Maulana Wahiduddin Khan
62 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

مثالی کردار

Urdu · 62 min

پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم 22، اپریل 571ء کو عرب میں پیدا ہوئے اور 8، جون 632ء کو آپ کی وفات ہوئی۔ آپ نہایت تندرست اور طاقت ور تھے۔ بچپن سے یہ حال تھا کہ جو دیکھتا، کہہ اٹھتاإن لهَذَا الْغُلَام لشأناً ( الوفالابن الجوزي، صفحہ 57)۔ بڑے ہوئے تو آپ کی شخصیت اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔ آپ کو دیکھنے والے آپ سے مرعوب ہوجاتے۔ اسی کے ساتھ اتنے نرم اور شیریں زبان تھے کہ تھوڑی دیر بھی جو شخص آپ کے قریب رہتا، آپ سے محبت کرنے لگتا۔ برداشت، سچائی، معاملہ فہمی، حسن سلوک آپ کے اندر کامل درجہ میں پایا جاتاتھا۔ خلاصہ یہ کہ آپ اس انسانی بلندی کی اعلیٰ ترین مثال تھے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں متوازن شخصیت (balanced personality) کہا جا تا ہے ۔ داؤ دبن حصین کا بیان ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قَالُوا شب رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أفضل قومه مروة وَأَحْسَنهمْ خلقا وَأكْرمهمْ مُخَالطَة وَأَحْسَنهمْ جوارا وأعظمهم حلما وَأَمَانَة وأصدقهم حَدِيثا وأبعدهم من الْفُحْش والأذى مَا رُؤِيَ مماريا وَلَا ملاحيا احدا حَتَّى سَمَّاهُ قومه الْأمين (الخصائص الکبری للسیوطی، جلد 1، صفحہ 153)۔ یعنی عرب کے لوگ عام طور پر یہ کہتے سنے جاتے تھے کہ محمد بن عبد اللہ اس شان سے جوان ہوئے کہ آپ اپنی قوم میں سب سے زیادہ بااخلاق، پڑو سیوں کی خبر گیری کرنے والے، حلیم و بر دبار، صادق و امین، جھگڑے سے دور رہنے والے، فحش گوئی و دشنام طرازی سے پرہیز کرنے والے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کی قوم نے آپ کا نام ’’ الا مین‘‘ رکھا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

25سال کی عمر میں جب آپ نے شادی کی تو اس موقع پر آپ کے چچا ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھتے ہوئے کہا تھا

other sourceWords of another person or source

إِن ابْن أخي هَذَا مُحَمَّد بن عبد الله لَا يُوزن بِهِ رجل إِلَّا رجح بِهِ برا وفضلا وكرما وعقلا ومجدا ونبلا... وَهُوَ وَالله بعد هَذَا لَهُ بِنَاء عَظِيم وخطر جليل (جامع الآثار لابن ناصر الدين الدمشقي، جلد3، صفحہ460)۔ یعنی، میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ کا مقابلہ جس شخص سے بھی کیا جائے، وہ نیکی، شرافت، نجابت، بزرگی اور عقل میں اس سے بڑھ جائے گا... خد ا کی قسم اس کا مستقبل عظیم ہوگا، اور اس کا رتبہ بلند ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابو طالب نے یہ الفاظ ان معنوں میں نہیں کہے تھے جن معنوں میں بعد کو تاریخ نے اسے سچا ثابت کیا۔ انہوں نے یہ بات تمام تر د نیوی معنوں میں کہی تھی۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جو شخص فطرت سے وہ پُر کشش شخصیت لے کر پیدا ہوا ہو، جو محمد بن عبد اللہ میں نظر آتی ہے، وہ بہر حال قوم کے اندر معزز مقام حاصل کرتاہے اور دنیا کے بازار میں اس کی بڑی قیمت مل کر رہتی ہے۔ ایسے شخص کی اعلیٰ صلاحیتیں اس کی ترقی اور کامیابی کی یقینی ضمانت ہیں۔

پیغمبر اسلام کے لیے یہ امکانات، بلاشبہ، پوری طرح موجود تھے۔ آپ اپنی صلاحیتیوں کیبڑی سے بڑی دنیوی قیمت و صول کر سکتے تھے۔ آپ مکہ کے ایک اونچے خاندان میں پیدا ہوئے۔ اگر چہ آپ کو اپنے باپ سے وراثت میں صرف ایک اونٹنی اور ایک خادمہ ملی تھی۔ مگر آپ کی شاندار پیدائشی خصوصیات نے مکہ کی سب سے امیر خاتون کو متاثر کیا۔ 25سال کی عمر میں ان سےآپ کا نکاح ہو گیا۔ یہ ایک تاجر خاندان کی بیوہ تھیں۔ ان سے آپ کو نہ صرف مال اور جائداد ملی، بلکہ عرب میں اور عرب کے باہر تجارت کا زبر دست میدان بھی ہاتھ آیا۔ اب آپ کے لیے ایک پُر سکون اور کامیاب زندگی بنانے کے سارے مواقع فراہم ہو چکے تھے۔ مگر آپ نے ان کوچھوڑ کر ایک اور ہی چیز کا انتخاب کیا۔ آپ نے جانتے بو جھتے اپنے کو ایک ایسی راہ پرڈال دیا جو صرف دنیا کی بر بادی کی طرف لے جاتی تھی۔ خدیجہ سے نکاح سے پہلے آپ اپنی گزر اوقات کے لیے کچھ معاشی کا م کر لیتے تھے۔ اب وہ بھی چھوٹ گیا، اب آپ ہمہ تن اس تلاش میں لگ گئے جس کی جستجو آپ کو بچپن سے تھی۔ یہ کہ سچائی کیا ہے۔ آپ گھنٹوں بیٹھے ہوئے زمین و آسمان پر غور کرتے رہتے۔ مکہ کے شرفاء میں اپنے تعلقات بڑھانے اور وہاں کی مجلسوں میں اپنی جگہ پیدا کرنے کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ صحراؤں اور پہاڑوں کو اپنا ہم نشین بنا لیا۔ مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی سلسلہ ہے جس میں ایک کھوہ ہے جس کا نام حراہے۔ آپ ستو اور پانی لے کر وہاں چلے جاتے۔ پہاڑ کے سنسان ماحول میں زندگی کی حقیقت پرغور کرتے۔ زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے سے دعائیں مانگتے کہ میرے رب ! تو اپنے آپ کو میرے اوپر ظاہر کر دے۔ سچائی کیا ہے، مجھ کو بتا دے۔ جب پانی کی مشک خالی ہو جاتی اور ستو ختم ہو جاتا تو گھر واپس آتے تاکہ دوبارہ اسی طرح کھانے پینے کا سامان لے کر قدرت کے اس ماحول میں لوٹ جائیں جہاں صحرا اور درخت تھے۔ پہاڑ اور آسمان کی پر سکون فضائیں تھیں۔ آپ کی بے چین طبیعت انسانی ہنگا موں میں اپنے سوال کا جواب نہ پاسکی تھی۔ اب آپ نے قدرت کی خاموش دنیا کو اپنا ہم نشین بنا یا تھا کہ شاید وہ اس کا کچھ جواب دے سکے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

