← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
صبر و استقامت
Urdu · 19 min
اب صبر کو لیجیے۔ صبر کا لفظ عربی زبان میںایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کہ کسی چیز میں اثر پذیری کے بجائے جماؤ کی کیفیت بتانا مقصود ہو۔ مثلاً صبّارۃ سخت بنجر زمین کو کہتے ہیں جو بیج کو قبول نہ کرے۔ اسی طرح بہادر کو صبور کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ خارجی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو قائم رکھتا ہے۔
یہ صبر اس انسان کی اعلیٰ ترین صفت ہے جس کے اندر اسلام ایک مقصد بن کر شامل ہو گیا ہو۔ اسلام اس کے اندر ایسی حرارت پید اکر دیتاہے جس کے بعد وہ سست نہیں پڑتا۔ وہ کمزوری نہیں دکھاتا۔ وہ عاجزی ظاہر نہیں کرتا (آل عمران، 3:146)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایمان و اسلا م کا مطلب خدا پر اعتماد کرنا ہے،اور جو شخص خد اپر اعتماد کرلے وہ اتھاہ طاقت کا مالک ہو جاتاہے۔ اس کے لیے کسی مرحلہ پر بے صبری کا کوئی سوال نہیں رہتا۔
1۔ ایک شخص جب اسلام کا علم بر دار بن کر کھڑا ہوتا ہے تو اس کو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود تو خدا کی مقرر کی ہوئی حدود قیود میں بندھا ہواہے، جب کہ دوسرا فریق آزاد ہے کہ جو طریقہ چاہے اپنی کامیابی کے لیے اختیار کرے۔ اس کو حکم دیا گیا ہےکہ اپنی ساری قوت دعوت و تبلیغ کی مہم پر صرف کرے، جب کہ دوسرے لوگ سیاسی کا ر روائیوں اور اقتصادی تدبیروں سے اپنی پوزیشن کو مستحکم بنارہے ہیں۔ اس کو ہر حال میں اخلاقی حدود میں رہنے کا پابند کیا گیا ہے، جب کہ دوسرے لوگ اس قسم کی تمام بند شوں سے آزاد ہیں۔ا س طرح کی باتیں داعیِ اسلام کو اس حد تک متاثر کر سکتی ہیں کہ وہ اسلامی طریق کار کو ہلکا سمجھنے لگے اور اس کے دل میںیہ خیال پر ورش پانے لگے کہ اسے بھی وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو دوسرے لوگ اختیار کر رہے ہیں ۔ یہاں’’صبر ‘‘ اس کے لیے رکاوٹ بنتا ہے۔ صبر اس کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اپنے طریق عمل کو ہلکا اور بے اثر سمجھنے لگے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ(30:60)۔ يعني، پس تم صبر کرو۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور تم کو بےبرداشت نہ کردیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2۔ اسلا م کی راہ میں صبر کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی کی طرف سے جو مصیبتیں ڈالی جائیں،ان کو مکمل طور پر برداشت کیا جائے
وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا(14:12)۔يعني، (نبیوںنے کہا) ہم صبر کریں گے اس پر جو ایذاتم ہم کو دیتے ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صبر بذات خود دعوت حق کا ایک جزء ہے۔ کیونکہ داعی اگر مدعو کی جوابی کارروائیوں سے گھبرااٹھے یا جزع فزع کرنے لگے تو یہ بات مشتبہ ہوجاتی ہےکہ وہ اپنی دعوت میںسنجیدہ ہے، اور واقعۃً اللہ کی رضا جوئی کے لیے لوگوں کو حق کا پیغام دینے اٹھاہے۔یہ مصائب تو درحقیقت اس کی سنجیدگی کا امتحان ہیں اور کسی کے لیے اس كي دعوت اسی وقت قابل قبول ہو سکتی ہے جب کہ وہ اس کے سامنے اپنے آپ کو مکمل طور پر سنجیدہ ثابت کردے۔
