دین تو حید اور دین شرک
قرآن کے اشارات (البقرہ، 2:213) سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے بعد جب انسان زمین پر آباد ہوا تو سب کا دین توحید تھا۔ یہ صورت چند سو سال تک جا ری رہی۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر مظاہر پرستی کا آغاز ہوا جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ دکھائی نہ دینے والے خدا کو اپنا مرکز تو جہ بنا نا انسان کے لیے مشکل تھا، چنانچہ اس نے عقیدۃً خدا کو مانتے ہوئے یہ کیا کہ دکھائی دینے والی چیزوں کو اپنا مر کز توجہ بنالیا۔ یہی وہ دور ہے جب کہ سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش شروع ہوئی۔ پہاڑوں اور سمندروں کو دیوتا سمجھ لیا گیا۔ حتٰی کہ انسانوں میں سے جس کے پاس عظمت و اقتدار نظر آیا اس کو بھی خدا کا شریک فرض کر لیا گیا۔ اس طرح تقریباً ایک ہزار سال بعد وہ وقت آیا جب کہ توحید کا فکری غلبہ ختم ہو گیا، اور انسانی ذہن پر دین شرک غالب آگیا۔
ابتدائی دین توحید میں اس بگاڑ کے بعد خدا نے اپنے پیغمبر بھیجنے شروع کیے۔ مگر ان پیغمبروں کو کبھی اتنی مقبولیت حاصل نہ ہو سکی کہ دین شرک کو مٹا کر دوبارہ دین تو حید کو غالب اور سر بلند کرتے۔ انسانی نسل اس زمانہ میں جن جن مقامات پر پھیلی تھی، ہر مقام پر خدا کے پیغمبر لگاتار آتے رہے (المومنون، 23:44)۔ ایک حدیث کے مطابق ان پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی(مسند احمد، حدیث نمبر22288)۔ مگر تمام پیغمبروں کا یہ حال ہو ا کہ ان کو استہزاء کا موضوع بنا لیا گیا (یس،36:30)۔
جب آدمی سچائی کا انکار کرتا ہے، بلکہ اس کا مذاق اڑانے پر اتر آتا ہے تو یہ خواہ مخواہ نہیں ہوتا۔ ایسا رویہ آدمی ہمیشہ کسی چیز کے بل پر اختیار کرتاہے۔ اس کے پاس کوئی ناز ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ حق سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ یہ کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے
فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (40:83)۔یعنی، جب ان کے پاس ان کے رسول دلائل لے کر آئے تو وہ اس علم پر مگن رہےجو ان کے پاس تھا اور ا ن کو گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
یہاں ’’علم‘‘ سے مراد وہ بگڑا ہوا مذہب ہے جو زمانہ گزر نے کے بعد ان قوموں کے نزدیک مقدس بن گیا تھا۔ اس قسم کا آبائی مذہب ہمیشہ ایک قائم شدہ مذہب ہوتاہے۔ اس کے ساتھ مانے ہوئے بزرگوں کے نام وابستہ ہوتے ہیں۔ اس کے اوپر بڑے بڑے ادارے چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر ان کا پورا قومی ڈھانچہ کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو لمبی روایات کے نتیجہ میں عظمت کا سب سے اونچا مقام مل چکا ہوتا ہے۔
ان قوموں کے پاس ایک طرف ان کا یہ مسلمہ مذہب تھا جو شرک کی بنیاد پر قائم تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک ایسی توحید کی آواز بلند کرتا جو وقت کے ماحول میں اجنبی ہوتی تھی۔ اس کا داعیِ حق ہوناایک ایسے دعويٰ کی حیثیت رکھتا تھا جس کی پشت پر ابھی تاریخ کی تصدیقات جمع نہیں ہوئی ہیں۔ اس کے پاس اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے لفظی دلیل کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس تقابل میں انہیں وقت کا پیغمبر واضح طور پر حقیر نظر آتا اور ان کا اپنا آبائی مذہب واضح طورپر عظیم۔ حضرت مسیح بے گھر تھے اور درخت کے نیچے سوتے تھے۔ دوسری طرف یہودیوں کا مذہبی سردار ہیکل کی عظیم عمارت میں جلوہ افروز تھا۔ پھر ہیکل کے صدر نشین کے مقابلہ میں درخت کے نیچے سونے والا لوگوں کو زیادہ بر سر حق کیسے نظر آتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قومیں اپنے معاصر پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بناتی رہیں۔ اس استہزاء پر جو چیز انہیں آمادہ کرتی وہ ان کا یہ احساس تھا کہ ہم تو مسلّمہ اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں ، پھر ان کے مقابلہ میں اس معمولی آدمی کی کیا حیثیت۔ اکابر کی اس فہرست میں اگر چہ قدیم انبیاء تک ہوتے تھے۔ مگر ان انبیاء کی حیثیت عملاً ان کے یہاں ایک قسم کے قومی ہیرو کی تھی نہ کہ فی الواقع داعیِ حق کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