جوانی کی طاقتوں سے بھر پور ایک شخص کے لیے اس قسم کی زندگی کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ خوشی کے راستہ کو چھوڑ کر غم کے راستہ کو اپنا ناتھا۔ بیوی بچوں کے ساتھ آرام کی زندگی گزارنا، تجارت کو ترقی دینا اور سو سائٹی میں اپنی جگہ بنانا، یہ تمام امکانات آپ کے لیے پوری طرح کھلے ہوئے تھے۔ مگر آپ کی بے تاب اور متلاشی طبیعت ان چیزوں پر راضی ہونے کے لیے تیار نہ تھی۔ تمام چیزیں اس وقت تک آپ کو ہیچ معلوم ہوتی تھیں جب تک آپ زندگی کا راز معلوم نہ کرلیں۔ آپ جاننا چاہتے تھے کہ ان ظاہری چیزوں سے اوپر اگر کوئی حقیقت ہے تو وہ کیا ہے۔ نفع نقصان اور آرام و تکلیف کی اصطلاحوں میں سوچنے کے بجائے آپ اس سوال کو حل کرنے میں منہمک رہتے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔

پیغمبر اسلام کی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میںبیان کیا گیا ہے وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى (93:7)۔ یعنی اور تم کو متلاشی (seeker)پایا تو اس نے تم کو راہ دکھائی۔ ضالّ کے معنی ہیں راہ بھولا ہوا، سر گر داں۔ جیسا کہ آپ کےپچپن کے بارے میںتفسیر میں آیا ہےضَلَّ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ صَغِيرٌ، ثُمَّ رَجَعَ(تفسیر ابن کثیر، جلد8، صفحہ 426)۔یہ لفظ اس مسافر کے لیے بولا جاتا ہے جو راستہ سے بھٹک گیا ہو اور حیران و پریشان مختلف راستوں کو دیکھ رہاہو، اس کی سمجھ میں نہ آتا ہو کہ کدھر جائے۔ اسی لیے اس درخت کو ضالّہ کہتے ہیں جو صحرا میں اکیلا کھڑا ہو اور اس کے آس پاس کوئی دوسرا درخت نہ ہو۔ اسی سے کہا جاتا ہےضلَّ الماءُ فِي اللَّبن، إِذا غَاب (تہذیب اللغۃ للازهري، جلد11، صفحہ 320)۔ یعنی پانی دودھ میں کھوگیا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ جاہلیت کے بیابان میں اکیلے درخت کی طرح کھڑے ہوئے تھے۔ صحراؤں اور پہاڑوں میں یہ غم لیے پھرتے تھے کہ سچائی کیا ہے جس کو میں اپناؤں۔ دنیا کے مروجہ نقشوں میں اپنی جگہ بنانے کے بجائے حیران و متفکر ہو کر الگ تھلگ جا پڑے تھے۔ سچائی سے کمتر کوئی چیز آپ کی روح کے لیے تسکین کا ذریعہ نہیں بن سکتی تھی۔ حتٰی کہ آپ کی تلاش حق کی سر گردانی اس نوبت کو پہنچ گئی تھی کہ زندگی آپ کے لیے ایک ایسا بوجھ بن گئی جو آپ کی کمر توڑے دے رہی تھی (الم نشرح، 94:2-3)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس وقت اللہ کی رحمت آ پ کی طرف متوجہ ہوئی۔ آپ کےلیے ہدایت اور روشنی کے دروازے کھول دیے گئے۔ 12فروری 610کو جب کہ آپ حرا میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے، خدا کا فرشتہ انسان کی صورت میں آپ کےسامنے ظاہر ہوا اور خدا کی طرف سے آپ کو وہ کلمات سکھائے جو قرآن کی سورہ نمبر 96کی ابتدا میں درج ہیں۔ آپ کی تلاش نے بالآخر اپنا جواب پالیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام کی بے چین روح کا ربط رب العالمین سے قائم ہو گیا۔ خدا نے آپ کو نہ صرف ہدایت دی بلکہ اپنے نمائندۂ خاص کی حیثیت سے چن لیا۔ آپ کے اوپر خدا کا کلام اتر نے لگا۔ آپ کی نبوت کی یہ مدت23سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مدت میں خدا کی کتاب (قرآن ) مکمل طور پر آپ کے اوپر اتاری گئی۔

پیغمبر اسلام نےاپنی مشکل زندگی کے چالیسویں سال میں سچائی دریافت کر لی۔ مگر یہ سچائی آپ کے لیے کوئی آسان سودا نہ تھی۔ اس سچائی کا مطلب یہ تھا کہ آدمی ایک عظیم تر خدا کی زد میں ہے۔ یہ اپنے عجز کےمقابلہ میں خدا کی کبر یائی کی دریافت تھی۔ یہ خدا کے اثبات کے مقابلہ میں اپنی نفی کا پتہ لگاناتھا۔ یہ اس راز کومعلوم کرنا تھا کہ اس دنیا میں بندۂ مومن کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں، یہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔

