Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

پیغمبر مکہ میں

Urdu · 9 min

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبر انہ زندگی کے دوبڑے دور ہیں۔ ایک کو مکی دور کہا جاتا ہے، دوسرے کو مدنی دور۔ مکہ اور مدینہ دوشہروں کے نام ہیں ۔ ان الفاظ کو آپ لغت میں دیکھیں تو ان کےیہی معنی آپ کو وہاں لکھے ہوئے ملیں گے۔ مگر کچھ معانی وہ ہیں جو تاریخ کسی لفظ میں شامل کرتی ہے۔ مکہ اور مدینہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ابتدائی معنی کے اعتبار سے یہ دونوں الفاظ دوشہروں کے نام ہیں۔ مگر تاریخ کے اعتبار سے وہ اسلامی عمل کے دو پہلوؤں کی علامت بن گئے ہیں ۔ مکہ دعوت کی علامت ہے اور مدینہ انقلاب کی علامت۔ مکی دور اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے اٹھانے کا نام ہے اور مدنی دو ر اس کو ماحول میں غالب اور سر بلند کرنے کا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہواہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (49:29)۔محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکرین پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ہیں ۔ تم ان کو دیکھتے ہو رکوع او ر سجدہ میں ۔ وہ اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں ۔ ان کے چہروں پر نشان ہے سجدہ کے اثر سے، یہ مثال ان کی تورات میں ہے۔ اور ان کی مثال انجیل میں یہ ہے جیسے کھیتی نے اپنا انکھو انکالا پھر اس کو مضبوط کیا۔ پھر وہ موٹا ہوا۔ پھر وہ کھڑ ا ہو گیا اپنے تنہ پر۔ وہ اچھا لگتا ہے کھیتی والوں کو تاکہ منکروں کا دل جلائے۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے معافی اور اجر عظیم کا ان سے جو ایمان لائے اور نیک کام کیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مذکورہ آیت میں تورات کے حوالہ سے پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کے انفرادی اوصاف کا ذکر ہے اور اس کے بعد انجیل کے حوالہ سے ان کے اجتماعی ارتقا کا۔ پہلے جزء کی تر بیت مکہ میں ہوئی اور دوسرے جزء کی تکمیل مدینہ میں ۔

پیغمبر اسلام کی جو سیر تیں لکھی گئی ہیں، ان کا انداز عام طور پر یہ ہوتا ہے گو یا آمنہ کے پیٹ سے ایک پُر عجو بہ شخصیت نکلی اور اس نے پُر اسرار طریقوں سے پورے عرب کو مسخر کر ڈالا۔ سیرت کی کتابیں انسانی تاریخ سے زیادہ کرامات و معجزات کی ایک طلسماتی داستان نظر آتی ہیں۔ یہ ذوق اتنا بڑھا کہ جن واقعات میں کوئی معجزاتی پہلو نہ تھا وہاں بھی لوگوں نے اپنے قوت تخیل سے کوئی نہ کوئی چیز ڈھونڈ نکالی۔ مثال کے طور پر صہیب بن سنان کی ہجرت کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ مکہ سے روانہ ہوئے تو قریش کے کچھ نوجوانوں نے انہیں آگے بڑھ کر روکا۔ صہیب نے کہا، اگر میں تمہیں اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھے جانے دو گے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ چند اوقیہ سونا جو صہیب کے پاس تھا، وہ سب انہوں نے ان کو دے دیا اور مدینہ پہنچ گئے۔ حضرت صہیب کہتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مدینہ میں دیکھا تو فرمایا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اے ابو یحییٰ تمہاری یہ تجارت بڑی نفع بخش رہی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ، مجھ سے پہلے آپ تک مکہ سے کوئی نہیں آیا یہ خبر یقیناً آپ کو جبریل فرشتہ نے دی ہے (فَلَمَّا رَآنِي قَالَيَا أَبَا يَحْيَى، رَبِحَ الْبَيْعُ- ثَلَاثًا- فَقُلْتُيَا رَسُولَ اللهِ، مَا سَبَقَنِي إِلَيْك أَحَدٌ، وَمَا أَخْبَرَك إِلَّا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ) مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5706۔

quoted sourceQuoted from another author or source

مگر یہی واقعہ دوسری روایت میں ان الفاظ میںآیا ہے

فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَلَغَ ذَلِك النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَبِحَ صُهَيْبٌ رَبِحَ صُهَيْبٌ(الاحاديث المختارة للمقدسی، حدیث نمبر 79)۔ یعنی، میں قریش کے لوگوں کو اپنا مال دے کر مکہ روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا۔ اس کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا صہیب کی تجارت نفع بخش رہی، صہیب کی تجارت نفع بخش رہی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی ایک سادہ انسانی واقعہ ہے اور اسی لیے وہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔ آپ کو راستہ چلتے ہوئے اسی طرح ٹھوکر لگی جس طرح عام انسان کو لگتی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1114)۔ آپ کے مخاطبین اولین کو آپ کا صاحب ِ الہام ہونا اس لیے ناقابل فہم نظر آیا کہ آپ انہیں بظاہر اپنے ہی جیسے ایک انسان نظر آتے تھے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فَإِنَّكَ تَقُومُ بِالْأَسْوَاقِ كَمَا نَقُومُ، وَتَلْتَمِسُ الْمَعَاشَ كَمَا نَلْتَمِسُهُ(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ297)۔يعني، آپ بازار میں خرید و فروخت کرتے ہیں اور اسی طرح تلاش معاش کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر خدا کی زندگی کی عظمت اس کے انسانی واقعہ ہونے میں ہے نہ کہ پُراسرار معجزاتی داستان ہونے میں ۔ آپ کی کامیابی نصر ت اِلٰہی کے تحت ہوئی، اس لحاظ سے بلاشبہ وہ معجزہ تھی۔ مگر اس معجزہ اِلٰہی کا ظہور ’’بشر رسول‘‘ کی سطح پر ہوا نہ کہ کراماتی شخصیت کی سطح پر۔

قرآن میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تصویر دی گئی ہے، اس کو سامنے رکھا جائے تو آپ کی یہی تصویر اس کے مطابق نظر آئے گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content