غیر متعلق مسائل سے تعرض نہ کرنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو عرب میں وہ تمام مسائل پوری طرح موجود تھے جن کو موجودہ زمانہ میں قومی مسائل کہا جاتا ہے اور جن مسائل کے نام پر عام طور پر دنیا میں تحریکیں اٹھتی ہیں۔ یہ مسائل ذہین افراد کو متاثر کر تےہیں اور وہ ان کا نعرہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میںیہ تمام مسائل موجود تھے لیکن آپ نے ان سے مطلق تعرض نہیں کیا۔ اگر آپ ان مسائل میں الجھتے تو یہ خدا کے منصوبہ میں اپنے کو شامل کرنا نہ ہوتا۔ وہ سارے مواقع جو ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں پیدا کیے گئے تھے بر باد ہو کر رہ جاتے۔
1۔ حبش نے 525ء میں عرب کے سرحدی علاقہ یمن پر قبضہ کر لیا تھا۔ ابر ہہ اس زمانہ میں شاہ حبش کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ ابرہہ کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (570ء) میں اس نے ہاتھیوں کی فوج سے مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھادے اور مکہ کی مرکزی حیثیت کو ختم کردے۔ 50سالہ قبضہ کے بعد یمن پر حبش کی حکومت ختم ہوئی اور اس پر شاہ فارس کی حکومت قائم ہو گئی جس کی طرف سے باذان یمن کا گورنر مقرر ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اور اس کی خبر کسریٰ (شاہ فارس) کو پہنچی تو اس نے با ذان کو لکھا کہ اس آدمی کے پاس جاؤ جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے کہو کہ وہ اس دعوی سے باز آئے۔ اگر وہ باز نہ آئے تو اس کا سرکاٹ کر میرے پاس بھیجو ( وَإِلَّا فَابْعَثْ إلَيَّ بِرَأْسِهِ) سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ69۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں ظاہر ہوئے تو اس وقت عرب کی سرحدوں پر غیر ملکی قبضہ نے کیسے سنگین مسائل پیدا کر رکھے تھے۔ ان حالات میں ایک صورت یہ تھی کہ آپ اپنے ہم قوموں کو غیر ملکی قبضہ کے خلاف اکساتے اور اس کے خلاف جنگ چھیڑ دیتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو یہ خدا کے منصوبے سے انحراف کے ہم معنی ہوتا۔ کیونکہ خدا کا منصوبہ تو یہ تھا کہ لوگوں سے غیر متعلق امور پر ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ خاموشی سے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا جائے۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور تاریخ نے دیکھا کہ با لآخر خود باذان نے اسلام قبول کر لیا اور یمن کے عیسائی با شندوں کی اکثریت نے بھی— جو مقصد ایک قومی لیڈرنا کام طور پر سیاسی کا ر روائیوں کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا وہ آپ نے کامیاب طور پر دعوتی کا ر روائی کے ذریعہ حاصل کر لیا۔
2۔ ابو طالب کی وفات کے بعد قبائلی رسم کے مطابق بنو ہاشم کا سردار ابو لہب مقرر ہوا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حمایت میں لینے سے انکار کر دیا۔ اب آپ کو کسی دوسرے حمایتی قبیلہ کی ضرورت پیش آئی۔ آپ حمایتی کی تلاش میں مختلف قبائل کے پاس گئے۔ عرب کا ایک سرحدی قبیلہ بنو شیبان بن ثعلبہ تھا۔ آپ اس سے ملے تو قبیلہ کے سردار مثنیٰ بن حارثہ نے کہا کہ ہم کسریٰ (شاہ فارس) کی مملکت کے قریب رہتے ہیں۔ وہاں ہم ایک معاہدہ کے تحت مقیم ہیں جو کسریٰ نے ہم سے لیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم کوئی نئی بات نہ کریں گے اور نہ کسی نئی بات کرنے والے کو پناہ دیں گے۔ اور شاید بادشاہوں کو وہ بات نا پسند ہو جس کی طرف آپ بلاتے ہیں (أَنْ لَا نُحْدِثَ حَدَثًا، وَلَا نُؤْوِيَ مُحْدِثًا، وَلَعَلَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي تَدْعُونَا إِلَيْهِ مِمَّا تَكْرَهُهُ الْمُلُوكُ) السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ 168۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اطراف عرب میں بیرونی سلطنتوں کے نفوذ نے جو مسائل پیدا کیے تھے وہ صرف سیاسی یا ملکی ہی نہ تھے بلکہ دعوت و تبلیغ کے معاملہ تک بھی پہنچ گئے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے ایسا نہیں کیا کہ یہ کہہ کر پہلے مرحلہ ہی میں ان سے لڑائی چھیڑدیں کہ جب تک یہ خارجی رکاوٹیں دور نہ ہوں کوئی دعوتی کام نہیں کیا جاسکتا۔ اگر آپ اول مرحلہ میں ان خارجی طاقتوں سے لڑجاتے تو یہ خدائی منصوبہ کے خلاف ہوتا۔ کیونکہ خدائی منصوبہ تو یہ تھا کہ روم و فارس کو آپس میں بیس سال تک لڑا کر بالکل کمزور کر دیا جائے اور پھر خود انہیں پر جار حیت کا الزام ڈال کر مسلمانوں کے لیے ان کو فتح کرنا آسان بنا دیا جائے۔ اگر مسلمان ابتدائی مرحلہ میں روم و فارس سے لڑ جاتے تو وہ نتیجہ بالکل بر عکس صورت میں نکلتا جو بعد کے تصادم کے ذریعہ حیرت انگیز غیر ملکی فتو حات کی صورت میں بر آمد ہوا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