سچائی کی دریافت کے بعد، پیغمبر اسلام کے لیے، زندگی کے معنی کیا تھے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہاں صرف ایک حدیث نقل کی جاتی ہے۔ آپ نے ایک بار فرمایا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

أَمَرَنِي رَبِّي بِتِسْعخَشْيَةِ اللهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَكَلِمَةِ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَى وَالْقَصْدِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي وَأُعْطِي مَنْ حَرَمَنِي وَأَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَنِي وَأَنْ يَكُونَ صَمْتِي فِكْرًا وَنُطْقِي ذِكْرًا وَنَظَرِي عِبْرَةً (رواہ رزین، بحوالہ جامع الاصول، حدیث نمبر9317)۔ یعنی میرے رب نے مجھے نوباتوں کا حکم دیا ہے— کھلے اورچھپے ہر حال میں خدا سے ڈرتا رہوں، غصہ میں ہوں یا خوشی میں، ہمیشہ انصاف کی بات کہوں، محتاجی اور امیری دونوں حالتوں میں اعتدال پر قائم رہوں، جومجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں، جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں، جومجھ پر ظلم کرے، میں اس کو معاف کردوں، اور میری خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو، میرا بولنا یا دِالٰہی کا بولنا ہو، میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ محض تقریر یا گفتگو کے الفاظ نہ تھے۔ یہ خود آپ کی زندگی تھی جو لفظوں کی صورت میں ڈھل رہی تھی۔ یہ حیرت انگیز حدتک موثر کلمات اور اس قدر پہنچی ہوئی باتیں ایک خالی انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتیں۔ یہ الفاظ تو خود بولنے والے کا مقام بتا رہے ہیں۔ وہ کہنے والے کے اندرون کو انڈیل رہے ہیں۔ وہ بولنے والے کی روح کو الفاظ کے آئینہ میں بے نقاب کر رہے ہیں ۔

آپ کی زندگی اگر چہ نبوت ملنے سے پہلے بھی اسی قسم کی تھی۔ مگر وہ تمام تر فطرت کے زور پر تھی۔ اب سچائی کی دریافت نے اس کو شعور کا درجہ دے دیا۔ جو کر دار اب تک طبعی تقاضے کے تحت ظاہر ہوتاتھا۔ اب وہ ایک سوچے سمجھے ذہن کا ارادی جز بن گیا۔ یہ کسی بندۂ خدا کا وہ مقام ہےجہاں دنیوی تقاضے انتہائی حدتک گھٹ کر صرف بقدر حاجت رہ جاتے ہیں۔ آدمی کی جینے کی سطح عام انسانوں سے مختلف ہو جاتی ہے۔ اس کا جسم اِسی ظاہری دنیا میں ہوتا ہے مگر نفسیاتی اعتبار سے وہ ایک اور دنیا میں زندگی گزارنے لگتاہے۔

ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے فرمایا

وَعَلَى الْعَاقِلِ مَا لَمْ يَكُنْ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ أَنْ تَكُونَ لَهُ سَاعَاتسَاعَةٌ يُنَاجِي فِيهَا رَبَّهُ، وَسَاعَةٌ يُحَاسِبُ فِيهَا نَفْسَهُ، وَسَاعَةٌ يَتَفَكَّرُ فِيهَا فِي صُنْعِ اللهِ، وَسَاعَةٌ يَخْلُو فِيهَا لِحَاجَتِهِ مِنَ الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ يعني،عقلمند شخص کے لیے لازم ہے کہ اس پر کچھ گھڑ یا ں گزریں ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے، ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرے، ایسی گھڑی جب کہ وہ خدا کی تخلیق میںغور کر رہا ہو۔ اور ایسی گھڑی جب کہ وہ کھانے پینے کی ضرورتوں کے لیے وقت نکالے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گویا خدا کا وفاد ار بندہ وہ ہے جس کے روز و شب کے لمحات اس طرح گزریں کہ کبھی اس کی بے قراریاں اس کو خدا سے اتنا قریب کردیں کہ وہ اپنے رب سے سر گوشیاں کرنے لگے۔ کبھی یوم الحساب میں کھڑے ہونے کا خوف اس پر اس طرح طاری ہو کہ وہ دنیاہی میں اپنا حساب کرنے لگے۔ کبھی کائنات میں خدا کی کاریگری کو دیکھ کر وہ اس میں اتنا محوہو کہ اس کے اندر اس کو خالق کے جلوے نظر آنے لگیں۔ اس طرح گویا خدا سے ملاقات، اپنے آپ سے ملاقات اور کائنات سے ملاقات میں اس کے لمحات گزر رہے ہوں۔ اور بدرجۂ حاجت وہ کسی وقت کھانے پینے کے لیے بھی اپنے کو فارغ کر لیا کرے۔

یہ الفاظ دور کے کسی انسان کا تعارف نہیں ہیں ۔ اس میں خود پیغمبر اسلام کی اپنی شخصیت بول رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ظاہری جسم کے اندر جو مومنانہ روح تھی اس میں ہر وقت کس قسم کے طوفان اٹھتے رہتے تھے۔ آپ کی زندگی کس قسم کی ’’ساعات‘ ‘ کے درمیان گزررہی تھی حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خود ان گھڑیوں کا تجربہ کر رہاہو، وہ کبھی اتنے اعلیٰ الفاظ میں اس بات کو بیان ہی نہیں کرسکتا۔ یہ ایک ایسی روح سے نکلے ہوئے کلمات ہیں جس نے ان کیفیات کو خود کمال درجہ میں پایا تھا جس کو وہ لفظوں کے ذریعہ دوسروں پر کھول رہا تھا۔

