Maulana Wahiduddin Khan
25 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

اندرونی طاقت

Urdu · 25 min

اسلامی جدوجہد اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک ذاتی جد وجہد ہے۔ ایک بندۂ مومن کو جو چیز متحرک کرتی ہے وہ تمام تریہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کے یہاں نجات حاصل کر سکے۔ اسلام جب کسی کے دل میں حقیقی طور پر جگہ کرتا ہے تو اس کے تمام جذبات اس ایک سوال پر مرکوز ہو جاتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے رب کی رحمت و مغفرت میں حصہ دار بنے۔ وہ اپنے خیالات، عقائد، اخلاق، اعمال اور زندگی کی تمام سرگرمیوں کو ایسے رخ پر ڈالنے کے لیے فکر مند ہو جاتا ہے جو اس کو آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچا سکیں ۔ وہ دوسروں کو اسلام کی طرف بلانے سے پہلے خود اول المسلمین بنتا ہے

قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ (6:14)۔ یعنی، کہو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا اسلام لانے والا بنوں۔

Qur'anQuotes the Qur'an

اول المسلمین بننا، با عتبار محرک، ایک انتہائی انفرادی واقعہ ہے۔ مگر با عتبار نتائج وہ وسیع ترین اجتماعی واقعہ بن جاتاہے۔ یہ گویا اپنے اندر آتش فشاں کی تعمیر کرنا ہے جو بظاہر نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے مگرجب پھٹتا ہےتو سارے ماحول بلکہ سارے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ قرآن کے نزول کی یہ ترتیب کہ ابتداء ً عرصہ تک وہ سورتیں اترتی رہیں جن میں اندرونی اصلاح پر زور دیا گیا تھا، بیرونی اصلاح سے متعلق احکام بعد کو اترے، اس کی توجیہ کرتے ہوئے محمدمارماڈیوک پکتھال (1875-1936ء)نے اپنے ترجمہ قرآن کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ اس کے اندر ایک گہری معنویت ہے اور وہ یہ کہ پیغمبر کا الہام اندرونی چیزوں سے شروع ہوکر بیرونی چیزوں کی طرف آتاہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The inspiration of the Prophet progressed from inmost things to outward things.

اکثر لوگ عمل کا مطلب یہ سمجھتے ہیںکہ خارجی دنیا کے خلاف یورش شروع کردی جائے۔ مگر زیادہ گہراعمل یہ ہے کہ خود اپنے اندرون کو اتنا طاقت ور بنایا جائے کہ جب وہ پھٹے تو کوئی چیز اس کی زدسے محفوظ نہ رہ سکے۔ اندرون کو طاقت ور بنانے سے مراد کوئی روحانی ورزش یا ’’عملیات‘‘ نہیں ہیں بلکہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ایمان اور عمل صالح او ر صبر کہا گیا ہے۔ اپنی روح اور اپنے قلب و دماغ کی گہرائیوں میں خدائی حقیقتوں کو اتارنا، اپنے آپ کو حسیاتی طور پر زیادہ سے زیادہ عالم بالا سے جوڑنا، اپنے کومکمل طور پر اس قالب میں ڈھال لینا کہ ’’میرا کسی کے اوپر کوئی حق نہیں ، میری اس دنیا میںصرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں ، راہ خدا میں جو کچھ پیش آئے، اس کو خاموشی سے اپنے اوپر لیتے رہنا، بجائے اس کے کہ اس کو دوسروں کے اوپر لوٹانے کی کوشش کی جائے۔ بس یہی وہ چیزیں ہیں جن کا نام اپنے اندرون کو طاقت ور بنانا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں کا انتہائی مکمل نمونہ بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت اتنی بے پناہ ہوگئی کہ جو آپ کی زد میں آیا مسخّر ہو کر رہ گیا۔ آپ کا یہ اندرونی طوفان جب پھٹا تووہ اتنا بے پناہ ثابت ہوا کہ تقریباً ساری آباد دنیا نے اس کے اثرات محسوس کیے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ہندی کے ادیب سردار پورن سنگھ (1882-1931ء) کے مقالہ کا عنوان ہے ’’ویرتا‘‘۔ اس میں انہوں نے پیغمبر اسلام کو تاریخ کا سب سے بڑا ویر (بہادر) بتایا ہے جو ’’عرب کے ریگستان میں بارود کی طرح آگ لگاگئے۔ ’’کُل پر تھوی بھے سے کانپ اٹھی ‘‘ جو لوگ ان کے سامنے آئے وے ان کے داس بن گئے۔ ‘‘ وہ ویرتا کیا ہے جو کسی کو اتنا بل والا بنا دیتی ہے، انہیں کے الفاظ میں پڑھیے

