Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

حالات سے بلند ہو کر

Urdu · 11 min

قدیم عرب کا تصور کیجیے۔ جنوب میں بحر عرب اور مشرق و مغرب میں خلیج فارس اور بحر احمر کے درمیان بننے والا یہ جزیرہ نما ز بردست سیاسی مسائل سے دو چار تھا۔ عرب کے مشرق میں ایران تھا جہاں طاقت ور سا سانی سلطنت قائم تھی۔ شمال میں رومی یا باز نطینی سلطنت تھی جو دور قدیم کی سب سے بڑی شہنشا ہیت مانی جاتی ہے۔ ان دونوں سلطنتوں نے عرب جغرافیہ کو اپنی سیاست کا اکھاڑہ بنا رکھا تھا۔ عرب کے بہترین زر خیز علاقے براہ راست ان کے قبضے میں تھے۔ عراق پر ایرانیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔شام اور اردن اور فلسطین اور لبنان رومی سلطنت کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ عرب کے مشرق و مغرب میں اگرچہ خلیج فارس اور بحراحمر کی قدرتی آبی دیوار یں تھیں مگر یہ حصے بھی پڑوس کی طاقت و ر شہنشاہیتوں کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہ تھے۔ مشرق سے ایران کے بحری بیڑے خلیج عمان کو عبور کر کے نہایت آسانی سے عرب کے علاقے میں گھس آتے تھے۔ مغرب میں بحرا حمر کے اُس پار کے دونوں ممالک مصر اور حبشہ رومی شہنشا ہیت کے ماتحت تھے۔ اور وہ ان کے ذریعے سے ہر وقت عرب کے بظاہر اس محفوظ حصہ میں دخل اندازی کر سکتے تھے۔

عرب کے اندرونی علاقہ میں قبائلی سرداروں کی ریاستیں قائم تھیں۔ مگر رومیوں اور ایرانیوں کے عمومی تسلط کی وجہ سے ان کے لیے بھی زندگی کی صورت یہی تھی کہ ان بیرونی شہنشا ہیتوں کی ماتحتی قبول کر کے اپنا سیاسی جزیرہ بنائیں۔ شمال میں شام کی سرحدوں سے ملی ہوئی امارت غسا سنہ عربیہ تھی جو رومی سلطنت کے تابع تھی اور بعثت نبوی کے زمانہ میں اس کا امیر حارث بن ابی شمر غسانی تھا۔ اسی طرح امارت بصری تھی۔ وہ بھی رومی شہنشا ہیت کے زیر اثر تھی۔ یہاں رومی تمدن چھا یا ہوا تھا اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد مسیحی ہو گئی تھی۔

عراق کی سرحد پر امارت حیرہ عربیہ تھی جو ایران کے تابع تھی۔ خلیج فارس کے کنارے کنارے متعد د عرب ریاستیں تھیں۔ وہ سب ایران کے زیر اثر تھیں،مثلاً امارت بحرین، جس کا امیر منذربن ساوی تھا۔ یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد ایرانی تہذیب کے اثر سے مجوسی ہو چکی تھی۔ امارت عمان، جس کے امیر جلندی کے دو لڑ کے جیفر اور عبد تھے۔ امارت یمامہ، جس کا امیر ہو دہ بن علي الحنفی تھا۔ رومیوں اور ایرانیوں میں سیاسی رقابت کی وجہ سے اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ ان میں رومیوں کی ماتحت عرب ریاستیں (مثلا غساسنہ) روم کا ساتھ دیتی تھیں اور ایران کی ماتحت عرب ریاستیں (مثلاً حیرہ) ایران کا۔ اس طرح ایران و روم کی باہمی لڑائیوں میں عرب خون بھی خوب بہتا تھا۔

قدیم یمن، موجودہ یمن سے بہت زیادہ و سیع تھا۔ اس میں مختلف قبائل کی حکومتیں قائم تھیں۔ سب سے بڑا یمنی علاقہ وہ تھا جس کا دارالسلطنت صنعا تھا۔ نجران اسی کے اندر واقع تھا۔ یمن میں بیرونی نفوذ کا آغاز غالباً 343ء سے ہوتا ہےجب کہ سلطنت روم نے یہاں اپنے عیسائی مبلغین بھیجنے شروع کیے۔ ان عیسائی مبلغین کو نجران میں کامیابی ہوئی اور وہاں کے بیشتر لوگ عیسائی ہوگئے۔

