← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
برتر اخلاقیات
Urdu · 41 min
قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ(تم ایک اعلیٰ کر دار پر ہو )۔ امام عطیہ نے خُلق عظیم کی تفسیر ادب عظیم سے کی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحه 188)۔یہ بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار کیا ہے، اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقوال سے ہوتی ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلاَ تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَإِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلاَ تَظْلِمُوا (سنن الترمذي، حديث نمبر 2007)۔ يعني، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اِمَّعہ نہ بنو،یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے۔ اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤکہ لوگ اچھا سلوک کریں تب بھی تم اچھا سلوک کرو اور لوگ بر ا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمصِلْ مَنْ قَطَعَك، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَك، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَك(مسند احمد، حدیث نمبر 17452)۔ یعنی جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔اور جو تم کو محروم کرے، تم اس کو عطا کرو۔اورجو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کر دو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ اعلیٰ اخلاق جو حدیث میں بتایا گیا ہے اس اخلاق میں آپ بلند ترین مرتبہ پر تھے۔ عام مسلمانوں سے یہ اعلیٰ اخلاق عزیمت کے درجہ میں مطلوب ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ لازم تھا۔ آپ نے فرمایا کہ
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ جومجھ سے کٹے میں اس سےجڑوں، جو مجھ کو نہ دے میں اسے دوں۔ جومجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کردوں (وأن أصَلَ مَنْ قَطَعَني، وأعطي مَنْ حَرَمَني، وأعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَني)جامع الاصول لابن الاثیر الجزری، حدیث نمبر 9317۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اخلاق کی دو سطحیں ہیں۔ ایک معمولی سطح اور دوسری بر تر سطح۔ اخلاق کی معمولی سطح یہ ہے کہ آدمی کا اخلاق جو ابی اخلاق ہو۔ یعنی اس کا اصول یہ ہوکہ ’’جو مجھ سے جیسا کرے گا میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کروں گا ‘‘۔ جو شخص اس سے کٹے وہ بھی اس سے کٹ جائے۔ جو شخص اس پر ظلم کرے وہ بھی اس پر ظلم کرنے لگے۔ جو شخص اس کے ساتھ برائی کرے وہ بھی اس کے لیے بر ابن جائے۔
یہ عام اخلاق ہے۔ اس کے مقابلہ میں برتر اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ کی پروا کیے بغیر اپنا رویہ متعین کرے۔ اس کا اخلاق اصولی ہو نہ کہ جوابی۔ اعلیٰ اخلاقیات اس کا ایک عام اصول ہو جس کو وہ ہر جگہ برتے، خواہ معاملہ موافق کے ساتھ ہو یا مخالف کے ساتھ۔ وہ جُڑنے والا ہو حتٰی کہ اس سے بھی جو اس سے قطع تعلق کرے۔ وہ بہتر سلوک کرنے والا ہو حتٰی کہ اس کے ساتھ بھی جو اس سے برا سلوک کرے۔ وہ نظر انداز کرنے والا ہو حتٰی کہ اس سے بھی جو اس پر ظلم کرتا ہو۔
فرانس کے مشہور فلسفی والٹیر (1694-1778ء)نے کہا تھا کہ کوئی شخص اپنے قریبی لوگوں میں ہیرو نہیں ہوتا
other sourceWords of another person or source
No man is a hero to his valet
