← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
دعوت کی زبان
Urdu · 10 min
دعوت اسلامی کے بنیادی نکات، منطقی طور پر، اگر چہ اتنے متعین ہیں کہ وہ انتہائی یکسانیت کے ساتھ شمار کیے جاسکتے ہیں ۔ مگردعوت کے کلمات جب داعی کی زبان سے نکلتے ہیں تو اس میں ایک اورچیز شامل ہوجاتی ہے، اور وہ داعی کی اپنی ذات ہے۔ یہ اضافہ دعوت کو ایک متعین مضمون کی ریکا رڈنگ کے بجائے اس کو ایک ایسا زندہ عمل بنا دیتاہے۔ جو با عتبار حقیقت ایک ہونے کے با وجود اتنی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے جس کی کوئی لگی بندھی فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔ داعی کے سینے میں خوف خدا سے لرزتا ہو ادل، مدعو کے ایمان کے لیے بچوں کی سی معصوم اور بے قرار تمنا، یہ جذبہ کہ اگر میں خدا کے بندوں کو خدا کے قریب کر سکوں تو خدا مجھ سے خوش ہو جائے گا، یہ چیزیں نہ صرف کلمات دعوت میں کیفیت کا اضافہ کرتی ہیں بلکہ اس کو با عتبار ظاہر انتہائی متنوع بھی بنا دیتی ہیں۔ کیوں کہ مدعو کو متاثر کرنے کا پُر شوق جذبہ اس کو مجبور کرتا رہتا ہے کہ ہر ایک کے ذہن کی مکمل رعایت کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی بات رکھے۔
پیغمبر اسلام کی زندگی میں یہ چیز کامل درجہ میں نظر آتی ہے۔ آپ شب و روز دعوت پہنچانے میں مشغول رہتے تھے۔ مگر آپ کا طریقہ یہ نہ تھا کہ کچھ مقرر الفاظ کو ہر ایک کے سامنے دہر ادیا کریں، بلکہ مخاطب کی رعایت کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی بات رکھتے تھے۔
مکہ کے ابتدائی زمانہ میں ایک بار آپ نے ابو سفیان اور ان کی بیوی ہند کو دعوت دی۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے حسب ذیل الفاظ کہے
hadithQuotes a hadith
يَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَيَا هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ، وَاللهِ لَتَمُوتُنَّ ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ، ثُمَّ لَيَدْخُلَنَّ الْمُحْسِنُ الْجَنَّةَ، وَالْمُسِيءُ النَّارَ، وَإِنَّ مَا أَقُولُ لَكُمْ حَقٌّ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 6615)۔ یعنی، اے ابو سفیان اور اے ہند ! خد ا کی قسم تم کو ضرور مرنا ہے۔ اس کے بعد تم دو بارہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر جو بھلا ہوگا جنت میں داخل ہوگا اور جو برا ہو گا جہنم میں جائے گا اور میں جو کچھ کہہ رہا ہوں حق کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن خزیمہ نے نقل کیا ہے کہ مکہ کے ایک بزرگ حصین سے آپ کی گفتگو اس طرح ہوئی
other sourceWords of another person or source
يَا حُصَيْنُ، كَمْ إِلَهًا تَعْبُدُ الْيَوْمَ؟ قَالَسَبْعَةً فِي الْأَرْضِ، وَإِلَهًا فِي السَّمَاءِ، قَالَفَإِذَا أَصَابَكَ الضُّرُّ مَنْ تَدْعُو؟ قَالَالَّذِي فِي السَّمَاءِ، قَالَفَإِذَا هَلَکَ الْمَالُ مَنْ تَدْعُو؟ قَالَالَّذِي فِي السَّمَاءِ، قَالَفَيَسْتَجِيبُ لَك وَحْدَهُ، وَتُشْرِكُهُمْ مَعَهُ؟(التوحید لابن خزیمہ، جلد1، صفحہ 277)۔یعنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حصین ! کتنے معبودوں کی پرستش کرتے ہو۔ حصین نےکہا سات کی زمین میں اور ایک جو آسمان پر ہے۔ آپ نے فرمایا۔ جب مصیبت آئے تو کس کو پکارتے ہو۔ حصین نےکہا آسمان والے کو۔ آپ نے فرمایا جب مال پر تباہی آئے تو کس کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا آسمان والے کو۔ آپ نے فرمایا وہ اللہ تو تنہا تمہاری فریاد رسی کرتاہے اور تم اس کے ساتھ شریک کرتے ہو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