other sourceWords of another person or source

’’اپنے آپ کو ہرگھڑی ہر پل مہان سے بھی مہمان بنانے کا نام ویرتا ہے، کا یر پرش کہتے ہیں ’’آگے بڑھے چلو ‘‘ ویر کہتے ہیں ’’پیچھے ہٹ چلو ‘‘ کا یر کہتے ہیں ’’اٹھاؤ تلوار ‘‘ ویر کہتے ہیں ’’سر آگے کرو ‘‘ ۔ویروں کی پالیسی بل کو ہر طرح اکٹھا کرنے اور بڑھانے کی ہوتی ہے۔ویر تو اپنے اندر ہی اندر مارچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ہر دے آکاش کے کیندر میں کھڑے ہو کر وے کل سنسار کو ہلاسکتے ہیں ۔ ویروہ ویر کیا جو ٹِن کے برتن کی طرح جھٹ گرم اور جھٹ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ صدیوں نیچے آگ جلتی رہے تو بھی شاید ہی ویرگرم ہو اور ہزاروں ورش برف اسی پر جمتی رہےتو بھی کیا مجال جو اس کی بانی تک ٹھنڈی ہو۔ لوگ کہتے ہیں ’’کام کرو،کام کرو‘‘، پر ہمیں تو یہ باتیں نر ر تھک معلوم ہوتی ہیں۔ پہلےکام کرنے کابل پیدا کرو، اپنے اندر ہی اندر بر کچھ کی طرح بڑھو۔ دنیا کسی کوڑے کے ڈھیر پر نہیں کھڑی کہ جس مرغ نے بانگ دی وہی سدھ ہو گیا۔ دنیا دھرم اوراٹل آدھیاتمک نیموں پر کھڑی ہے، جو اپنے آپ کو ان نیموں کےساتھ ابھید کر کے کھڑا ہوا وہ وجئی ہوگیا ‘‘ (نبند ھ چینیکا، مرتبہ مہندر چترویدی ) ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس ’’ویرتا‘‘ یا اندرونی طاقت کا راز پر اسرار عملیات یا روحانی ورزشیں نہیں ہیں جو کونوں یا گوشوں میں بیٹھ کر کی جاتی ہیں ۔ ’’عملیات ‘ ‘ کے ذریعہ جو طاقت حاصل ہوتی ہےوہ جمادات وحیوانات کی دنیا میں کچھ چمتکار دکھاسکتی ہے۔مگر زندگی کے مقابلوں میں وہ ایک دن بھی انسان کے کام نہیںآتی۔ جب کہ حقیقی طاقت وہی ہے جو زندگی کے مقابلوں میں آدمی کو فاتح بنائے۔

اندرونی طاقت دراصل اس بات کا نام ہے کہ آدمی اپنے آپ کو نفسانی عواطف سے آزاد کر کے اس بلند تر ذہنی سطح پر پہنچادے جہاں اس کے فیصلوں میں دوسرے اعتبارات considerations))کی کار فرمائی ختم ہوجائے اور حدیث کے الفاظ میں وہ ’’أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ ‘‘ (تفسیر الرازی، جلد1، صفحہ119)کا مقام حاصل کر لے۔ ضد، غصّہ، طمع، نفرت، جاہ طلبی، خویش پروری، ذاتی مفاد اور اس قسم کےدوسرے میلانات کا ہالہ اس کے گرد اس کی رایوں اور اقدامات کو متاثر کرنے کے لیے باقی نہ رہے۔ ایسا شخص بے پناہ قوت تسخیر کا حامل ہو جاتا ہے۔ وہ ہر جانچ میں پورا اتر تا ہے اس کے اقدامات ہر مقابلے میں لو ہےکا ہتھوڑا ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کے فیصلوں میں مسئلہ کے تمام متوقع او ر غیر متوقع پہلوؤں کی رعایت شامل ہوتی ہے۔ مخالفتیں اس کی صداقت اورصلاحیت کو اور زیادہ نکھارنے والی بن جاتی ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں ہم فتح مکہ کے فوراً بعد پیش آنے والی ایک صورت حال کا ذکر کریں گے جس نے بیک وقت کئی مسئلے پیدا کیے مگر پیغمبر اسلام کی ویرتا یا آپ کی اندرونی طاقت ہرایک کو حل کرتی چلی گئی۔ اس اندرونی طاقت کا اظہار کہیں عفو کی صورت میں ہوا، کہیں عالی حوصلگی اور اعتماد علی اللہ کی صورت میں ۔ کہیں آپ اس لیے کامیاب رہے کہ آپ کو وہ نگاہ حاصل ہوگئی تھی جو ہمیشہ مستقبل کو دیکھتی تھی۔ کہیں آپ کے رویہ نے یہ ثابت کیا کہ جو اپنے کو بے غرض بنا لے وہ اتنا بلند مرتبه ہوجاتا ہے کہ پھر اسےکوئی زیر نہیں کر سکتا۔