کیوں کہ قریبی لوگوں کی نظر میں آدمی کی نجی زندگی ہوتی ہے اور نجی زندگی میں کوئی بھی کامل نہیں ہوتا۔ دور والوں کو ایک شخص جتنا اچھا معلوم ہوتاہے، قریب کے لوگوں کو وہ اتنا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ اس لیے قریبی لوگوں کےاندر اس کے بارے میں ہیرو کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ مگر باسورتھ اسمتھ نے لکھا ہے کہ یہ کلیہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق نہیں آتا، کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ آپ سے قریب تھا، اتنا ہی زیادہ وہ آپ کی خوبیوں کا شیدائی تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زیدبن حارثہ قبیلہ کلب کے ایک شخص حارثہ بن شراحيل کےلڑکے تھے۔ ان کی ماں سُعدی بنت ثعلبہ تھیں جو قبیلہ طے کی ایک شاخ بنی معن سے تعلق رکھتی تھیں۔ زید جب آٹھ سال کے تھے، اس وقت ان کی ماں ان کو لے کر اپنے میکے گئیں۔ وہاں بنی قین بن جسر کے لوگوں نے ان کے پڑاؤ پر حملہ کیا۔وہ جو کچھ لوٹ کرلے گئے اس میں زید بھی تھے۔ اس کے بعد انہوں نےعکاظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ ان کو حکیم بن حزام نے خریدا،جو حضرت خدیجہ کے بھیتجے تھے۔ وہ اس بچہ کو مکہ لائے اور غلام کی حیثیت سے اپنی پھوپھی کو دے دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا تو حضرت خدیجہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا۔ اس وقت زید کی عمر 15سال تھی۔ کچھ عرصہ بعد زید کے باپ اور چچا کو معلوم ہوا تو وہ مکہ آئے تاکہ اپنے بچے کو حاصل کر کے اپنے ساتھ لےجائیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور کہا کہ آپ جو فدیہ لینا چاہیں ہم دینے کےلیے تیار ہیں۔ آپ ہمار ا بچہ ہم کو دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کوئی فدیہ نہیں چاہیے۔ اگر لڑکا تمہارے ساتھ جانا چاہے تو تم اس کو لے جاسکتے ہو۔ آپ نے زید کو بلایا اور کہا ان کو پہچانتے ہو۔ انہوں نے کہا ہاں، یہ میرے باپ اور چچا ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ لوگ تم کو لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر تم چاہو تو ان کے ساتھ اپنے گھر جاسکتے ہو۔ زید نے جواب دیا میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ یہ سن کر ان کے باپ او ر چچا بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا تم آزادی کو چھوڑ کر غلامی کو پسند کرتے ہو اور اپنوں کو چھوڑ کر غیروں میں رہنا چاہتے ہو(أَتَخْتَارُ العُبُّودِيَّةَ عَلَى الْحُرِّيَّةِ وَعَلَى أَبِيكَ وَعَمِّكَ وَأَهْلِ بَيْتِكَ)۔ زید نے کہا میں نے محمد کے اندر جو خوبیاں دیکھی ہیں اس کے بعد اب میں کسی کو بھی ان کے اوپرترجیح نہیں دے سکتا (إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مِن هَذَا الرَّجُلِ شَيْئًا مَا أَنَا بِالَّذِي أَخْتَارُ عَلَيْهِ أَحَدًا أَبَدًا)۔ اس کے بعد زید کے باپ اور چچا اپنے وطن کو واپس چلے گئے (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد3، صفحہ31)۔یہ واقعہ نبوت سے پہلے کاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی خصوصیت کی طرف قرآن میں ان لفظوں میں اشارہ کیاگیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ (3:159)۔ يعني، یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے لیے نرم ہو۔ اگر تم درشت زبان اور سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام کا یہی اعلیٰ کر دار تھا جس نے آپ کے اندر تسخیری قوت پیدا کر دی۔ جو شخص بھی آپ سے قریب ہوا وہ آپ کی عظمتوں کو دیکھ کر مفتوح ہو کر رہ گیا۔