3۔ مخالف کی طرف سے جب کوئی چیز ڈالی جائے تو آدمی عام طور پر یہ کوشش کرتا ہے کہ اُس کو خود مخالف کے اوپر لوٹا دے۔ اس کےمقابلہ میںصبر یہ ہےکہ خاموشی کےساتھ اس کو اپنے اوپر لے لیا جائے۔ مثال کےطور پر اگر کسی اہل اسلام کو مدعو قوم کی طرف سے اس اقتصادی تعصب کا سامنا پیش آئے کہ یکساں لیاقت رکھتے ہوئے ان کی جگہ دوسرے کا انتخاب کیا جانے لگے تو یہ مطالبہ لےکر اٹھنا صبر کے خلاف ہوگا کہ ’’ہمارے ساتھ مساویانہ سلوک کرو‘‘۔ اس کے برعکس، انہیں یہ کرنا چاہیے کہ اس وار کو اپنے اوپر لے لیں۔ یعنی اگر ماحول مساوی لیاقت کی بنیاد پر انہیں ان کاحق دینے کے لیے تیار نہیں ہے تو امتیازی لیاقت پیدا کر کے اسے حاصل کریں۔ مکّی دور میں ہجرت حبشہ ایک اعتبار سے اسی قسم کا ایک عمل تھا۔ مکہ کے لوگوں نے جب مسلمانوں کے لیے مکہ میں تجارت کے دروازے بند کر دیے تو انہوں نے پڑوسی ملک میں محنت مزدوری کرکے اپنی معاش حاصل کرنا شروع کردیا۔ وہاں انہوں نے ایمان داری اور محنت کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ شاہ حبش (نجاشی) نے منادی کے ذریعہ اعلان کر ایا کہ جو شخص کسی مسلمان کو ستائے، وہ اس کے بدلے اس مسلمان کو 8درہم تاوان دے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
صبر بظاہر ایک سلبی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر اپنے نتائج کے اعتبار سے وہ ایک اعلیٰ ترین ایجابی عمل ہے جس میں آدمی اپنے حریف کے مقابلہ میں فوری جوابی کارروائی کرنے کے بجائے دُوررس عوامل (far reaching factors)پر اعتماد کرتا ہے۔ جب آپ کسی ظلم یا اشتعال انگیزی کےجواب میں فوری اقدام کرتے ہیں تو اس وقت آپ کی کارروائی ایک متاثر ذہن سے نکلی ہوئی کارروائی ہوتی ہے۔ اس کا نقشہ آدمی کے ابلتے ہوئے جذبات کے زور پر بنتا ہے۔ بجائے اس کے کہ خارجی حقائق و امکانات کا بے لاگ جائزہ لے کر اس کے مطابق گہری منصوبہ بندی کی جائے، جس کا دوسرا نام صبر ہے۔
صبر کا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی کو فوری طورپر خود جواب دینے کے بجائے خدا کے ابدی قوانین کو اس کے خلاف کار فرما ہونے کا موقع دیا جائے۔
جب آدمی بے صبری کےساتھ حریف کےمقابلہ میں دوڑ پڑتا ہے تو اس وقت اس کے رہنما سفلی جذبات اور سطحی محرکات ہوتے ہیں ۔ وہ لاز ماً ایسی غلطیاں کرتاہے جس سے اس کا مقدمہ کمزور ہو جائے۔ اس کے برعکس ،جب آدمی صبر سے کام لیتاہے تو اس وقت اس کے اندر کی وہ ربّانی قوت اپنا عمل کرنے کے لیے بیدار ہو جاتی ہے جس کو عقل کہتےہیں۔ انسان کی عقل ایک حیرت انگیز قوت ہے۔ وہ دیوار کے اُس پار دیکھتی ہے اور مستقبل میں جھانک کر اس میں چھپے ہوئے حقائق کو معلوم کر لیتی ہے جن کے ہاتھ آجانے کے بعد حریف کےتمام اطراف و جوانب اس طرح قابو میں آجاتے ہیں جیسے کوئی شکار کسی مضبوط جال میں پھنس جائے اور اس کے بعد اس کی ہر حرکت اس کے اوپر شکاری کی گرفت کو مضبوط کرنے والی ثابت ہو۔