پیغمبر اسلام کو وحی خدا وندی ملنے سے پہلے، موجودہ دنیا اپنی کمیوں اور محدو دیتوں کے ساتھ بے معنی معلوم ہوتی تھی۔ مگر جب آپ پر خدانے اس حقیقت کو کھولا کہ اس دنیا کے سوا ایک او ر دنیا ہے جو کامل اور ابدی ہے اور وہی انسان کی اصلی قیام گاہ ہے، تو زندگی اور کائنات دونوں آپ کے لیے بامعنی ہوگئے۔ اب آپ نے زندگی کی وہ سطح پالی جہاں آپ جی سکتے تھے، جس میں آپ اپنا دل لگا سکتے تھے۔ اب آپ کو ایسی حقیقی دنیا مل گئی جس سے اپنی امیدوں اور تمناؤں کو وابستہ کر سکیں جس کے پیش نظر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں۔

یہی مطلب ہےپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب اس حدیث کا کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ( الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ)المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر 497۔ اس احساس کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کو آج کل کی اصطلاح میں آخرت رخی زندگی (Akhirat-Oriented Life)کہا جا سکتا ہے۔ ایسا آدمی، اپنے تصور حیات کے لازمی نتیجہ کے طور پر، آخرت کو اپنا اصل مسئلہ سمجھنے لگتاہے۔ وہ اس سے باخبر ہوجاتا ہے کہ دنیا ہماری منزل نہیں، وہ صرف راستہ ہے۔ وہ آخرت کے مستقبل کی تیاری کا ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ جس طرح ایک دنیا پر ست آدمی کی تمام سر گرمیاں دنیوی مصالح کے گرد گھومتی ہیں، اسی طرح ایک بندۂ خدا کی پوری زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جاتا ہے۔ ہرمعاملہ میں اس کا رویہ اس فکر کےتحت بنتا ہے کہ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا؟ خوشی ہو یا غم، کامیابی ہو یا ناکامی، محکومی کی حالت ہو یا غلبہ کی، تعریف کی جارہی ہو یا تنقید، غصہ کا موقع ہو یا محبت کا ہر حال میں آخرت کا خیال اس کا رہنما بنا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ آخرت کی فکر اس کے لاشعور کا جز ء بن جاتا ہے۔ اگرچہ اب بھی وہ بشریت سے خالی نہیں ہوتا۔ مگر اس کا ذہن ان ہی امور میں چلتا ہے جو آخرت سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ جن باتوں میںآخرت کا کوئی پہلو نہ ہو ان سے اس کی دلچسپیاں اتنی کم ہو جاتی ہیں کہ بعض اوقات اس کو کہنا پڑتا ہےأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2363)۔ یعنی تم اپنے دنیا کے معاملے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حقیقت کی حیثیت محض ایک علمی دریافت کی نہیں۔ اس کو پانے کے بعد آدمی کی جینے کی سطح بدل جاتی ہے آدمی کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال خود پیغمبر اسلام کی ذات ہے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب تک جینے کی سطح نہ بدلے، عمل کی سطح نہیں بدل سکتی۔

پیغمبر اسلام نے جب یہ حقیقت پائی تو وہ ان کی پوری زندگی کا سب سے بڑا کنسرن بن گئی۔ جس جنت کی خبر آپ دوسروں کو دے رہے تھے، اس کے آپ خود سب سے زیادہ حریص بن گئے اور جس جہنم سے دوسروں کو ڈرارہے تھے ،اس سے آپ خود سب سے زیادہ ڈرنے لگے۔ آپ کا یہ اندرونی طوفان بار بار دعا اور استغفار کی صورت میں آپ کی زبان سے ظاہر ہوتا رہتاتھا۔ آپ کی جینے کی سطح عام انسانوں سے کس طرح مختلف تھی اس کا اندازہ چند واقعات سے ہوگا۔

ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا، فَدَعَا وَصِيفَةً لَهُ - أَوْ لَهَا - فَأَبْطَأَتْ، فَاسْتَبَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى الْحِجَابِ، فَوَجَدَتِ الْوَصِيفَةَ تَلْعَبُ، وَمَعَهُ سِوَاكٌ، فَقَاللَوْلَا خَشْيَةُ الْقَوَدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَأَوْجَعْتُكِ بِهَذَا السِّوَاكِ(الأدب المفرد، حدیث نمبر 184)۔ يعني، ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے آپ نے خادمہ کو بلایا۔ اس نے آنے میں دیر کی۔ آپ کے چہرہ پر غصہ ظاہر ہوگیا۔ ام سلمہ نے پردہ کے پاس جا کر دیکھاتو خادمہ کو کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اگر قیامت کے دن مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

بدر کی جنگ (رمضان2ھ) کے بعد جو لوگ قیدی بن کرآئے، وہ آپ کے بد ترین دشمن تھے۔ مگر آپ نے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ ان قیدیوں میں ایک شخص سہیل بن عمر و تھا جو آتش بیان خطیب تھا اور تمام مجمعوں میں آپ کے خلاف بیہودہ تقریریں کیا کرتا تھا۔ عمر فاروق نے رائے دی کہ اس کے نیچے کے دو دانت اکھڑوادیے جائیں تاکہ آئندہ کے لیے اس کا تقریر کا جوش ختم ہو جائے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

لَا أُمَثِّلُ بِهِ فَيُمَثِّلُ اللهُ بِي وَإِنْ كُنْتُ نَبِيًّا(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ649)۔ یعنی میں اس کا چہرہ نہیں بگاڑوں گا،ورنہ خدا میرا چہرہ بگاڑ دے گا، اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ خوشی کی بات سے آپ کو خوشی ہوتی تھی اور غم کی بات سے آپ غمگین ہوتے تھے۔ مگر آپ کی عبدیت آپ کو خدا کے مقرر کیے ہوئے دائرہ سے باہر نہیں جانے دیتی تھی۔