طائف کی وہ شام بھی کس قدر بھیانک تھی جب شہر کے لڑکے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار مار کر شہر سے باہر لے جارہے تھے۔ آپ مکہ سے پچاس میل کا پیدل سفر طے کر کے حجاز کے رئیسوں کے گرمائی صدر مقام پہنچے تھے تاکہ انہیں دین اسلام کی دعوت دیں۔ مگر طائف کے رئیسوں نے آپ کے خیر خواہا نہ پیغام کو سننے کے بجائے شہر کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگادیا۔ یہ شریر لڑکے اس وقت تک آپ کا پیچھا کرتے رہے جب تک سورج نے غروب ہو کر آپ کے اور ان لڑکوں کے درمیان تاریکی کا پردہ نہ ڈال دیا۔ آپ کا جسم زخموں سے چور تھا۔ سر سے پاؤں تک آپ خون میں نہائے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے تھک کر انگور کے ایک باغ میں پناہ لی (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 48)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
غور کیجیے، یہ کسی آدمی کے لیے کتنا نازک وقت ہوتا ہے۔ آپ نے خود ایک بار اپنی بیوی حضرت عائشہ سے فرمایا کہ طائف کی یہ شام میری زندگی کی سخت ترین شام تھی۔ مگر آپ کی زبان سے اس انتہائی سنگین موقع پر اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی برا کلمہ نہیں نکلا۔ بلکہ آپ نے فرمایا ’’ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منکروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے ‘‘(صحیح البخاری، حدیث نمبر3231)۔ اللہ کے رسول کا یہی اخلاق تھا جس نے آپ کے دشمنوں کو اس طرح زیر کیا کہ سارے عرب نے آپ کے پیغام کو قبول کر لیا۔ آپ کے اعلیٰ کردار کے آگے کوئی تعصب، کوئی عداوت او رکوئی ہٹ دھرمی ٹھہر نہ سکی۔ آپ کی بلند سیرت لوگوں کو جادو کی طرح مسخر کرتی چلی گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک بار آپ نے فرمایا صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ تم صلہ رحم کرنے والوں کےساتھ صلہ رحم کرو۔ بلکہ صلہ رحمی یہ ہے کہ جو قطع رحم کرے اس کے ساتھ تم صلہ رحمی کرو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5991)۔ تاریخِ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار اسلام کے کچھ دشمنوں نے حضرت عائشہ پر بدکاری کی تهمت لگائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور حضرت ابوبکر کی صاحبزادی تھیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ تہمت سراسر جھوٹ اور بے بنیاد تھی۔ اس فرضی داستان کو گھڑنے اور اس کو پھیلانے میں ایک شخص مسطح نام کا بھی شریک تھا۔ یہ شخص حضرت ابو بکر کا رشتہ دار تھا۔ اس کو ضرورت مند سمجھ کر حضرت ابو بکر اس کو ماہانہ کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر کو معلوم ہوا کہ ان کی معصوم صاحبزادی پر جھوٹی تہمت لگانے میں مسطح بھی شریک رہا ہے تو انہوں نے مسطح کی امدادی رقم بند کردی۔ اس پر اللہ کے رسول کے پاس یہ وحی آئی کہ اگر کوئی شخص معاشی اعتبار سے ضرورت مند ہے تو اس کے اخلاقی جرم کی وجہ سے اس کی مالی امداد بند نہ کرو، بلکہ اس کے جرم سے درگزرکرتے ہوئے اس کی معاشی امداد کو جاری رکھو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں کہا گیا کہ تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور کشائش والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنےرشتہ داروں، محتاجوں اور اللہ کی راہ میں وطن چھوڑ نے والوں کی مدد نہ کریں گے۔ ان کو معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کردے اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے (24:22) دیکھیے صحیح مسلم، حدیث نمبر 2770۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حضرت ابو بکر ہی کا واقعہ ہے کہ ایک بار وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر آپ کو برا بھلا کہا۔ حضرت ابوبکر پہلی بار سن کر چپ رہے ۔ اس نے دوسری بار برا بھلا کہا تو اس وقت بھی آپ چپ رہے۔ مگر جب اس نے تیسری بار بد زبانی کی تو آپ خاموش نہ رہ سکے اور جواب میں بول اٹھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ فوراً وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا اے خدا کے رسول آپ کیوں اٹھ گئے۔ آپ نے کہا ابو بکر ! جب تک تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا، جب تم خود بول پڑے تو فرشتہ وہاں سے چلا گیا (نَزَلَ مَلَك مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَك، فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ)سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4896۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ برائی کے جواب میں جب آدمی اپنی طرف سے کوئی انتقامی کا ر روائی نہیں کرتا تو وہاں خدا اس کی طرف سے انتقام لینے کے لیے موجود ہوتاہے۔ مگر جب آدمی خود انتقام لینے پر اتر آئے تو خدا اس کے معاملہ کو اس کے حوالے کر دیتاہے۔ اور ظاہر ہے کہ کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا سے بہتر انتقام لے سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم سے کچھ اشرفیاں قرض لیں۔ کچھ دن گزر گئے تو وہ یہودی تقاضے کے لیے پہنچا۔ آپ نے فرمایا کہ ’’اس وقت میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے ‘‘۔ یہودی نے کہا’’جب تک تم میرا قرض ادا نہ کرو گے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا‘‘۔ چنانچہ ظہر کےوقت سے لے کر رات تک وہ آپ کو گھیرے میں لیے ہوئے بیٹھا رہا۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ مدینہ میں آپ کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ آپ اس کے خلاف کا رروائی کر نے کی طاقت رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے اس کو ڈانٹ کر بھگانا چاہا۔ مگر آپ نے سب کو منع کر دیا۔ کسی نے کہا’’ اے خدا کے رسول، ایک یہودی آپ کو قید کیے ہوئے ہے ‘‘۔ آپ نے کہا کہ ہاں، مگر مجھ کو ظلم کرنے سے منع کیا گیاہے (مَنَعَنِي رَبِّي أَنْ أَظْلِمَ مُعَاهَدًا وَلَا غَيْرَهُ)۔ اسی حال میں صبح ہوگئی۔ جب اگلا دن شروع ہو ا تو یہودی کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ یہ دیکھ کر بہت متاثر ہو ا کہ آپ قدرت رکھتے ہوئے بھی برداشت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا۔ یہ یہودی مدینہ کا ایک مالدار آدمی تھا۔ کل تک اس نے چند اشرفیوں کے لیے آپ کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ مگر آپ کے اعلیٰ کر دار نے اس پر اتنا اثر کیا کہ اس نے اپنی ساری دولت آپ کی خدمت میں پیش کردی اور کہا کہ آپ اس کو جس طرح چاہیں خرچ کریں (دلائل النبوة للبيهقي، جلد6، صفحہ280-81)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
عبداللہ بن ابی الحسماءبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار میں نے خرید و فروخت کا ایک معاملہ کیا۔ ابھی معاملہ پورا نہیں ہو ا تھا کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی۔ میں نے کہا کہ آپ ٹھہریے۔ میں گھر سے واپس آتاہوں تو بقیہ معاملہ کو مکمل کروں گا۔ گھر پہنچنے کے بعد میں بعض کاموں میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین دن کے بعد یاد آیا تو میں اس مقام پر پہنچا۔ دیکھا کہ وہاں رسول اللہ موجود ہیں۔ آپ نے مجھ کو دیکھنے کے بعد صرف اتنا کہا تم نے مجھ کو بہت تکلیف دی (يَا فَتًى لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ)۔ میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں (ابوداؤد، حدیث نمبر 4996)۔ اس طرح کا عمل اپنے اندر اتنی کشش رکھتا ہے کہ انتہائی کٹر آدمی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ یہودی عالموں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ جب وہ لوگ آپ کےپاس پہنچے تو انہوں نے کہالسَّامُ عَلَيْكُمْ (تباہی ہو تم پر) حضرت عائشہ نےسنا تو ان سے بر داشت نہ ہو سکا، انہوں نے کہا ’’بلکہ تم لوگ غارت ہو جاؤ اور تم پر خدا کی لعنت ہو ‘‘(وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ)۔ آپ نے حضرت عائشہ کو اس قسم کے جواب سے منع فرمایا اور کہا’’خدا مہربان ہے اور وہ ہر کام میں مہربانی کو پسند کرتاہے۔ ‘‘ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6024) حقیقت یہ ہے کہ مخالف کا دل جیتنے کے لیے اس سے بڑا کوئی حربہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بد زبانی کا جواب نرم باتوں سےدیاجائے۔ ہتھیار کے حملہ کی تاب لانا تو ممکن ہے مگر کردار کے حملہ کے مقابلہ میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ یہاںہر شخص کو اپنی ہا رماننی پڑتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کےموقع پر تین شرطوں کے ساتھ قریش سے معاہدہ کیاتھا۔ ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ کوئی غیر مسلم اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے یہاں چلا جائے تو مسلمان اس کو واپس کر دیں گے۔ مگر جو مسلمان قریش کے پاس پہنچ جائے اس کو قریش واپس نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ ہو رہا تھا کہ ایک مسلم نوجوان ابوجندل مکہ سے بھاگ کر حدیبیہ پہنچے۔ ان کو ان کے گھر والوں نے اسلام کے جرم میں قید کر رکھا تھا۔ وہ بیڑیاں پہنے ہوئے اس حال میں حدیبیہ پہنچے کہ ان کا جسم بیڑیوں کی رگڑ سے زخمی ہو رہاتھا۔ وہ فریاد کر رہے تھے اور کہہ رہے تھےکہ مجھ کو دشمنوں کے چنگل سے بچاؤ۔ یہ بے حد نازک وقت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے تلواریں نکال لیں۔ ابو جندل کے جذباتی واقعہ کو دیکھنے کے بعد لوگوں کا رجحان ہو گیا کہ معاہدہ کو توڑ کر ابو جندل کی زندگی کو بچایا جائے۔ دوسری طرف مکہ والوں نے کہا’’محمد ! ہمارے اور تمہارے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے، یہ اس کی تکمیل کاپہلا موقع ہے‘‘ (هَذَا يَا مُحَمَّدُ أَوَّلُ مَا أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ)۔ بالآخر اللہ کے رسول نے فیصلہ کیا کہ جو معاہدہ طے ہو چکا ہے اب اس سے ہم پھر نہیں سکتے۔ آپ کے ساتھیوں کے لیے یہ بات بے حد تکلیف کی تھی۔ مگر آپ نے ابو جندل کو دو بارہ مکہ والوں کے حوالے کردیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
بظاہر اس واقعہ کے معنی یہ تھے کہ مظلوم کو دوبارہ ظالم کے چنگل میں دے دیا جائے۔ مگر اس واقعہ میں اصول پسندی کا جو شان دار عملی مظاہرہ ہوا اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ ظالم اندر سے بالکل ڈھ گئے۔ اب ان کا ابو جندل کو لے جانا اور اپنے یہاں ان کو قید میں رکھنا محض ایک عام واقعہ نہ رہا بلکہ ان کی طرف سے اخلاقی گراوٹ اور اسلام کے لیے اخلاقی بلندی کی ایک مثال بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے لوگ اسلام کی اخلاقی بر تری سے مر عوب ہوگئے۔ وہاں کثرت سے لوگ مسلمان ہونے لگے۔ ابو جندل کا وجود مکہ میں اسلام کی زندہ تبلیغ بن گیا۔ حتٰی کہ قید و بند کی حالت میں بھی ابوجندل ان کو اپنی قومی زندگی کے لیے خطرہ معلوم ہونے لگے۔ چنانچہ انہوں نے اس میں عافیت سمجھی کہ ان کو رہا کر کے مکہ کے باہر بھیج دیا جائے۔
