قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہےوَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ ( 8:61-62)۔ یعنی، اگر دشمن صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بلاشبہ وہ خوب سنتا اور جانتا ہے، اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ قرآن کا یہ حکم اسلامی طریق کا ر کا خلاصہ ہے۔ اسلام کا طریقہ اصلاً غیرحربی طریقہ ہے۔ حتٰی کہ فریق مخالف کی طرف سےدھو کہ کا اندیشہ ہو تب بھی اہل اسلام کو خدا کےبھروسہ پر مصالحت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
اس حکم کا مدعا یہ ہےکہ غیر حربی میدان، بالفاظ دیگر وہ میدان جہاں دوسروں سے ٹکراؤ پیدا کیے بغیر تم اپنے لیے مواقع کا ر پار ہے ہو، وہاں اپنی قوتوںکو لگا دو۔ اور اس کے علاوہ عمل کے جو دوسرے دائرے ہیں، وہاں قدرت کی طاقتوں کو بر وئے کار آنے کا موقع دو۔ حقیقت یہ ہےکہ جب بھی دو فریق متصادم ہوں تو وہاں تیسرا زیادہ طاقت ور فریق موجود ہوتا ہے اور وہ رب العالمین کی ذات ہے۔ اگر ہم اپنی قوتوں کو اپنے ممکن دائرہ میں محدود رکھیں تو بقیہ دائرہ میں خدا ہمارے لیے کافی ہوجاتاہے۔ اپنے حاصل شدہ دائرۂ عمل کو چھوڑ کر دوسروں کے دائرۂ عمل میں چھلانگ لگانا گویا خدا کے دائرہ سے اپنے کام کا آغاز کرنا ہے۔ایسا آغاز صرف غضبِ اِلٰہی کو بھڑکاتاہے۔ وہ کسی کے لیے خدا کی رحمت ونصرت کو کھینچنے والا نہیں بن سکتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