پیغمبر اسلام کی آخر عمر میں مار یہ قبطیہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ یہ لڑکا خوبصورت اور تندرست تھا۔ اس کا نام آپ نے اپنے بزرگ ترین جدا مجد کے نام پر ابراہیم رکھا۔ ابو رافع نے جب ابراہیم کی پیدائش کی خبردی تو آپ اتنا خوش ہوئے کہ ابو رافع کو ایک غلام انعام میں دے دیا۔ آپ ابراہیم کو گود میں لے کر کھلاتے اور پیار کرتے۔ عرب قاعدہ کے مطابق ابراہیم کو ایک دایہ ام بردہ بنت المنذربن زید انصاری کے حوالے کیاگیا تاکہ وہ دودھ پلائیں۔ یہ دایہ ایک لوہار کی بیوی تھیں۔ ان کے چھوٹے سے گھر میں اکثر بھٹی کا دھواں ہوتارہتا۔ آپ لڑکے کو دیکھنے کے لیے لوہار کے گھر جاتے اور وہاں دھواں آپ کی آنکھ اور ناک میں گھستا رہتا اور آپ انتہائی نازک طبع ہونے کے با وجود اس کو برداشت کرتے۔ ابراہیم ابھی ڈیڑھ سال کے ہوئےتھے کہ ہجرت کے دسویں سال (جنوری 632ء)میں ان کا انتقال ہوگیا۔ آپ بیٹے کی موت کو دیکھ کر رونے لگے۔

ان واقعات میں پیغمبر اسلام ایک عام انسان کی طرح نظر آتے ہیں۔ ان کے جذبات، ان کی حسرتیں ویسی ہی ہیں جیسی ایک عام باپ کی ہوتی ہیں۔ مگر اس کے با وجود خدا کا دامن آپ کے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتا۔ آپ غم زدہ ہیں مگر زبان سے نکل رہا ہے

تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبَّنَا، وَاللهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2315)۔ یعنی آنکھ رورہی ہے، دل دکھی ہے، مگر ہم وہی بات کہیں گے جو ہمارےرب کو پسند ہو، خدا کی قسم اے ابراہیم ہم تمہاری موت سے غمگین ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جس دن ابراہیم کا انتقال ہوا۔ اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا۔ قدیم زمانہ میں اعتقاد تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی موت سے ہوا کر تے ہیں۔ اس کے اثر سے مدینہ کے مسلمان کہنے لگے کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ کو یہ بات بہت نا پسند ہوئی۔ کیوں کہ یہ انسان کی عاجز ا نہ حیثیت کے خلاف تھی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی، آپ نے فرمایا

إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا(صحيح البخاري، حديث نمبر 1042)۔يعني، سورج چاند میں کسی انسان کی موت اور زندگي سے گهن نہیں لگتا۔ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ کا ایک واقعہ تاریخ ان لفظوں میں بتاتی ہے

وَكَانَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فِي بعض أَسْفَاره فَأمر بإصلاح شاه ،فَقَالَ رجل يَا رَسُول الله عَليّ ذَبحهَا، وَقَالَ آخر عَليّ سلخها، وَقَالَ آخر عَليّ طبخها، فَقَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَعلي جمع الْحَطب، فَقَالُوا، يَا رَسُول الله نَحن نكفيك، فَقَالَ قد علمت أَنكُمْ تكفوني وَلَكِنِّي أكره أَن أتميز عَلَيْكُم فَإِن الله يكره من عَبده أَن يرَاهُ متميزا بَين أَصْحَابه(خلاصة سير سيد البشر لمحب الدين الطبري، صفحہ87)۔ یعنی، ایک بار آپ سفر میں تھے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے ایک بکری تیار کرنے کا حکم دیا۔ ایک شخص بولا میں اس کو ذبح کروں گا۔ دوسرے نے کہا میں اس کی کھال اتاروں گا۔ تیسرے نے کہا، میں اس کو پکاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لکڑی جمع کروں گا۔ لوگوں نے کہا، اے خدا کےرسول، ہم سب کا م کر لیں گے۔ آپ نے فرمایا، میںجانتا ہوں کہ تم لوگ کر لوگے۔ مگر میں امتیاز کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ کو یہ پسند نہیں کہ اس کا کوئی بندہ اپنے ساتھیوں کے درمیان امتیاز کے ساتھ رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ کی عبدیت کا یہ حال تھا کہ آپ نے فرمایا

وَاللهِ مَا أَدْرِي، وَأَنَا رَسُولُ اللهِ، مَا يُفْعَلُ بِي وَلاَ بِكُم(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7018)۔ یعنی خدا کی قسم میں نہیں جانتا، اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں، کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمہارے ساتھ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابو ذر غفاری بتاتے ہیں۔ ایک روز میں ایک مسلمان (صحابی) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ان کا رنگ کا لا تھا۔ کسی ضرورت سے میں نے ان کو خطاب کیا تو میری زبان سے نکل گیا

یا ابن السوداء( اے کالے رنگ والی عورت کے بیٹے) ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو سخت نا پسند کیا اور فرمایا طف الصاع طف الصاع (پیمانہ پورا بھر، پیمانہ پورا بھر) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یعنی سب کو ایک پیمانہ سے دو۔ ایسا نہ کرو کہ کسی کو اچھے الفاظ کے ساتھ خطاب کرو اور کسی کو برے الفاظ کے ساتھ۔ انسان اور انسان کے درمیان امتیاز نہ کرو۔ پھر آپ نے فرمایا

ليس لابن البيضاء على ابن السوداء فضل (کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں)۔

ابو ذر غفاری کو اس تنبیہ کے بعد فی الفور اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ شدت خوف سے زمین پر لیٹ گئے اور اس شخص سے کہا

قُمْ فَطَأْ عَلَى خَدِّي(کھڑا ہو اور میرے چہرے کو اپنے پیروں سے مسل دے ) تخريج احاديث إحياء علوم الدين، حدیث نمبر 3226۔

hadithQuotes a hadith

ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مال دار مسلمان کو دیکھا کہ وہ اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک غریب مسلمان سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے کپڑے سمیٹ رہاہے۔ آپ نے فرمایا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