اس مذہبی واقعہ میں روم کے حریف ایران کو سیاست کی بومحسوس ہوئی۔ انہوں نے سمجھا کہ اس طرح رومی شہنشاہ عرب کے جنوبی علاقہ میں نفوذ حاصل کرنا چاہتاہے۔ ایرانیوں نے اس کے توڑ کے لیے یمن کے یہودی قبائل کو ملایا جن کو رومی سلطنت نے 70 ء میں شام سے نکال دیا تھا اور وہ وہاں سے جلا وطن ہو کر یمن میں آئے تھے۔ عیسائیوں اور رومیوں کی ضد میں یہودی بہت جلد ایرانیوں کے ساتھ ہوگئے۔ یوسف ذو نو اس جو ایک عرب تھا اور پھر یہودی ہو گیا تھا ایرانیوں کی مددسے اس نے صنعاء(یمن) پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ ایک نیم آزاد عرب حکومت تھی جو ایرانیوں کے ماتحت قائم ہوئی تھی۔ یوسف ذو نواس نے یمن کی بادشاہت حاصل کرنے کے بعد عیسائیوں کو یمن سے ختم کرنے کی کوشش شروع کردی۔ حتٰی کہ 534ء میں نجران کے بہت سے عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔

اب رومیوں کی باری تھی۔ قیصر روم نےیمن میں عیسائیت کے تحفظ کے نا م پر اور حقیقتہً اپنے نفوذ کو بحال کرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ نجاشی مذہباً عیسائی تھا اور رومی حکومت کے ماتحت تھا اس نے نجاشی کو ابھار ا کہ یوسف ذو نواس سے بدلہ لے۔ نجاشی نے ایک حبشی سردار اریاط کو فوج دے کر روانہ کیا۔ اس نے مختصر جنگ کے بعد صنعا پر قبضہ کر لیا۔ ذو نو اس نے سمندر میں ڈوب کر خود کشی کرلی۔ کچھ دنوں بعد اریاط کی فوج کے ایک سردارابرہہ نے بغاوت کر کے اریاط کو قتل کر ڈالا۔ اور نجاشی کو راضی کر کے صنعاء کی حکومت کا فرمان حاصل کر لیا۔ یہی ابرہہ ہے جس نے 571ء میں کعبہ پر حملہ کیا۔ ابرہہ کے بعد اس کا بیٹا یکسوم اور اس کے بعد دوسرا بیٹا مسروق حکمراں ہوا۔

سابق ملوک یمن کی اولاد میں ایک شخص سیف بن ذی یزن تھا۔ اس کو خیال ہوا کہ اپنے ملک کو غیر عربوں کے نفوذ سے پاک کرے اوراپنی آبائی سلطنت کو دوبارہ حاصل کرے۔ اس نےیمن میں آزادی کی تحریک (حرکۃ تحریریۃ)چلائی، صرف مقامی تعاون مقصد کے حصول کے لیے نا کافی تھا۔ چنانچہ وہ ایرانی بادشاہ نوشیرواں کے پاس پہنچا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اپنی فوج سےیمن کی تحریک آزادی کی مدد کرے۔ ایرانی شہنشاہ کے لیے یہ سنہرا موقع تھا۔ اس نے ایک ایرانی سپہ سالار دھرزکی سرکردگی میں ایک لشکر یمن بھیجنے پر آماد گی ظاہر کردی۔ اس درمیان میںسیف بن ذی یزن مرگیا۔ تاہم اس کا لڑکا معدی کرب ایرانی فوج کو یمن لانے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ لوگ خلیج عمان کو عبور کر کے حضرموت کے ساحل پر اتر ے۔ وہاں سے صنعا ء پہنچے۔ معدی کرب نے ایرانی لشکر کی مدد سے حبشہ کی فوج کو شکست دےدی اور حبشیوں کو یمن سے نکال دیا۔ اب معدی کرب صنعا ء کا بادشاہ تھا تاہم ایرانی فوج بھی یہاں مقیم رہی۔ معدی کرب کے مرنے کے بعد ایرانی فوج نے صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح صنعا ء ایرانی سلطنت کا ایک سمندر پا رصوبہ بن گیا۔ جب اسلام یمن میں پہنچا ہے تو صنعا ء کے ایرانی گورنر باذان تھے جو بعد کو مسلمان ہوگئے۔

مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام کی بعثت ہوئی تو عرب کا علاقہ کس طرح ایرانی اور رومی استعمار کی شکار گاہ بناہوا تھا۔ ان حالات میں ایک مصلح کے لیے بیک وقت دوراستے کھلے ہوئے تھے۔ ایک یہ کہ وقت کے حالات سے متاثر ہو کر سا مراجی طاقتوں کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کر دی جائے۔ دوسرے یہ کہ خود اپنے آپ کو اندر اندر اتنا مضبوط بنایا جائے کہ سامراج کی عمارت معمولی کوشش سے گر پڑے۔ آپ نے اپنی مہم کے لیے پہلے طریقہ کے بجائے دوسراطریقہ اختیار کیا۔ قرآن کی سورہ نمبر 105 (الفیل) اور سورہ نمبر 106(قریش) میں ابرہہ (حاکم یمن) کے مکہ کے خلاف جار حانہ منصوبہ کا ذکر ہے۔ مگر اس کے جواب میں جس عمل کی تلقین کی گئی ہے، وہ رب کعبہ کی عبادت (قریش، 106:3) ہے۔ گویا اسلامی مزاج یہ ہے کہ سیاسی چیلنج در پیش ہو تو اس کا جواب بھی عبادتی عمل کی سطح پر تلاش کیا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content