ہجرت کے آٹھویں سال جب آپ نے مکہ پر قبضہ کیا تو قریش کےکچھ لوگ بھاگ کر ہوازن و ثقیف کے قبائل میںپہنچے اور ان کو اکسا کر ایک نئی لڑائی کے لیے آمادہ کر دیا۔ وہ لوگ اپنی تمام قبائلی شاخوں کو اکٹھاکرکے 20ہزار کی تعداد میں جمع ہو گئے۔ حنین میں مقابلہ ہوا۔ جنگ کے آغاز ہی میں ہوازن کے تیر اندازوں نے جو گھاٹی میں چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ اسلامی لشکر پر اتنی شدید تیر اندازی کی کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑگئے اور 12ہزار لشکر میںگیارہ ہزار سے بھی زیادہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ تاہم تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ابتدائی شکست کے بعد بالآخر مسلمانوں کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کا راز پیغمبر کا وہی اندرون تھا، جو اس نازک موقع پر سکینت قلب (التوبہ، 9:26) اور اعتماد علی اللہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور اس نے دفعتاً بازی لوٹادی۔ آپ نے دشمنوں کےعین نرغہ میں کھڑے ہوکر یہ رجز پڑھا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبْ

hadithQuotes a hadith

آپ نےپکار کر کہا يَا أنصار الله وأنصار رَسُولِهِ! أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ صَابِرٌ (اے اللہ کے انصار، اور اس کے رسول کے انصار، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ثابت قدم ہوں) حضرت عباس کی آواز بہت بلند تھی، آپ کے حکم سے انہوں نےچلاکر کہا ’’اےشجرۃ الرضوان کےسایہ میں بیٹھ کر موت کی بیعت کرنے والو، کہاں ہو‘‘ (مغازی الواقدی، جلد3، صفحہ897-99)۔ جب لوگوں نےدیکھا کہ ان کا سردار اپنی جگہ قائم ہے اور دشمنوں کی یلغار آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکی تو انہیں یقین ہو گیا کہ خدا کی مدد آپ کے ساتھ ہے۔ وہ نئے عزم کےساتھ میدان جنگ کی طرف لوٹ پڑے۔ حتٰی کہ جس کے اونٹ نے مڑنے میں دیر کی، وہ اپنی سواری سے کو د کر پیدل آپ کی طرف دوڑ پڑا۔ اب جنگ کا نقشہ دوسراتھا۔ فریق مخالف کی صفوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور کثیر مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا، جس میں 24ہزار اونٹ، 40 ہزار بکریاں، 4ہزار اوقیہ چاندی اور 6ہزار قیدی تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس فتح کے باجود مسئلہ نےدوبارہ نئی شدید تر شکل اختیار کرلی۔ قبیلہ ثقیف، جو قریش کے بعد عرب کادوسرا سب سے زیادہ زور آور قبیلہ تھا اور عرب کے واحد محصور شہر کا مالک تھا۔ طائف میں قلعہ بند ہو گیا۔ تین ہفتہ کے محاصرہ میں انہوں نے مسلمانوں کو اس سے زیادہ جانی نقصان پہنچایا جو حنین کی جنگ میں انہیں پہنچا تھا۔ ان کی سرکشی کا یہ عالم تھاکہ اس دوران طائف کاایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لایا۔ یہ عر وہ بن مسعود ثقفی تھے جو اپنے قبیلہ میں ’’کنواری لڑکیوں کی طرح محبوب ‘‘تھے۔ مگر جب وہ اسلام قبول کرکےطائف گئے تو طائف والوں نے انہیں تیر مار مار کر ہلاک کر دیا۔