حضرت ابو ہریرہ مدنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کی طرف چند سوار بھیجے جو آپ کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ وہ شہر یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال کو راستہ میں پا گئے اور اس کو گرفتار کر لائے۔ مدینہ پہنچ کر انہوں نے اس کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ اس کے پاس آئے اور حال پوچھا۔ ثمامہ نے جواب دیا’’ اگر تم مجھ کو چھوڑ دو گے تو میں عمر بھر تمہارا احسان مانوں گا، اور اگر تم نے مجھ کو قتل کر دیا تو میری قوم تم سے میرے خون کا بدلہ لے گی، اور اگر مال کی خواہش ہے تو جتنا مال چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں‘‘ (إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4372۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی رہائی کا حکم دے دیا۔ یہ واقعہ ا س وقت کی دنیا میں بہت عجیب تھا۔ کیوں کہ قبائلی زندگی میں کسی دشمن کےہاتھ آجانے کے بعد اس کا ایک ہی انجام تھا۔ اور وہ یہ کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ رسول اللہ نے اس کے جسم کو تو قتل نہیں کیا مگر اپنے اخلاقی سلوک سے اس کی روح کو قتل کر دیا۔ چنانچہ قید سے چھوٹنے کے بعد ثمامہ قریب کے ایک باغ میں گیا اور غسل کر کے دوبارہ مسجد میں آیا۔ لوگ حیران تھے کہ وہ دو بارہ کس لیے یہاں آیا ہے۔ مگر جب اس نے بلند آواز سےکلمۂ شہادت ادا کر کے اپنے مسلمان ہو نے کا اعلان کیا تو معلوم ہوا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ کر دراصل ہمیشہ کے لیے اس کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد ثمامہ عمرہ کرنے کےلیے مکہ گئے۔ جب وہ حرم میں پہنچے او ر وہاں کے لوگوں کو ثمامہ کے اسلام کا حال معلوم ہو ا تو انہوں نے کہا’’ تم بے دین ہو گئے‘‘۔ ثمامہ نے جواب دیا کہ میں بے دین نہیں ہوا بلکہ میں نے خدا کے رسول کے دین کو اختیار کر لیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ثمامہ اسلام کی قوت کا ذریعہ بن گئے۔ اس زمانہ میں مکہ کے لوگوں کو باہر کے جن مقامات سے گندم فراہم ہوتی تھی ان میں یمامہ ایک خاص مقام تھا۔ چنا نچہ ثمامہ نے مکہ والوں سے کہا کہ سن لو، محمد کی اجازت کے بغیر اب گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے یہاں نہیں آئے گا ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 1764)—کر دار بظاہر ایک بے قیمت چیز ہے مگر اس کو دے کر آدمی ہر چیز خرید لیتا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اخلاق کی بلندی یہ ہے کہ کہنے والا جو کچھ کہے اس پر وہ خود عمل کرتا ہو۔ کمزوروں کے ساتھ بھی وہ رعایت و شرافت کا وہی طریقہ اختیار کرے جو کوئی شخص طاقتور کے ساتھ کرتا ہے۔ اپنے لیے اس کے پاس جو معیار ہو وہی معیار دوسروں کے لیے بھی ہو۔ مشکل حالات میں بھی وہ اپنے اصولوں سے نہ ہٹے۔ حتٰی کہ دوسروں کی طرف سے پست کر دار کا مظاہرہ ہو تب بھی وہ اعلیٰ کردار پر قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس اعتبار سے اخلاق کے کمال درجہ پر تھے۔ آپ نے کبھی اعلیٰ اخلاق کو نہیں چھوڑا۔ کوئی مصلحت یا کوئی اختلاف آپ کو اخلاق سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ آپ کے انتہائی قریبی ساتھیوں نے اس معاملہ میں جو گواہی دی ہے اس سے بڑی اور کوئی گواہی نہیں ہو سکتی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سعيدبن ہشام تابعی نے آپ کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ کا اخلاق کیسا تھا۔ انہوں نے جواب دیا آپ کا اخلاق تو قرآن تھا(فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 746۔ گویا قرآن کی صورت میں مطلوب زندگی کا جو نقشہ آپ نے دوسروں کے سامنے پیش کیا خود آپ اسی نقشہ میں ڈھل گئے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک رسول اللہ کی خدمت کی مگر کبھی آپ نے اف تک نہ کیا او رنہ کبھی میرے کسی کام کی بابت آپ نے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور جو کام میں نے نہیں کیا،اس کی بابت بھی آ پ نے کبھی یہ نہ کہا کہ تم نے اس کو کیوں نہیں کیا (فَمَا قَالَ لِيأُفٍّ، وَلاَلِمَ صَنَعْتَ؟ وَلاَأَلَّا صَنَعْت)۔ وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6038، صحیح مسلم، حدیث نمبر 2309)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امام احمد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا نہ کسی عورت کو مارا (مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ خَادِمًا لَهُ قَطُّ، وَلَا امْرَأَةً)اور نہ کسی دوسرے کو اپنے ہاتھ سے مارا۔ البتہ آپ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے تھے۔جب بھی آپ کو دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو لینے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے آسان کو اختیار فرمایا، الّا یہ کہ وہ گناہ ہو۔ جو چیز گناہ ہوتی اس سے آپ تمام لوگوں سے زیادہ دور رہنے والے تھے۔ آپ کو خواہ کوئی بھی تکلیف پہنچائی گئی ہو کبھی آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا، الّا یہ کہ اللہ کی حرمتوں کو توڑا گیاہو، اور آپ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیاہو(مسند احمد، حدیث نمبر 24034)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی کردارتھا جس نے آپ کو دشمنوں کی نظر میں بھی قابل عزت بنا دیا۔ جن لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا وہ ہر طرح کی مصیبت اور نقصان کے باوجود آپ کے ساتھ جڑے رہے۔ اپنی مظلومی کے دور میں بھی آپ لوگوں کی نظر میں اتنے ہی محبوب تھے جتنا فتح و غلبہ کے دور میں۔ آپ کو دور سے دیکھنے والوں نے آپ کو جیسا پایا ویسا ہی ان لوگوں نے بھی پایا جو آپ کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ آپ کا کردار ایسا نمونہ بن گیا جیسا نمونہ تاریخ میں دوسرا نہیں پایا جاتا۔
آپ کا اعلیٰ کر دار آپ کی با اصول زندگی کا ایک مستقل جز ءتھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان افراد کے ساتھ بھی بد ستور باقی رہتا تھا جن سے آپ کو شکایت یا تکلیف پہنچی ہو۔
کعبہ کی دربانی (حجابہ) جا ہلیت کے زمانہ میں بھی نہایت عزت کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ یہ دربانی قدیم ترین زمانہ سے ایک خاص خاندان میں چلی آرہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس خاندان کے ایک فرد عثمان بن طلحہ کعبہ کے دربان تھے۔ انہیں کے پاس کعبہ کی کنجیاں رہتی تھیں۔
بخاری نے روایت کیا ہے کہ ہجرت سے پہلے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ کعبہ کے اندر داخل ہو کر عبادت کریں۔ آپ نے عثمان بن طلحہ سے کنجی مانگی تاکہ اس کا دروازہ کھول سکیں۔ مگر عثمان بن طلحہ نے انکار کیا اور آپ کو برا بھلا کہا۔ آپ نے فر مایا اے عثمان، کسی دن تم دیکھو گے کہ یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی۔ مجھے اختیار ہوگا کہ میں جس کو چاہوں اسے دوں۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ نے کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لَقَدْ هَلَكَتْ قُرَيْشٌ يَوْمَئِذٍ إِذًا وَذَلَّتْ ( وہ دن قریش کی تباہی اور رسوائی کا دن ہوگا)۔ آپ نے فرمایا نہیں، اس دن وہ آباد اور با عزت ہوںگے(بَلْ عَزَّتْ وَعَمَرَتْ يَوْمَئِذٍ يَا عُثْمَانُ)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اس کےبعد وہ وقت آیا کہ مکہ فتح ہوا اور تمام اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آگیا۔ آپ مکہ میں داخل ہو تے ہی سب سے پہلے بیت اللہ گئے۔ آپ نے کعبہ کا سات بار طواف کیا۔ اس کے بعد آپ نے عثمان بن طلحہ کو بلوایا۔ ایک روایت کے مطابق وہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی زمانہ میں مسلمان ہو چکے تھے آپ نے ان سے کنجی لی اور دروازہ کھول کر کعبہ کے اندر داخل ہوئے۔ آپ کچھ دیر اس کے اندر رہے اور وہاں جو بت تھا اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے باہر نکلے تو آپ کے ہاتھ میں اس کی کنجی تھی اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھےإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا (4:58)۔ یعنی اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں اہل امانت کے سپرد کر دو۔ اس وقت آپ کے چچا عباس بن عبد المطلب کھڑے ہو گئے اور کہااجْمَعْ لَنَا الْحِجَابَةَ وَالسِّقَايَةَ۔ یعنی، ہم بنوہاشم کو پہلے سے زائر ین کعبہ کو پانی پلانے کی خدمت حاصل ہے۔ اب کعبہ کی کلید بر داری بھی ہمیں کو دے دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان بن طلحہ کہاں ہیں۔ ان کو بلایا گیا۔ آپ نے کعبہ کی کنجی ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اس کو لو۔ یہ تمہارے خاندان میں ہمیشہ موروثی طور پر رہے گی۔ ظالم کے سوا کوئی بھی تم سے اس کو نہیں چھینے گا (خُذُوهَا يَا بَنِي أَبِي طَلْحَةَ تَالِدَةً خَالِدَةً، لَا يَنْزِعُهَا مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِمٌ) اخبار مكة للازرقي، جلد1، صفحہ267-68۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک دوسری روایت کے مطابق، آپ نے یہ کہا هَاكَ مِفْتَاحَك يَا عُثْمَانُ، الْيَوْمُ يَوْمُ بِرّ وَوَفَاءٍ(الروض الانف، جلد7، صفحہ233)۔یعنی اے عثمان، اپنی کنجی لو، آج وفا اور حسنِ سلوک کا دن ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق کی ادائیگی اور امانتوں کی واپسی کے معاملہ میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ پابند ہو نا چاہیے کہ صاحب حق کی طرف سے تلخی کا مظاہرہ ہو تب بھی جس کا جو حق ہے اس کو اس کا حق پورا پورا ادا کیا جائے۔ حقوق کی ادائیگی سے کسی حال میں بھی تجاوز نہ کیا جائے خواہ وہ اپنی طبیعت کے کتنا ہی خلاف ہو۔
hadithQuotes a hadith
دنیا پر ست لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب ان کو کسی قسم کا اقتدار ملتا ہے توسب سے پہلے وہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے سابق مخالفین کو سزادیں اور ان کو ان کے منصب سے ہٹا کر اپنے عقیدت مندوں کو تمام مناصب پر بٹھا دیں۔ ہر صاحب اقتدار موافق اور مخالف کی اصطلاحوں میں سو چتا ہے۔ موافقین کو اٹھانا اور مخالفین کو کچلنا اس کی پالیسی کا سب سے اہم جزء ہوتا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں اقتدار حاصل ہو ا تو آپ نے اس کے بالکل بر عکس معاملہ کیا۔ آپ نے معاملات کو ’’موافق‘‘ اور ’’مخالف‘‘ کے اعتبار سے نہیں دیکھا بلکہ حق پسندی اور امانت داری کے لحاظ سے دیکھا۔ اور تمام شکایتی باتوں کو نظر انداز کر کے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کیاجو رحمت اور عدل کا تقاضا تھا۔