أَخَشِيتَ يَا فُلَانُ أَنْ يَعْدُوَ غِنَاكَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يَعْدُوَ فَقْرَهُ عَلَيْكَ؟ (الزھد لاحمد بن حنبل، حدیث نمبر207)۔اے فلاں، کیا تم ڈر تے ہو کہ تمھاری مالداری اس کو مل جائے گی، اور اس کی غریبی تم کو لپٹ جائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مدینہ میں با قاعدہ اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں۔ اس زمانہ میں آپ کو ایک بار ایک یہودی سے قرض لینے کی ضرورت پیش آئی جس کا نام زید بن سعنہ تھا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے جو مدت طے ہوئی تھی، ابھی اس میں چند دن باقی تھے کہ یہودی تقاضا کرنے کے لیے آگیا۔ اس نے آپ کے کندھے کی چادر اتارلی اور کرتا پکڑ کر سختی سے بولا’’میرا قرض ادا کرو‘‘۔ پھر کہنے لگا’’عبد المطلب کی اولاد بڑی نا دہند ہے ‘‘۔

حضرت عمر اس وقت آپ کے ساتھ تھے۔ یہودی کی بد تمیزی پر ان کو سخت غصہ آیا۔ انہوں نے اس کو ڈانٹا۔ قریب تھا کہ اس کو مارنا شروع کردیں، مگر پیغمبر اسلام نے فرمایا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ أَحْوَجَ، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْقَضَاءِ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التَّقَاضِي(عمر! میں اور یہ یہودی تم سے ایک اور برتاؤ کے زیادہ ضرورت مند تھے، مجھ سے تم بہتر ادائیگی کے لیے کہتے اور اس سے بہتر تقاضے کے لیے )۔پھرآپ نےکہا ابھی تو وعدہ میںتین دن باقی ہیں (أَمَا إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ أَجَلِهِ ثَلَاثٌ ) پھر عمر فاروق سے فرمایا کہ جاؤ اس کا قرض ادا کر دو۔ اور 30 صاع زیادہ دینا، کیونکہ تم نے اسے جھڑ کا تھا (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 2237) ۔

other sourceWords of another person or source

پیغمبر اسلام کو اپنی زندگی میں اتنی کامیابی حاصل ہوئی کہ آپ عرب سے لے کر فلسطین تک کے علاقہ کے حکمراں بن گئے۔ رسول اللہ ہونے کی وجہ سے آپ کی زبان قانون کا درجہ رکھتی تھی۔ آپ ایسے لوگوں کے درمیان تھے جو آپ کی عقیدت و تعظیم اتنی زیادہ کرتے تھے جو کبھی کسی انسان کی نہیں کی گئی۔ حدیبیہ کی بات چیت کے موقع پر عر وہ بن مسعود قریش کے سفیر کی حیثیت سے آئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جب آپ وضو کرتے ہیں تو لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ آپ کے وضو کا پانی زمین پر گرنے سے پہلے ہاتھ پر لے لیں اور اس کو تبرک کے طور پر جسم پر ملیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ انتہائی محبت کے باوجود ہم لوگ آنکھ بھر کر آپ کو نہیں دیکھ سکتے تھے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 121)۔ یہی معاملہ دوسرے صحابہ کا بھی تھا۔ انس کہتے ہیں کہ کسی صحابی کو آپ کی رہائش گاہ پر دستک دینے کی ضرورت ہوتی تو وہ ناخن سے دروازہ کھٹکھٹاتا تھا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 8436)۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرخ چادر اوڑھ کر چاندنی رات میں سور ہے تھے۔ میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی آپ کو۔ بالآخر میں نے یہی فیصلہ کیا کہ آپ چاند سے زیادہ خوش نما ہیں (فَإِذَا هُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ القَمَرِ) سنن الترمذي، حديث نمبر2811۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حنین میں جب جنگ کے شروع میں مسلم فوج کو شکست ہوئی اور مخالف فوج نےآپ کے اوپر تیروں کی بارش شروع کر دی تو آپ کے ساتھیوں نےآپ کو گھیرے میں لے لیا وہ سارے تیر اپنے ہاتھ اور جسم پر اس طرح روکتے رہے جیسے وہ انسان نہیں، لکڑی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض ساتھیوں کا یہ حال ہواکہ ان کے جسم پر ساہی (porcupine) کے کا نٹے کی طرح تیر لٹکنے لگے تھے۔

اس قسم کا مرتبہ اور عقیدت آدمی کے مزاج کو بگاڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ مگر آپ لوگوں کے درمیان بالکل عام انسان کی طرح رہتے۔ کوئی تلخ تنقید یا اشتعال انگیز رویہ آپ کو آپے سے باہر کرنے والا ثابت نہ ہوتا۔ صحیحین میں حضرت انس سے منقول ہے کہ ایک دیہاتی آیا۔ اس نے آپ کی چادر کو زور سے کھینچا جس کی وجہ سے آپ کی گردن میں نشان پڑگیا۔ پھر بولا’’محمد ! میرے یہ دو اونٹ ہیں۔ ان کی لاد کا سامان مجھے دو۔ کیوں کہ جو مال تیرے پاس ہے، وہ نہ تیرا ہے، نہ تیرے باپ کا ہے‘‘۔ آپ نے فرمایا مال تو اللہ کا ہے ،اور میں اس کا بنده ہوں۔ پھر دیہاتی سے پوچھا’’جو برتاؤ تم نے مجھ سے کیا ، اس پر تم ڈرتے نہیں‘‘۔وہ بولا نہیں۔ آپ نے پوچھا کیوں۔ اس نے کہا مجھے معلوم ہے کہ تم برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے(لأنك لا تكافِىء بالسيئة السيئة)۔ آپ یہ سن کر ہنس پڑے اور حکم دیا کہ دیہاتی کو ایک اونٹ بھر جَو دیا جائے اور دوسرے پر کھجوریں دی جائیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3149،الشفا ءللقاضي عياض، جلد1، صفحہ225-26)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