ہجرت کا واقعہ اسی قسم کی ایک مثال ہے۔ جب قریش نے فیصلہ کر لیا کہ آپ کو قتل کردیں توایک صورت یہ تھی کہ آپ ان کی تلوار کے سامنے کھڑے ہو جاتے۔ اس کے برعکس آپ نے ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر یہ فیصلہ کیا کہ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلےجائیں۔ دوسرے لفظوں میں اپنا مقام عمل تبدیل کردیں۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ ہجرت سےپہلے آپ روزانہ میرے والد (ابو بکر ) کےمکان پر آتے اور آئندہ اقدام کے بارے میںمشورہ کرتے۔ چھ مہینے تک نہایت راز داری کے ساتھ ساری تیاریاں مکمل کی گئیں۔ اس کے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت آپ ایک معتمد گائڈ (هَادِيًا خِرِّيتًا)کولے کر مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ246)۔ ایک پر جوش قائد جو حریف سے لڑکر شہادت کی یاد گار قائم کرنے کو سب سے بڑا کمال سمجھتا ہے، اس کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہجرت ایک قسم کا فرار معلوم ہوگی۔ مگر نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ واحد عظیم واقعہ ہے جس نے اسلامی تاریخ کا رخ موڑدیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے اقدام سے رک کر فطرت کو کام کرنے کا موقع دے۔ انسانی فطرت ایک دائمی حقیقت ہے اور اگر خارجی پر دے ہٹادیے جائیں تو وہ انسانی زندگی میں انتہائی فیصلہ کن کر دار ادا کرتی ہے۔ فطرت کے اندر ہمیشہ ا س آدمی کے لیے نرم گوشہ ہوتا ہے جو گالی کے جواب میں چپ رہ گیا ہو۔ فطرت اپنی اندرونی آواز کے تحت مجبور ہے کہ ظالم کے بجائے مظلوم کو حق پر سمجھے۔ فطرت کی دنیا میں محرومیوں سے استحقاق پید اہوتاہے اور ضبط و استقامت سے اس کا بر سرِ حق ہونا ثابت ہوتاہے۔ اس کی ایک مثال پیغمبر اسلام اور آپ کے خاندان کا مقاطعہ ہے جو نبوت کے ساتویں سال پیش آیا اور جس کے نتیجہ میں ابولہب کو چھوڑ کر سارے بنو ہاشم کو ایک پہاڑی درّہ (شعب ابی طالب ) میں محصور ہونا پڑا۔ ایک مقصد کی خاطر نہایت خاموشی کے ساتھ بد ترین ظلم کو سہتے رہنا فطرت انسانی میں اپنی باز گشت پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ چنانچہ تین سال گزرے تھے کہ خود دشمنوں کے اندر ابو البختری، ہشام بن عمر و، زبیر بن امیہ، زمعہ بن الا سود اور مطعم بن عدی جیسے متعدد لوگ پید ا ہوگئے۔ انہوں نے قریش کے لیڈروں سے لڑ کرمعاہدہ کو چاک کر ڈالا اور بنو ہاشم کو اس ظالمانہ مقاطعہ سےنجات مل گئی۔
صبر کا اہم ترین پہلو یہ ہےکہ اس سے نصرت اِلٰہی کا استحقاق پید اہوتاہے۔ جب ایک شخص صحیح مقصد کی خاطر صبر کرتا ہے تو وہ اپنے مسائل کے لیے مالک کائنات کے اوپر بھروسہ کرتاہے اور یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص ایک صحیح مقصد کے لیے مالک کائنات پر بھروسہ کرے اور وہ اس کے بھروسہ کو پورانہ کرے۔
اس نصرت کے بے شمار طریقے ہیں ۔ کوئی شخص نہ ان کو جان سکتا هے اور نہ ان کا احاطہ کرسکتا۔ تاہم اسلام اور غیر اسلام کےمقابلہ میں آنے والی ایک خاص نصرت یہ ہے کہ مادی حالات میں موافق کمی بیشی پیدا کر دی جائے۔ اور اہل ایمان کے دل میں اعتماد کی کیفیت ڈال دی جائے اور مخالفین کے دل میں رعب
