Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

اعلاء کلمۃ اللہ

Urdu · 7 min

اعلا ءِکلمۃ اللہ

آپ نے دیکھا ہوگا کہ سٹرکوں کے چورا ہے پر کھمبا لگا ہوتا ہے جس میں ہری اور لال روشنیاں ہوتی ہیں۔ جس رخ پر ہری روشنی ہو ادھر سواریوں کو جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور جس رخ پر لال روشنی ہو رہی ہواس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ادھر سواریاں نہ جائیں۔ اگر کوئی سواری اس نشان دہی کی خلاف ورزی کرے تو وہ ٹریفک قوانین کے مطابق قابل سزا قرار پاتی ہے۔

داعیٔ حق کی حیثیت اصلاً اسی قسم کے رہنما کھمباکی ہے۔ وہ خدا کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے کہ زندگی کے راستوں پر کھڑا ہو کر لوگوں کو بتائے کہ وہ کدھر جائیں اور کدھر نہ جائیں۔ کون سا راستہ جنت کی طرف جا رہا ہے اور کون سا جہنم کی طرف۔قرآن کی اس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہےوَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا(2:143)۔ یعنی، اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابتدائی دورِ توحید کے بعد غلبۂ شرک کے زمانے میں خدا کی طرف سے جو رسول آئے وہ اسی خاص مقصد کے لیے آئے۔ ان کو خد ا نے حقیقت کا صحیح علم دے کر کھڑا کیا کہ وہ قوموں کی رہنمائی کریں اور ان کو یہ بتائیں کہ دنیا کی زندگی میں ان کےلیے صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ ہر نبی نے اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح انجام دیا۔ انہوں نے ان کی قابلِ فہم زبان میں دلائل کی پوری قوت کے ساتھ لوگوں کےسامنے حق کو پیش کیا اور مسلسل اتنی وضاحت کی کہ ان کے مخاطبین کے سامنے اتمامِ حجت کی حدتک خدا کا پیغام پہنچ گیا۔ پھر جس نے رسول کا ساتھ دیا وہ خد ا کے نزدیک جنتی ٹھہرا ،جس نے رسول کو نہ مانا وہ سرکش اور باغی قرار دے کر جہنم میں ڈال دیا گیا۔

تاہم اللہ تعالیٰ کو حق کے اعلان کے ساتھ یہ بھی مطلوب تھا کہ دوبارہ حق کا اظہار ہو۔ حق کا اعلان تو یہ ہے کہ لوگوں کو حق کے بارے میں پوری طرح بتا دیاجائے۔ خیر خواہی اور حکمت کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کو اس طرح کھول دیا جائے کہ سننے والوں کے لیے یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہم اس سےبے خبر تھے۔ ہم یہ جانتے ہی نہ تھے کہ زندگی میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ اسی کا نام اتمام حجت ہے۔

اظہار اس سے آگے کی چیز ہے۔اظہار کا مطلب یہ ہے کہ دینی فکر دنیا کا غالب فکر بن جائے۔اس کے مقابلہ میں دوسرے افکار پست اور مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اعلا ء کلمۃ اللہ کہا گیا ہے۔ اظہار دین یا اعلاءِ کلمۃ اللہ سے مراد اصلاً حدود و قوانین کا نفاذ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی اسی قسم کا غلبہ جیسا غلبہ موجودہ زمانہ میںجدید علوم کو قدیم روایتی علوم پر حاصل ہواہے۔ مثلاً سرمایہ داری پر سو شلزم کا فکری غلبہ، شہنشا ہیت پر جمہوریت کا فکری غلبہ اور قیاسی فلسفہ پر تجرباتی سائنس کا فکری غلبہ۔ جدید سائنسی دنیا میں بعض علوم نے غالب علم کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اور بعض دوسرے علوم نے ان کے مقابلہ میں اپنی برتری کھودی ہے۔ اسی قسم کا غلبہ دین حق کا بھی دین باطل کے اوپر مطلوب ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا قادر مطلق ہے۔ اس کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ حق کو دوسری باتوںپر فائق و بر تر کردے جس طرح اس نے سورج کی روشنی کو دوسری تمام زمینی روشنیوں پر فائق کر رکھا ہے۔ مگر موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا اپنے مطلوب واقعات کو اسباب کے روپ میںظاہر کرتا ہے نہ کہ معجزات کے روپ میں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نےفیصلہ کیا کہ اسباب کے دائرہ میں اس مقصد کے لیے تمام ضروری حالات پیدا کیے جائیں اور اس کے بعد ایک ایسا پیغمبر بھیجا جائے جس کو خصوصی طورپر غلبہ کی نسبت دی گئی ہو۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل کر کے نہ صرف حق کا اعلان کرے بلکہ حق کا اظہار بھی کردے تاکہ خدا کے بندوں پر خدا کی نعمت کا اتمام ہو اور ان پر ان برکتوں کے دروازے کھلیں جو ان کی نا دانی سے ان کے اوپر بند پڑے ہوئے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی ان آیتوں میں کہی گئی ہے

unverifiedAttribution could not be verified automatically

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (61:8-9)۔ یعنی، وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا خواہ وہ منکروں کو کتناہی ناگوا ر ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دین پر غالب کر دے خواہ وہ مشرکوں کو کتنا ہی نا گوار ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content