Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

ایک نئی قوم برپا کرنا

Urdu · 13 min

ایک نئی قوم بر پا کرنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أَنَا دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ (الطبقات الکبریٰ، جلد1، صفحہ119)۔ یعنی، میں ابراہیم کی دعا ہوں۔ حضرت ابراہیم نے کعبہ کی تعمیر کے وقت یہ دعا کی تھی کہ اے خدا تو میرے لڑکے اسمٰعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کر (البقرہ، 2:129)۔ تاہم حضرت ابراہیم کی دعا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے درمیان تقریباً ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ حضرت زکریا نے اپنی اولاد میں ایک پیغمبر پیدا کیے جانے کی دعا کی تو ایک سال کے اندر ہی آپ کے یہاں حضرت یحیٰ پید ا ہو گئے (آل عمران، 3:39) اور حضرت ابراہیم نے اسی قسم کی دعا فرمائی تو اس کی عملی قبولیت میں ڈھائی ہزارسال لگ گئے۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یحییٰ کو ایک وقتی کر دار ادا کرنا تھا۔ آپ اس لیے بھیجے گئے کہ یہود کے دینی بھرم کو کھولیں اور بالآخر ان کے ہاتھوں قتل ہو کر یہ ثابت کریں کہ یہود اب اتنا بگڑ چکے ہیں کہ انہیں معزول کردیا جائے، اور ان کی جگہ دوسری قوم کو کتاب اِلٰہی کا حامل بنا یا جائے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر اسلام کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ شرک کو مغلوب کر کے توحید کو غالب فکر کی حیثیت دے دیں۔ اس کام کو اسباب کے ڈھانچہ میں انجام دینے کے لیے ایک نئی صالح قوم اور موافق حالات درکار تھے۔ یہی وہ قوم اور یہی وہ حالات ہیں جن کو وجود میں لانے کے لیے ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔

اِس منصوبہ کے تحت حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ وہ عراق کے متمدن علاقہ سے نکلیں اور حجاز کے خشک اور غیر آباد مقام (بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ)پر اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر بسا دیں (ابراہیم، 14:37)۔یہ مقام اس وقت وادی غیر ذی زرع ہونے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ تھا۔ یہاں تمدنی آلائشوں سے دور رہ کر خالص فطرت کی آغوش میں ایک ایسی قوم کی تعمیر کی جا سکتی تھی جس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطری صلاحیتیں محفوظ ہوں (رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ، 2:128)۔ قبولیت دعا میں  ڈھائی ہزار سالہ تاخیر کا واضح مطلب یہ تھا کہ مخصوص ماحول میں تو الد و تناسل کے ذریعہ وہ جاندار قوم وجود میں آئے جو خدا کے دین کی سچی حامل بن سکے۔ جو پورے معنوں میں ایک جان دار قوم ہو اور ان تمام مصنوعی کمیوں سے پاک ہو جن کی وجہ سے دور اول میں خدا کے دین کے اظہار کے لیے کا رآمد آدمی نہ مل سکے۔ جب منصوبہ کے مطابق مکمل اسٹیج تیار ہو گیا اس وقت بنو ہاشم کے یہاں آمنہ بنت و ہب کے پیٹ سے وہ پیغمبر ِ غلبہ پیدا کر دیا گیا جس کی دعا حضرت ابراہیم کی زبان پر جاری ہوئی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت ابراہیم نے خدا کےحکم سےہاجرہ اور اسمٰعیل کو موجودہ مکہ کے مقام پر لاکر بسا دیا جہاں اس وقت سوکھی زمین اور خشک پتھروں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا اور اسماعیل پیاس کی شدت سے ہاتھ پاؤں مارنے لگے تو خشک بیابان میں زمزم کا چشمہ نکل آیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ خد ا نے اگر چہ تم کو بڑے سخت محاذپر کھڑا کیا ہے مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کہ تم کو بے سہارا چھوڑدے۔ تمہارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے اور خدا ہر نازک موڑ پر تمہاری مدد کے لیے موجود رہے گا۔ اسماعیل جب نو جوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں۔ اس خواب کو انہوںنے حکم خدا وندی سمجھا اور بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے مگر عین اس وقت جب کہ ان کی چھری اسماعیل کے گلے پر پہنچ چکی تھی خدا نے آواز دے کر انہیں روک دیااو ر اس کے بد لے انہیں ایک مینڈھا دیا جس کو وہ خدا کے نام پر ذبح کریں۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ تم سے اگر چہ ہم نے بہت بڑی قربانی مانگی ہے مگر یہ صرف جذبہ کا امتحان ہے۔ قربانی پیش تو کرنا ہوگا مگر ابھی قربان ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ خدا تمہیں بچالے گا۔ کیونکہ اصل مقصد تم کو ایک بڑے کام کے لیے استعمال کرنا ہے نہ کہ خواہ مخواہ ہلاک کر دینا۔

