← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
خدائی منصوبہ سے مطابقت
Urdu · 16 min
کسان کا معاملہ قدرت کےکاگ (دندانہ) میں اپنا کاگ دینے کا معاملہ ہے۔ خدا نے ہماری زمین پر فصل اگانے کے بہترین امکانات پیدا کیے ہیں۔ مگر ان امکانات کو اپنے حق میں واقعہ بنا نے کے لیے کسان کو ایک حصہ ادا کرنا پڑتاہے۔ مثال کے طور پر زمین کی سطح پر زرخیز مٹی (soil) کی تہ رکھی گئی ہے جو معلوم کائنات میں کسی بھی دوسرے مقام پر نہیں۔ مگر تمام زرخیزی کے با وجود اس مٹی سے فصل اسی وقت اُگتی ہےجب کہ اس میں نمی بھی ہو۔اس نمی کے نہ ہونے کی وجہ سے خشک علاقوں کے صحراچٹیل بیابان بن کر رہ گئے ہیں، اس حقیقت کو قدرت لاؤڈاسپیکر پر اعلان کر کے نہیں بتاتی بلکہ خاموش اشارہ کی زبان میں بتاتی ہے۔ کسان کو اسے خاموش اشارہ کی زبان میں جاننا پڑتاہے۔ چنانچہ کسان یہ کرتا ہے کہ وہ یا تو بارش سےنم ہونےوالی زمین میں اپنی فصل بوتا ہے یا آب پاشی کے ذریعہ پہلے اس میں نمی پہنچاتا ہے، پھر اپنا دانہ اس میں ڈالتا ہے۔ یہی معاملہ داعی کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عرب میں اگر چہ بہترین حالات پیدا کر دیے گئے تھے اس کے باوجود ضروری تھا کہ آپ ربانی حکمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے کام کو آگے بڑھائیں۔ اگر آپ کا منصوبہ خدائی منصوبہ کی رعایت کے بغیر چلتا تو آپ کو کبھی وہ کامیابی حاصل نہ ہوتی جو عملاً آپ کو حاصل ہوئی۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا بنیادی اصول یہ تھا کہ دعوتی عمل میں ساری اہمیت مسئلۂ آخرت کو دی جائے۔ مسئلۂ دنیا کو کسی بھی حال میں دعوت کا اِشونہ بنایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی مسئلہ انسان کا ابدی اور حقیقی مسئلہ ہے۔ دوسرے تمام مسائل وقتی اور اضافی مسئلے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آخرت کے بغیر انسان کی کامیابی بھی اتنی ہی بے معنی ہے جتنی کہ اس کی نا کامی بے معنی۔
دوسری بات یہ کہ انسانی زندگی میں ہر قسم کی کا میابی کا تعلق افراد کے کردار سے ہے۔ اور انسان کے اندر حقیقی اور مستقل کر دار صرف آخرت پر گہرے یقین ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ عقیدۂ آخرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزاد اور خود مختار نہیں ہے، بلکہ وہ ہر آن خدا کی پکڑ میں ہے۔ یہ عقیدہ آدمی سے بے راہ روی کا مزاج چھین لیتا ہے اور اس کو پابند اور ذمہ دار انسان بنا دیتاہے۔ قرآن و حدیث کو اگر خالی الذہن ہو کر پڑھا جائے تو اس میں آخرت کا مسئلہ سب سے زیادہ ابھرا ہوا مسئلہ نظر آئے گا۔ دوسرے مسئلوں کا ذکر بھی اگر چہ آتا ہے مگر وہ ضمناً ہے، نہ کہ اصلاً۔
2۔ دوسری بات یہ کہ داعی اور مدعو کے درمیان کسی بھی حال میں کوئی مادی جھگڑانہ کھڑا کیا جائے۔ مدعو کو کسی بھی حال میں فریق نہ بننے دیا جائے۔ خواہ اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس حکمت کی ایک نمایاں مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ قریش نے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ کر یہ صورت حال پیدا کر دی تھی کہ مسلم گر وہ اور غیر مسلم گروہ دونوں ایک دوسرے کے جنگی فریق بن گئے تھے۔ تمام وقت جنگ کی باتوں اور جنگ کی تیاریوں میں گزرنے لگا تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ہر مطالبہ کو مانتے ہوئے ان سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا۔ یہ معاہدہ اس قدر یک طرفہ تھا کہ بہت سے مسلمانوں نے اس کو ذلت کا معاہدہ سمجھا، مگر خدا کے نزدیک وہ فتح مبین (الفتح، 48:1) کا دروازہ تھا۔ کیونکہ اس کے ذریعہ جنگی مقابلہ آرائی کی فضا ختم ہوتی تھی اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال ہو رہاتھا۔ چنانچہ اس معاہدہ کے بعد جیسے ہی اہل عرب جنگی فریق کے بجائے مدعو کے مقام پر آئے، ان کے درمیان دعوت حق کی آواز پھیلنے لگی۔ یہاں تک کہ صرف دوسال میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دس گنابڑھ گئی۔ جو مکہ جنگ سے فتح ہوتا نظر نہ آتا تھا وہ دعوتی عمل کے ذریعہ مسخر ہو گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مدعو پر قابو پانے کے باوجود اس کے ساتھ فراخی کا سلوک کیا جائے۔ اس معاملہ کی مثالیں رسو ل اللہ کی پوری زندگی میں پھیلی ہوئی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد قریش کے تمام وہ لوگ پوری طرح آپ کے قابو میں تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ اور مسلمانوں کے ساتھ بد ترین ظلم کیے تھے۔ مگر آپ نے ماضی کے جرائم کی بنیاد پر کسی کو سزا نہ دی۔ سب کو یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ قریش کے لوگ جب بندھے ہوئے آپ کے سامنے حاضر کیے گئے تو آپ نے فرمایا اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ الطُّلَقَاءُ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ412)۔ یعنی، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ کچھ لوگوں کے بارے میں آپ نے وقتی طور پر قتل کیے جانے کا حکم دے دیا۔ مگر اس کے بعد ان میں سے بھی ہر اس شخص کو معاف کر دیا گیا جب کہ اس نے یا اس کی طرف سے کسی نے آکر آپ سے جان بخشی کی درخواست کی۔ اس قسم کے سترہ نا مزد آدمیوں میں سے صرف پانچ کو قتل کیا گیا جنہوں نے معافی نہیں مانگی تھی۔ احد کی جنگ میں وحشی بن حرب نے حضرت حمزہ کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہند بنت عتبہ نےآپ کی لاش کو لے کر اس کا مثلہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو وقتی طور پر آپ کی زبان سے نکل گیا کہ اگر اللہ نے مجھے ان کے اوپر فتح دی تو میں ان کے تین آدمیوں کا مثلہ کروں گا (لَئِنْ أَظْهَرَنِي اللهُ عَلَى قُرَيْشٍ فِي مَوْطِنٍ مِنَ الْمَوَاطِنِ لَأُمَثِّلَنَّ بِثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ)السیرۃ النبویۃ، لابن کثیر، جلد3، صفحہ79۔ فتح مکہ کے بعد آپ نے جن سترہ آدمیوں کے قتل کا حکم دیا تھا ان میں وحشی اور ہند دونوں شامل تھے۔ مگر دونوں نے جب آپ کی خدمت میں آکر معافی مانگی تو دونوں کومعاف کر دیا گیا۔ کیونکہ یہی طریقہ منصوبۂ اِلٰہی کے مطابق تھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ اصول بے حد اہم حکمت پر مبنی ہے۔ انسان پتھر نہیں ہے کہ ایک پتھر توڑ دیا جائے تو اس کے دوسرے قریبی پتھر توڑنے والے کے بارے میں کوئی رد عمل ظاہر نہ کریں۔ انسان زندہ معاشرہ کا ایک زندہ جزء ہے۔ جب بھی ایک انسان پر جا رحانہ کا رروائی کی جاتی ہےتو اس کے قریبی لوگوں میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتاہے۔ اس طرح سماج میں تخریبی کارروائیاں جنم لیتی ہیں۔ فتح کے بعد جو وقت نئی تعمیر میں لگتا وہ تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے میں صرف ہونے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد پچھلے مخالفین کو عمومی معافی دے کر آئندہ کے لیے ہر قسم کی تخریبی سر گرمیوں کا در وازہ بند کر دیا۔ مزید یہ کہ ان کی اکثر یت اسلام قبول کر کے اسلام کی طاقت کا ذریعہ بن گئی، جیسے کہ عکر مہ بن ابی جہل۔
4۔ فتح و غلبہ حاصل کرنے کے بعداجتماعی معاملات کی اصلاح کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد بازی کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا بلکہ صبر و تدریج کے ذریعہ اصلاحات کا نفاد کیا۔