امام احمد نے ابو امامہ سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عبسہ السلمي آپ کے پاس آیا، اور دریافت کیا کہ خدا نے آپ کو کیا چیز دے کر بھیجا ہے ( بِمَاذَا أَرْسَلكَ) آپ نے فرمایا
hadithQuotes a hadith
بِأَنْ تُوصَلَ الْأَرْحَامُ، وَتُحْقَنَ الدِّمَاءُ، وَتُؤَمَّنَ السُّبُلُ، وَتُكَسَّرَ الْأَوْثَانُ، وَيُعْبَدَاللهُ وَحْدَهُ لَا يُشْرَك بِهِ شَيْءٌ(مسند احمد، حدیث نمبر17016)۔ یعنی، یہ کہ صلہ رحمی کی جائے۔ قتل ناحق سے بچاجائے۔ راستوں میں امن رکھا جائے۔ بتوں کو توڑا جائے۔ صرف ایک خدا کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مدینہ پہنچنے کے بعد اہل نجران کو آپ نے دعوتی مکتوب روانہ کیا تو اس کے الفاظ یہ تھے
فَإِنِّي أَدْعُوكُمْ إِلَى عِبَادَةِ اللهِ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ، وَأَدْعُوكُمْ إِلَى وِلَايَةِ اللهِ مِنْ وِلَايَةِ الْعِبَادِ(البدایۃ و النہایۃ، جلد5، صفحہ 53)۔ یعنی،میں تم کو بندوں کی عبادت سے خد ا کی عبادت کی طرف بلاتا ہوں۔ بندوں کی ولایت سے خدا کی ولایت کی طرف بلاتاہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک مستقل اور اہم ترین تبلیغ کا ذريعه خود قرآن تھا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص ملتا تو اس کو قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناتے۔ روایتوں میں اکثر اس قسم کے الفاظ آتے ہیںثُمَّ ذَكَرَ الْإِسْلَامَ، وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ(مسند احمد، حدیث نمبر 23619)، وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الإِسْلامَ وَتَلا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ (الطبقات الکبریٰ، جلد1، صفحہ170)۔ قرآن کی کشش عربوں کے لیے اتنی حیرت انگیز تھی کہ اسلام کے بعض کٹر مخالفین بھی راتوں کو چھپ کر آپ کے مکان کے پاس آتے اور آپ قرآن پڑھ رہے ہوتے تو دیوار سے لگ کراسے سنتے۔ قرآ ن کا آسمانی ادب عربوں کو بے پناہ طور پر متاثر کرتاتھا۔ ولید بن مغیرہ جب قریش کا نمائندہ بن کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے اس کو قرآن کے حصے پڑھ کر سنائے۔اس سے وہ اتنا مرعوب ہوا کہ واپس جاکر قریش سے کہا یہ تو اتنا بلند کلام ہے کہ دوسرے تمام کلام اس کے آگے پست ہو جاتے ہیں ( وَإِنَّهُ لَيَعْلُو وَمَايُعْلَى، وَإِنَّهُ لَيُحَطِّمُ مَا تَحْتَهُ )شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 133۔تبلیغ اسلام کے لیے قرآن سنانا اس زمانہ میں ایک عام طریقہ بن گیا تھا۔ مصعب بن عمیرجب مبلّغ کی حیثیت سے مدینہ بھیجےگئے تو ان کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں سے باتیں کرتے اور قرآن سناتے (يُحَدِّثُهُمْ وَيَقُصُّ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ )قرآن سنانے کی وجہ سے ان کا نام مقری پڑگیا تھا (وَكَانَ يُدْعَى الْمُقْرِئَ) ۔ المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 849۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مکہ میں آپ کی دعوت انتہائی سنجیدہ اور علمی انداز میں قرآن کے اعلیٰ ادب کے زیر سايه چل رہی تھی۔ دوسری طرف مخالفین کے پاس سب وشتم کے سوا اور کچھ نہ تھا، یہاں تک کہ مکہ کےسنجیدہ حلقوں میں کہا جانے لگا کہ محمد کے مخالفین کے پاس محمد کے جواب میں کوئی ٹھوس بات نہیں ہے۔ مکہ کے اعیان و اشراف نے ایک خصوصی اجتماع میں آپ کو بلاکر آپ سے بات کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس کی وجہ ابن ہشام کی روایت کے مطابق یہ تھی کہ وہ اپنی قوم کےسامنے بری الذمہ ہو جائیں (ابْعَثُوا إلَى مُحَمَّدٍ فَكَلِّمُوهُ وَخَاصِمُوهُ حَتَّى تُعْذِرُوا فِيهِ) سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ295۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it