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا (33:9)۔يعني، اے ایمان والو، اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کر و جب تم پر فوجیں چڑھ آئیں تو ہم نے ان پر بھیجی آندھی اور ایسا لشکر جس کو تم نےنہیں دیکھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ آیت غزوۂ احزاب (627ء) سے متعلق ہے۔ اس میں اللہ تعاليٰ نے اہل ایمان کی مدد کے لیے دوچیزیں بھیجی تھیں— ہوا، اور فرشتوں کی فوج۔ ہوا کوئی انوکھی چیز نہیں۔ وہ ایک موٹے غلاف کی شکل میںہر وقت کرۂ ارض کےچاروں طرف لپٹی ہوئی موجود ہے۔ مگر ایک خاص وقت میں ایک مقام پر اس کے اندر تیزی پید اکردی گئی۔ جس کے نتیجہ میں وہ اہل ایمان کے لیے نصرت بن گئی۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی گروہ کی مدد کرنا چاہتا ہے تو مادّی واقعات میں شدت پیدا کر دیتا ہے جس کا نتیجہ اس کے حق میں کامیابی کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔
فرشتوں کی فوج کا مطلب یہ نہیں ہےکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر تلوار چلاتے تھے۔ یہ درحقیقت ایک قسم کی نفسیاتی مدد تھی، نہ کہ عام معنوں میں حربی مدد۔ وہ اس لیے آتے تھے کہ ایک طرف مسلمانوں کے دلوں میں ثبات اور دوسری طرف مخالفین اسلام کے دلوں میں رعب پیدا کریں (الانفال،8:12)۔ وہ مسلمانوں کی نظر میں مخالفین اسلام کی فوج کو کم کرکے دکھاتے تھے اور مخالفین اسلا م کی نظر میں مسلمانوں کی فوج کو بہت زیادہ کر دیتے تھے (الانفال، 8:44)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عہد فاروقی میں سعد بن ابی وقاص اسلامی لشکر کو لے کر قادسیہ میں اتر ے جو عربوں کے نزدیک ایران کا دروازہ تھا۔ یہاں زیادہ دنوں تک قیام کرنا پڑا اور کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو گئیں۔ حضرت سعد نے کچھ لوگوں کو روانہ کیا کہ کہیں سے بکریاں اور گائیں تلاش کر کے لائیں۔ انہیں ایک ایرانی ملاجس سے انہوں نے بکریوں اور گایوں کے متعلق دریافت کیا۔ اس نے کہا مجھے کچھ علم نہیں۔ حالاں کہ وہ خود ایک چر واہا تھا اور اس نے اسلامی لشکر کی خبر سن کر اپنے مویشیوں کو قریب کے گھنے جنگل میں چھپا دیاتھا۔ اس کےبعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ ہے
فصاح ثور منهاكذب الراعي ها نحن في هذه الأجمة(ایک بیل چلایا، چرواہا جھوٹا ہے۔ہم یہاں اس جھاڑی میں موجود ہیں )۔
other sourceWords of another person or source
آواز سن کر وہ لوگ جنگل میں گھس گئے اور کچھ مویشیوں کوہانکتے ہوئے حضرت سعد کے پاس لے گئے۔ اسلامی لشکر کو جب یہ قصہ معلوم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اس کو خدا کی ایک کھلی ہوئی امداد سمجھا۔ مگر، جیسا کہ ایک مورخ نےلکھا ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیل نے یہ جملہ کہا کہ ’’ہم یہاں ہیں ‘‘ (والثور إن لم يكن قد تلفظ بحروف يكذّب بها الراعي)،بلکہ یہ اس کی عام آواز میں ایک ڈکا ر تھی۔ اوراس ڈکار سے مسلمانوں نےسمجھا کہ یہاں مویشی موجود ہیں (الفخري في الآداب السلطانية، صفحہ 84)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it