مکہ کے قریش دین ابراہیمی کے وارث تھے۔ مگر انہوں نے اصل دین ابراہیمی کو بگاڑ دیا اور اس میں بہت سی بد عتیں جاری کردیں۔ مثلاً حضرت ابراہیم نے حج کو قمری مہینوں کی بنیاد پر ذی الحجہ میں قائم کیا تھا۔ قمری سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قمری مہینوں کی مطابقت موسموں کے ساتھ باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حج کبھی ایک موسم میںآتا اور کبھی دوسرے موسم میں۔ یہ صورت قریش کے تجارتی مفاد کے خلاف تھی۔ انہوں نے حج کو ہمیشہ گرمی کے موسم میں رکھنے کے لیے نسیٔ (کبیسہ) کا طریقہ اختیار کر لیا۔ وہ قمری مہینوں میں ہر سال گیارہ دن بڑھا دیتے۔ اس طرح نام اگر چہ قمری مہینوں کا ہوتا مگر عملاً اس کا سال شمسی سال کے ساتھ چلتا۔ اس کی وجہ سے تاریخیں 33سال تک کےلیے بدل جاتیں،ایک بار مہینوں کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے بعد دوبارہ 33سال پر ایسا ہوتا کہ حج ابراہیمی طریقہ کے مطابق اصل ذی الحجہ میں پڑتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مامور تھے کہ وہ قریش کی بد عتوں کو ختم کر کے حج کو دوبارہ ابراہیمی طریقہ پر قائم کریں۔ فتح مکہ (رمضان 8ھ) کے بعد آپ عرب کے حکمراں بن گئے۔ آپ ایسا کر سکتے تھے کہ نسیٔ کی بدعت کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیں۔ مگر آپ نے صبر سے کام لیا۔ اس وقت نسیٔ کے 33سالہ دور کو پورا ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔ آپ نے دو سال انتظار فرمایا۔ مکہ کے فاتح ہونے کے باوجود دو سال آپ حج کے لیے نہیں گئے۔ آپ نے صرف تیسرے سال (10ھ) حج کی عبادت میں شرکت کی جو کہ 33سالہ دو ر کو پورا کر کے ٹھیک ابراہیمی تاریخ پر ذی الحجہ میں ہو رہا تھا۔ اس وقت حجۃ الوداع میں آپ نے اعلان فرما دیا کہ اس سال حج جس طرح ہو رہا ہے اسی طرح اب ہر سال ہوگا۔ اب نسیٔ کا اصول ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے۔ یہی بات ہے جو حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپ نے ان الفاظ میں ادا فرمائی
unverifiedAttribution could not be verified automatically
أَلَا وَإِنّ الزّمَانَ قَدْ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَإِنّ عِدّةَ الشّهُورِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللهِ (مغازی الواقدی، جلد3، صفحہ1112) یعنی،اے لوگو! زمانہ گھوم گیا۔ پس آج کے دن وہ اپنی اس ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ اور مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب میں 12مہینے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس تاخیر میں بہت گہری مصلحت تھی۔ کیونکہ مذہب میں جب کوئی طریقہ عرصہ تک رائج رہے تو وہ مقدس بن جاتا ہے۔ لوگوں کے لیے اس کے خلاف سوچنا مشکل ہو جا تا ہے۔ چونکہ دوسال بعد خود ہی حج ان تاریخوں پر آرہاتھا جو آپ چاہتے تھے۔ اس لیے آپ نے قبل ازوقت اقدام کر کے غیر ضروری مسئلہ کھڑا کرنےسے پرہیز کیا۔ جب فطری رفتار سے حج اپنی اصل تاریخ پر آگیا تو آپ نے اعلان فرما دیا کہ یہی حج کی اصل تاریخ ہے اور آئندہ اب انہیں تاریخوں میں حج ہوتا رہے گا۔
یہ چند مثالیں ہیں جن سےاندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنی پوری تحریک میں ربانی حکمت کو ملحوظ رکھا۔ آپ نے خدا کے کاگ میںاپنا کاگ ملایا، آپ نے خدائی منصوبہ سے موافقت کرتے ہوئے تمام کا رروائیاں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی کوششوں کے عظیم الشان نتائج بر آمد ہوئے۔