آپ پر خدا کی ہیبت اتنی طاری رہتی کہ آپ بالکل عجز اور بندگی کی تصویر بنے رہتے تھے۔ بہت کم بولتے، چلتے تو جھک کر چلتے، تنقید سے کبھی خفا نہ ہوتے۔ کپڑا پہنتے تو فرماتے کہ میں خدا کا بندہ ہوں اور بندوں کی طرح لباس پہنتا ہوں(إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ أَلْبَسُ كَمَا يَلْبَسُ الْعَبْدُ( المغني عن حمل الأسفارللعراقي، حدیث نمبر 2465۔کھانا کھاتے تو ادب کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے اور فرماتے کہ میں عام انسان ہوں، اور عام انسانوں کی طرح کھانا کھاتا ہوں (إِنَّمَا أَنَا عَبد آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ) مسند البزار، حدیث نمبر 5752۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملہ میں آپ کي حساسیت(sensitivity) کا عالم یہ تھا کہ آپ کے ایک ساتھی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار کہا

يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ (اے اللہ کے رسول! جواللہ چاہے اور جو آپ چاہیں )۔یہ سنتے ہی آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے درشتی کے ساتھ فرمایاجَعَلْتَنِي لِلهِ عَدْلًا ( تم نے مجھے اللہ کے برابر کر دیا)۔ تم کو اس طرح کہنا چاہیےمَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ (وہ ہوگاجو اللہ چاہے ) مسند احمد، حدیث نمبر 2561۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اسی طرح ایک صحابی نے تقریر کرتے ہوئے کہا

مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَدْ غَوَى(جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے وہ گمراہ ہے)۔آپ نےیہ سن کر فرمایابِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ(تو قوم کا برا خطیب ہے ) صحيح مسلم، حدیث نمبر 870۔

quoted sourceQuoted from another author or source

آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ اللہ اور رسول کو تثنیہ کی ایک ہی ضمیر میں جمع کر دیا جائے

The Prophet observed, disliking a reference, which placed him in the same pronoun as the Almighty.

hadithQuotes a hadith

پیغمبر اسلام کے یہاں تین لڑکے پیدا ہوئے جو بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ چار صاحبزادیاں بڑی عمر کو پہنچیں۔ چاروں حضرت خدیجہ کے بطن سے تھیں۔ حضرت فاطمہ آپ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔ آپ حضرت فاطمہ سے بے حد محبت کرتےتھے۔ کسی سفر سے واپس لوٹتے تو مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہ کے گھر جاتے (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 595)۔ ان کے ہاتھ اور پیشانی کو چومتے (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 4753)۔ حضرت عائشہ سے جمیع بن عمیر صحابی نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا۔ انہوں نے جواب دیا ’’فاطمہ ‘‘  (جامع الترمذی، حدیث نمبر 3874)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر پیغمبر اسلام کی پوری زندگی آخرت میں ڈھل گئی تھی۔ اس لیے اولاد سے محبت کا مفہوم بھی آپ کے یہاں دوسرا تھا۔ ایک روایت جو نسائی کے سوا دوسری تمام کتب صحاح میں نقل ہوئی ہے، یہ ہے کہ علی مرتضٰی نے ایک بار ابن عبد الواحد سے فرمایا۔ میںتجھ کو فاطمہ بنت رسول کی ایک بات سناؤں جو سارے کنبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ ابن عبد الواحد نے کہا، ہاں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت علی نے کہا۔ فاطمہ کا یہ حال تھا کہ چکی پیستیں تو ہاتھ میں چھالے پڑ جاتے۔ پانی کی مشک اٹھانے کی وجہ سے گر دن میں نشان پڑ گیا تھا۔ جھاڑو دیتیں تو کپڑے میلے ہو جاتے۔ انہیں دنوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خادم آئے۔ میں نے فاطمہ سے کہا، تم اپنے والد کے پاس جاؤ اور اپنے لیے ایک خادم مانگو۔ فاطمہ گئیں۔ مگر وہاں ہجوم تھا مل نہ سکیں۔ اگلے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے اور پوچھا کہ کیا ضرورت تھی۔ فاطمہ چپ ہو گئیں۔ میں نے قصہ بتایا اور یہ بھی کہا کہ میں نے ان کو کہلاکر بھیجا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے کے بعد فرمایا

hadithQuotes a hadith

اتَّقِي اللهَ يَا فَاطِمَةُ، وَأَدِّي فَرِيضَةَ رَبِّكِ، وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِكِ، فَإِذَا أَخَذْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَتِلْكَ مِائَةٌ، فَهِيَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ( اے فاطمہ! خدا سے ڈرو۔ اپنے رب کے فرائض ادا کرو اپنے گھر والوں کا کام کرو۔ جب بستر پر جاؤ تو 33بار خدا کی تسبیح کرو، 33بار خدا کی حمد کرو، 34 بار خدا کی تکبیر کرو۔ یہ پورا سو ہو گیا۔ یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے)۔ فاطمہ نے یہ سن کر کہارَضِيتُ عَنِ الله عَزَّ وَجَلَّ، وَعَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (میںخدا او ر اس کے رسول سےاس پر خوش ہوں ) ۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بس یہ جواب دیا اور فاطمہ کو خادم نہیں دیا (وَلَمْ يُخْدِمْهَا)۔ سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2988-89

unverifiedAttribution could not be verified automatically

پیغمبر اسلام پر جو حقیقت کھولی گئی، وہ یہ تھی کہ یہ عالم بے خدا نہیں ہے۔ اس کا ایک خدا ہے اور وہی اس کا خالق اور مالک ہے۔ سارے انسان اس کے بندے ہیں اور اسی کے سامنے بالآخر جواب دہ ہیں۔مرنے کے بعد آدمی ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ دوسری دنیا میں اپنی مستقل زندگی شروع کرنے کے لیے داخل ہو جاتا ہے۔ وہاں نیک آدمیوں کے لیے جنت کا آرام ہے اور برے لوگوں کے لیے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔

خدانے جب آپ کو اس حقیقت کا علم دیا تو یہ بھی حکم دیا کہ سارے انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر دو۔ مکہ کے کنارے صفانام کی ایک چٹان تھی جو اس زمانہ میں عوامی اجتماعات کے لیے قدرتی اسٹیج کا کام دیتی تھی۔ آپ نے صفا پر چڑھ کر لوگوں کو پکارا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے تقریر کی۔ آپ نے خدا کی عظمت بیان کرنے کے بعد کہا