حضرت اسماعیل بڑے ہوئےتو انہوں نے قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے شادی کرلی جو زمزم نکلنے کے بعد آکر مکہ میں آباد ہو گیا تھا۔ حضرت ابراہیم جو اس وقت شام میں تھے، ایک روز گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اس وقت گھر پر اسماعیل نه تھے، صرف بیوی موجود تھیں جو اپنے خسر کو پہچا نتی نہ تھیں۔ حضرت ابراہیم نے پوچھا کہ اسماعیل كهاں گئے هيں۔ان کی بیوی نے کہا کہ شکار کرنے کے لیے۔ پھر پوچھا کہ تم لوگوں کی گزر کیسی ہوتی ہے۔ بیوی نے معاشی تنگی اور گھر کی ویرانی کی شکایت کی، اس کے بعد حضرت ابراہیم واپس چلے گئے اور خاتون سے کہا کہ جب اسماعیل آئیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچا دینا کہ اپنی چوکھٹ کو بدل دو (غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِك)حضرت اسماعیل نے واپسی کے بعد جب پورا واقعہ سنا تو انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ میرے باپ تھے جو ہمارا حال دیکھنے آئے تھے اور ’’چوکھٹ بد ل دو ‘‘ کا مطلب استعارے کی زبان میں یہ ہے کہ اس بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی کرو،کیونکہ وہ اس نسل کو پیدا کرنے کے لیے موزوں نہیں جس کا منصوبہ خدا نے بنایا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس بیوی کو طلاق دے دی اور دوسری عورت سے شادی کرلی۔ اس کے کچھ دن بعد حضرت ابراہیم دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، اب بھی اسماعیل گھر پر موجود نہ ملے۔ حضرت ابراہیم نے دوسری بیوی سے بھی وہی سوال کیا جو انہوں نے پہلی بیوی سےکیاتھا۔ اس بیوی نے اسماعیل کی تعریف کی اور کہا کہ جو کچھ ہے بہت اچھا ہے، سب خدا کا شکر ہے۔ اس کےبعد حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ اسماعیل آئیں تو ان کو میر اسلام کہنا اور یہ پیغام پہنچا دینا کہ چوکھٹ کو قائم رکھو (أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِك)۔یعنی تمہاری یہ بیوی پیش نظر منصوبہ کےلیے بالکل ٹھیک ہے، اس کے ساتھ اپنا تعلق باقی رکھو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس طرح عرب کے الگ تھلک علاقے میں اسماعیل کے ابتدائی خاندان سے ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی جس نے بالآخر اس جاندار قوم(بنو اسماعیل) کی صورت اختیار کی جو نبی آخرالزماں کا گہوارہ بن سکے اور تاریخ کی اس عظیم ترین ذمہ داری کو سنبھالےجو خدا اس کے سپرد کرنا چاہتا تھا۔

یہ قوم جو عرب کےصحراؤں اور چٹیل بیابانوں میں تیار ہوئی، اس کی خصوصیات کو ایک لفظ میں المروءۃ کہا جا سکتا ہے۔ المروءۃ کے لفظی معنی ہیں مرد انگی۔ یہ عربوں کے یہاں کسی کےجو ہر انسانیت کو بتانے کے لیے سب سے اونچالفظ سمجھا جاتا تھا۔ قدیم عربی شاعر کہتا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

إِذَا المَرْءُ أَعْيَتْهُ المُرُوْءَةُ نَاشِئًا فَمَطْلَبُهَا كَهْلًا عَلَيْهِ شَدِيْدُ

(آدمی اگر اٹھتی جوانی میں مردانگی کا مقام حاصل کرنے سے عاجز رہ جائے تو بڑھا پے میں اس کو حاصل کرنا بہت مشکل ہے ) ۔

پروفیسر فلپ ہٹی نے عرب تاریخ کا گہرا مطالعہ کیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب کے بیابانوں میں صدیوں کے عمل سے جو قوم تیار ہوئی وہ دنیا کی ایک نرالی قوم تھی جو مندرجہ ذیل اخلاقی صفات میں کمال درجہ رکھتی تھی

other sourceWords of another person or source

Courage, endurance in time of trouble (sabr) observance of the rights and obligations of neighbourliness (jiwar) manliness (muruah) generosity and hospitality regard for women and fulfilment of solemn promises. (p. 253)

ہمت، مشکل کے وقت برداشت، پڑوسی کے حقوق اور ذمہ داریوں کی ادائیگی، مردانگی، فیاضی اور مہمان نوازی، عورتوں کی عزت اور وعدہ کر لینے کے بعد اسے پورا کرنا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content