Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

پیغمبرانہ طریق کار

Urdu · 4 min

پیغمبر انہ طریق کار

اسلام کا آغاز 610ء میںہوا جب کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم( 570-632ء)پر پہلی وحی اتری۔ اس وقت آپ ساری دنیا میں تنہا مومن و مسلم تھے۔ 622ء میں آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے اور وہاں پہلی اسلامی مملکت قائم کی۔ اس وقت یہ اسلامی مملکت ایک چھوٹے سے شہر کے صرف چند حصوں پر مشتمل تھی۔ کیونکہ مدینہ کا بیشتر حصّہ یہودیوں یا اب تک اسلام نہ لائے ہوئے عربوں کے قبضہ میں تھا۔ مگر اس کے گیارہ سال بعد جب پیغمبر اسلام کی وفات ہوئی تو اسلامی مملکت تقریباً دس لاکھ مربع میل (پورے عرب اور جنوبی فلسطین) پر پھیل چکی تھی۔ اس کے بعد سوبرس سے بھی کم عرصہ میں اسلام ایک طرف شمالی افریقہ کے راستے سے اسپین اور دوسری طرف ایران کے راستے سے چین کی سرحدوں تک جا پہنچا۔ مشرقی یورپ میں اسلام کی پیش قدمی کی آخری حد بوڈاپسٹ (ہنگری) تھی جہاں آج بھی دریائے ڈانوب(Danube River) کے کنارے ’’گل بابا‘‘ کا ترکی طرز کا مزار نشانی کا کام دے رہا ہے۔ فرانس کے بعض گر جاؤں کے مناروں میں ایسے پتھر لگے ہوئے ہیں جن پر عربی عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ آٹھویں صدی عیسوی کی یادگار ہے جب کہ فرانس کا جنوبی علاقہ خلیفہ دمشق کا یورپین صوبہ تھا۔ پیغمبر عربی کی امت نے شتر بانی کے مقام سے آغاز کر کے ہجرت کے صرف دو سو برس بعد یہ حیثیت حاصل کرلی تھی کہ وہ دنیا کے امام بن گئے۔ ایران کے اصطخر، مصر کےرميسس اور یورپ کے روم کی جگہ اب دنیا کا فکری و تمدنی مرکز بغداد تھا۔

یہ شان دار کا میابی ایک انتہائی سادہ پروگرام کے ذریعہ حاصل ہوئی جو قرآن کے لفظوں میں حسب ذیل تھا

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِر، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ، وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِر، وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (74:1-7)۔ یعنی، اے کپڑا اوڑھنے والے اٹھ، لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بول۔ اور اپنے اخلاق کو اچھا بنا۔ اور گندی باتوں کو چھوڑ دے اور ایسا نہ کر کہ احسان کرے اور بدلہ چاہے اور اپنے رب کے لیے صبر کر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس پروگرام کا خلاصہ کریں تو اس کے صرف تین نکات قرار پائیں گے

1۔ ذاتی اصلاح، اس طرح کہ خدا کی عبادت کی جائے، اپنے اخلاق کو درست کیا جائے اور ہر قسم کے برے کاموں کو چھوڑ دیا جائے۔

2۔ انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جائے کہ وہ ایک خدا کا بندہ ہے اور مرنے کے بعد اسے خدا کے سامنے حاضر ہوناہے۔

3۔ اپنی اصلاح اور دوسروں کو آگاہی دینے کی اس جدو جہد میں جو مشکلات ومصائب پیش آئیں ان پر صبر کرتے ہوئے خدا کے فیصلہ کا انتظار کیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content