یہاں آپ کی اندرونی طاقت ایک اور شکل میں ظاہر ہوئی۔ جب محاصرہ شدید ہو گیا۔ تو حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ طائف والوں کے لیے ہلاکت کی دعا فرمائیں۔ مگر آپ نے ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔ آپ نے غصہ اور انتقام کے جذبہ کے تحت ان کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کی۔ تین ہفتہ کے بعد فوج کو حکم دیا کہ واپس چلو۔ اب آپ مقام جعرانہ پہنچے جہاں غزوہ حنین کا مال غنیمت جمع تھا۔ یہاںآپ کے لیے موقع تھا کہ ثقیف کی سرکشی کا بدلہ ان کے حلیف ہوازن سے لیں ۔ مگر اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ قبیلہ ہوازن کے بعض لوگوں کی ایک درخواست پر ان کے تمام کے تمام چھ ہزار قیدی چھوڑدیے اور انہیں کپڑے اور زادراہ کےساتھ ان کے گھروں کو رخصت کیا۔ فیاضی اوروسعت ظرف کا یہ معاملہ اپنے اثرات پیدا كیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہو ازن کے لوگ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس واقعہ کا اہل طائف پر گہرا اثر پڑا۔ ہوازن اور ثقیف ایک ہی بڑے قبیلہ کی شاخیں تھیں۔ ثقیف کو جب ہوازن کے اسلام کی خبر پہنچی تو ان کے لیے یہ واقعہ محاصرہ سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہوا۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کا دایاں بازو ٹوٹ چکا ہے اور اب وہ مقابلہ آرائی میںکامیاب نہیں ہوسکتے۔

إنَّهُمْ ائْتَمَرُوا بَيْنَهُمْ، وَرَأَوْا أَنَّهُ لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِحَرْبِ مَنْ حَوْلَهُمْ مِنْ الْعَرَبِ وَقَدْ بَايَعُوا وَأَسْلَمُوا (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ538)۔ یعنی، پھر قبیلہ ثقیف نے آپس میں مشورہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ارد گرد کے عربوں سے لڑنے کی ان میں طاقت نہیں۔ اور وہ بیعت ہو چکے اور اسلام قبول کر چکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہجرت کے نویں سال (630ء) اہل طائف کا وفد مدینہ حاضر ہوا۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کی پیش کش کی۔مگر اسی کے ساتھ اپنے لیے عجیب عجیب شرطیں تجویز کیں۔ ’’ان کی سر زمین کو فوجی گزر گاہ نہ بنایا جائے گا، وہ عشر نہ دیں گے۔ جہاد میں شرکت نہ کریں گے، نماز نہ پڑھیں گے، ان کے اوپر ان کے علاوہ کسی کو حاکم نہ بنایا جائے گا۔‘‘ آپ نے فرمایا تمہاری سب شرطیں منظور ہیں۔ مگر اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع نہ ہو (لَا خَيْرَ فِي دِينٍ لَا رُكُوعَ فِيهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 17913۔آپ کے اصحاب کو ان تحفظات کے ساتھ کسی کو مسلمان کرنا عجیب معلوم ہوا، مگر آپ کی نظر یں دور تک مستقبل کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ نے یہ کہہ کر انہیں مطمئن کر دیا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سَيَتَصَدَّقُونَ، وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا(سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 3025) یعنی،جب یہ لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے تو اس کے بعد صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام احمد نے حضرت انس سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی قبول اسلام کےلیے کسی چیز کا سوال کیا گیا۔ آپ نے ضرور اسے وہ چیزدی(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2312)۔ آپ کےپاس ایک آدمی آیا۔ آپ نے اس کےلیے اتنی کثیر بکریوں کے دینے کا حکم فرمایا جو دو پہاڑوں کے درمیان حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں، وہ آدمی اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہا اے میری قوم تم لوگ اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد اتنا زیادہ دیتے ہیں کہ انہیں محتاجی کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ راوی کہتے ہیں 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ - أَوْ أَعَزَّ عَلَيْهِ - مِنَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا (مسند احمد، حدیث نمبر 14029)۔ يعني، آدمی آپ کے پاس آتاتھا اور اس کا مقصود صرف دنیا ہوتی تھی۔ مگر اس پر شام نہیں گزرتی تھی کہ دین اس کے لیےدنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، اس سے زیادہ محبوب ہوجاتاتھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہوازن و ثقیف کا مسئلہ حل ہوا تھا کہ اسی درمیان ایک اور شدید تر مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ہوازن کی فتح کے بعد آپ کو جو کثیر اموال غنیمت حاصل ہوئے تھے، ان کو آپ نے نہایت فیاضی کے ساتھ مکّہ کے تازہ نو مسلموں میں تقسیم کیا۔ یہ چیز انصار کے بہت سے لوگوں پرشاق گزری۔ انہوں نے سمجھا کہ مکہ پہنچ کر پیغمبر کےا وپر ’’قرشیت ‘‘ غالب آگئی اور انہوں نے اپنے بھائی بندوں کو خوش کرنے کے لیے سارا مال انہیں دے دیا۔ ایک انتہائی نازک مسئلہ تھا۔ مگر آپ نےجو کچھ کیاتھا، سطحی عواطف سے بلند ہو کر کیاتھا۔ اس لیے آپ کے پاس اس کے جواب میں کہنے کے لیے نہایت مؤثر چیز موجود تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ نے انصار کے تمام لوگوں کو ایک احاطہ میں جمع کیا اور تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا ’’اے انصار یہ کیا باتیں ہیں جو میرے کانوں تک پہنچ رہی ہیں ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ تم گمراہ تھے، میرے ذریعہ سے اللہ نے تمہیں ہدایت دی۔ تم محتاج تھے، میرے ذریعہ اللہ نےتم کو غنی بنایا۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے میرے ذریعہ تم کو متحد کیا۔ ‘‘لوگوں نے کہا ’’ہاں‘‘ آپ نے دو بارہ فرمایا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

