إلَى أَهْلِهِ حَزِينًا آسِفًا لِمَا فَاتَهُ مِمَّا كَانَ يَطْمَعُ بِهِ مِنْ قَوْمِهِ حِينَ دَعَوْهُ، وَلِمَا رَأَى مِنْ مُبَاعَدَتِهِمْ إيَّاهُ(سیرت ابن ہشام، جلد 1،صفحہ 298)۔ یعنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حزن اور افسوس کے ساتھ اپنے گھر واپس آئے کیونکہ قوم سے جس چیز کی امید لگا کرگئے اس کو نہ پایا۔ وہ لوگ اس سے بہت دور تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح ابو طالب کے مرض الموت میں جب لوگ ان کے پاس جمع ہوئے توانہوں نے کہا کہ ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان اپنی موت سے پہلے کچھ طے کر دیجیے (فَخُذْ لَهُ مِنَّا، وَخُذْ لَنَا مِنْهُ، لِيَكُفَّ عَنَّا، وَنَكُفَّ عَنْهُ، وَلِيَدَعَنَا وَدِينَنَا، وَنَدَعَهُ وَدِينَهُ)۔ ابوطالب نے آپ کو بلایا اور پوچھا کہ قوم سے آپ کیا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تقولون لا اِلٰہ الا اللہ و تخلعون ماتعبدون من دونہ۔مگرقوم اس کو ماننے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کے بعد جب لوگ چلے گئے تو ابن اسحاق کی روایت کے مطابق ابو طالب نے کہا، بھتیجے! خدا کی قسم میرا خیال ہے کہ تم نے قوم سے کسی مشکل چیز کا مطالبہ نہیں کیا (وَاَللهِ يَا بن أَخِي، مَا رَأَيْتُكَ سَأَلْتَهُمْ شَطَطًا)۔ ابوطالب کی زبان سے یہ جملہ سن کر آپ کی جو کیفیت ہوئی، راوی کہتے ہیں ، وہ یہ تھیطَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إسْلَامِهِ، فَجَعَلَ يَقُولُ لَهُأَيْ عَمِّ، فَأَنْتَ فَقُلْهَا أَسْتَحِلَّ لَك بِهَا الشَّفَاعَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ417-18)۔یعنی، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب کے بارے میں امید پید ا ہو گئی اور آپ ان سے کہنے لگے، اے چچا پھر آپ ہی اس کلمہ کو کہہ دیجیے تاکہ قیامت کے دن میرے لیے آپ کی سفارش کرنا حلال ہو جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ مدعو کی طرف سے ہر قسم کے اشتعال کو آخری حد تک برداشت کرتےتھے۔ فتح مکہ کے بعد ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آپ کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئی۔ آ پ نے بیعت کے الفاظ ادا کرتے ہوئے حسب معمول جب یہ فرمایا تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کر وگی، تو ہند فوراًبولیوَهَلْ تَرَكْتَ لَنَا أَوْلَادًا نَقْتُلُهُمْ؟( مسند أبي يعلى، حدیث نمبر 4754)۔ يعني، (جنگ کے بعد) کیا آپ نے ہمارے لیے کوئی اولاد چھوڑی ہے جس کو ہم قتل کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر آپ نے اس کے طنز یہ جملہ کا کوئی اثر نہیں لیا اور خوشی کےساتھ بیعت کر لی۔
اس مشن کی راہ میںآپ نے نہ صرف اپنے وقت اور اپنے جسم و دماغ کی ساری طاقت لگادی۔ بلکہ اپناسارا اثاثہ بھی اس کی راہ میں قربان کردیا۔ نبوت سے پہلے مکہ کی ایک دولت مند خاتون سے نکاح کی وجہ سے آپ کافی مال دار ہو گئےتھے۔ مکہ کے ابتدائی دور میں ایک بار سردارانِ قریش نے عتبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بناکر آپ کے پاس گفتگو کے لیے بھیجا۔ وہ آپ کے پاس پہنچ کر خود ہی مرعوب ہو گیا
وَلَمْ يَخْرُجْ إِلَى أَهْلِهِ وَاحْتَبَسَ عنهم.فقال أبو جهلوالله يا معشر قريش مَا نَرَى عُتْبَةَ إِلَّا صَبَأَ إِلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْجَبَهُ طَعَامُهُ، وَمَا ذَاك إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ أَصَابَتْهُ، انْطَلِقُوا بِنَا إِلَيْهِ فَأَتَوْهُ.فَقَالَ أَبُو جَهْلٍوَاللهِ يَا عُتْبَةُ مَا جِئْنَا إِلَّا أَنَّك صَبَوْتَ إِلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْجَبَك أَمْرُهُ، فَإِنْ كَانَ بِك حَاجَةٌ جَمَعْنَا لَك مِنْ أَمْوَالِنَا مَا يُغْنِيك عَنْ طَعَامِ مُحَمَّدٍ.فَغَضِبَ وَأَقْسَمَ بِاللهِ لَا يُكَلِّمُ مُحَمَّدًا أَبَدًا(البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 80)۔ یعنی، اور عتبہ اس کے بعد گھر بیٹھ رہا اور لوگوں کے پاس نہ گیا۔ ابو جہل نے کہا اے بر ادران قریش، خدا کی قسم، میر ا خیال ہے کہ عتبہ محمد کی طرف مائل ہوگیا اور اسے محمد کا کھانا پسند آگیا اور یقیناً اسے کسی حاجت کی بنا پر ایسا کرنا پڑا۔ آؤ ہم عتبہ کے پاس چلیں۔ چنانچہ وہ گئے۔ ابو جہل نےکہا اے عتبہ خدا کی قسم ہم کو اس لیے آناپڑا کہ تم محمد کی طرف مائل ہو گئے اور ان کا معاملہ تم کو پسند آگیا۔ اگر تمہیں ضرورت ہو تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیں جو تمہیں محمد کے کھانے سے بے نیاز کر دے، عتبہ یہ سن کر بگڑ گیا اور قسم کھا کر کہا کہ میں محمد سے کبھی بات نہ کروں گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے کہ ولید بن مغیرہ آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کو قرآن سنایا۔ قرآن کے ادب نے اس کو شدید طور پر متاثر کیا۔ ابو جہل کومعلوم ہو اتو وہ ولید بن مغیرہ کےیہاں پہنچا اور اس سے کہا، لوگوں کا ارادہ ہے کہ تمہارے لیے مال جمع کریں۔ کیوں کہ تم کو محمد کے مال کی خواہش ہوگئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قسم کی مالی حیثیت سے آپ نے نبوت کا آغاز کیا۔مگر تیرھويں سال جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کےپاس کچھ باقی نہ رہاتھا حتیٰ کہ آپ نے حضرت ابو بکر سے قرض لے کر سامان سفر درست کیا۔