أَمَا وَاَللهِ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ، فَلَصَدَقْتُمْ وَلَصُدِّقْتُمْأَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاك، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاك، وَعَائِلًا فَآسَيْنَاك . أَوَجَدْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِكُمْ فِي لُعَاعَةٍ مِنْ الدُّنْيَا تَأَلَّفْتُ بِهَا قَوْمًا لِيُسْلِمُوا، وَوَكَلْتُكُمْ إلَى إسْلَامِكُمْ، أَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَرْجِعُوا بِرَسُولِ اللهِ إِلَى رحالكُمْ؟(خدا کی قسم تم چاہو تو کہہ سکتے ہو اور تم کہو گے تو سچ کہو گے کہ آپ ہمارے پاس نکالے ہوئے آئے تھے، ہم نے آپ کو پناہ دی۔ آپ محتاج آئے تھے، ہم نے آپ کی غم خواری کی۔ آپ خوف زدہ آئے تھے ہم نے آپ کو امن دیا۔ آپ بےیا ر و مدد گار آئےتھے ہم نے آپ کی مدد کی — اے گر وہِ انصار ! کیا تم دنیا کی معمولی چیز کے لیے بد دل ہو گئے جس سے میں نے نو مسلموں کی تالیف قلب کی ہے اور تم کو اس چیز کا وکیل بنایا ہے جس کو اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے یعنی اسلام۔ اے گر وہ انصار ! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکری لے کر اپنی منزلوں کی طرف جائیں اور تم اللہ کےرسول کو لے کر اپنی منزل کی طرف جاؤ)۔ یہ تقریر سن کر سارے لوگ رو پڑے۔ انہوں نے چیخ کر کہا ہم اللہ کے رسول کے ساتھ راضی ہیں ‘‘(سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ499-500)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس طرح آپ کی اندرونی طاقت ایک ایسی شاہ کلید بن گئی کہ جو بنددروازہ بھی اس کے سامنے آیا، اس کا قفل اس نے کھول دیا۔ آپ کی شخصیت کےسیلاب کے آگے کوئی چیز ٹھہر نہ سکی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content