وَالله، لَتَمُوتُنَّ كَمَا تَنَامُونَ، وَلَتُبْعَثُنَّ كَمَا تَسْتَيْقِظُونَ، وَلَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُونَ، وَلَتُجْزَوُنَّ بِالإِحْسَانِ إِحْسَانًا وَبِالسُّوءِ سواء. وَإِنَّهَا لَلْجَنَّةُ أَبَدًا، وَالنَّارُ أَبَدًا (انساب الاشراف للبلاذری، جلد1، صفحہ119)۔ يعني خدا کی قسم تمھیں مرنا ہے جس طرح تم سوتے ہو اور پھر تم کو اٹھنا ہے جس طرح تم جاگتے ہو اور ضرور تم سے حساب لیا جائے گا جو تم کرتے ہو اور پھرتم کو اچھے کام کا اچھا بدلہ دیا جائے گا، اور برے کام کا برا بدلہ اور اس کے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے باغ ہے یا ہمیشہ کے لیے آگ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زمانہ کے خلاف کسی طریقہ کو آدمی صرف ذاتی طور پر اختیار کرے تو اس وقت بھی اگر چہ قدم قدم پر مشکلیں پیش آتی ہیں، تاہم یہ مشکلیں جا رحانہ نوعیت کی نہیں ہوتیں۔ یہ مشکلیں آدمی کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔مگر وہ آدمی کے جسم کو زخمی نہیں کرتیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ آدمی کے خاموش صبر کا امتحان ہوتی ہیں۔ مگر اس وقت صورت حال بالکل بدل جاتی ہے جب آدمی زمانہ کے خلاف ایک آواز کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے، جب وہ دوسروں سے کہنے لگے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو۔ پیغمبر اسلام صرف ایک بندۂ مومن نہ تھے بلکہ پیغام اِلٰہی کو دوسروں تک پہنچانے کا مشن بھی آپ کے سپرد کیا گیاتھا۔آپ کی اس دوسری حیثیت نے آپ کو پوری عرب قوم سے ٹکرادیا۔ فاقہ سے لے کر جنگ تک سخت ترین حالات پیش آئے۔ مگر 23سال کی پوری زندگی میں آپ مکمل طور پر انصاف اور تقویٰ پر قائم رہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ کے اندر انسانی جذبات نہیں تھے، اصل یہ ہے کہ خدا کے خوف نے آپ کو پابند بنا رکھا تھا۔

ہجرت کے تیسرے سال مکہ کے مخالفین نے مدینہ پر چڑھائی کی اور وہ معرکہ پیش آیا جس کو غزوۂ احد کہا جاتا ہے اس جنگ میں ابتداء ً مسلمانوں نے فتح پائی۔ مگر اس کے بعد آپ کے بعض ساتھیوں کی غلطی سے دشمنوں کو موقع مل گیا اور انہوں نے پیچھے سے حملہ کر کے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ یہ بڑا بھیانک منظر تھا۔ آپ کے اکثر ساتھی میدان جنگ سے بھاگنے لگے۔ یہاںتک کہ آپ مسلح دشمنوں کے نرغہ میں تنہا ہوگئے۔ مخالف ہجوم بھوکے بھیڑ یے کی طرح آپ کی طرف بڑھ رہاتھا۔ اس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں کو پکارنا شروع کیا

إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ، إِلَيَّ عِبَادَ الله(سیرت ابن کثیر، جلد3، صفحہ44)،یعنی خدا کے بند و میری طرف آؤ، خدا کے بند و میری طرف آؤ۔ اور یہ کہ مَنْ رَجُلٌ يَشْرِي لَنَا بِنَفْسِهِ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 81)۔کون ہے جو ہمارے لیے اپنی جان قربان کرے۔کون ہےجو ان ظالموں کو مجھ سے ہٹائے، وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا (’’مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ ‘‘ أَوْ’’هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ‘‘)۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1789

quoted sourceQuoted from another author or source

وہ کیسا ہو لناک سماں ہوگا۔ جب خدا کے رسول کی زبان سے اس قسم کے الفاظ نکل رہےتھے۔ اگر چہ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک تعداد نے آپ کی پکار پر لبیک کہی۔ مگر اس وقت اتنا انتشار کا عالم تھا کہ آپ کے جاں نثار بھی آپ کو پوری طرح بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ عتبہ ابن ابی وقاص نے آ پ کے اوپر ایک پتھر پھینکا۔ یہ پتھر آپ کو اتنے زور سے لگا کہ ہونٹ کچل گئے اور نیچے کے دانت ٹوٹ گئے۔ عبد اللہ ابن قمیہ قریش کا مشہور پہلوان تھا۔ اس نے آپ پر شدید حملہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں لو ہے کی خود کی دو کڑیاں آپ کے رخسار میں گھس گئیں۔ یہ کڑیاں اتنی گہرائی تک گھس گئي تھیں کہ ابو عبیدہ بن الجراح نے جب ان کو نکالنے کے لیے اپنے دانتوں سے پکڑ کر کھینچا توابو عبیدہ کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ ایک اور شخص عبد اللہ بن شہاب زہری نے آپ کوپتھر مارا جس سے آپ کی پیشانی زخمی ہوگئی۔ مسلسل خون بہنے سے آپ بے حد کمزور ہوگئے۔ حتٰی کہ آپ ایک گڑھے میں گر پڑے۔ میدان میں جب آپ دیر تک نظر نہیں آئے تو مشہور ہو گیا کہ آپ شہید ہوگئے۔ اس دوران میں آپ کے ایک صحابی كعب بن مالك کی نظر گڑھے کی طرف گئی وہ آپ کو دیکھ کر خوشی میں بول پڑے ’’رسول اللہ یہاں ہیں ‘‘ آپ نے انگلی کےاشارے سے ان کو منع کیا کہ چپ رہو(فأشار إلي أن أنصت )سیرت ابن اسحاق، صفحہ 330۔ دشمنوں کو میری یہاں موجود گی کا علم نہ ہو نے دو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایسے خوفناک حالات میں آپ کی زبان سے قریش کے بعض سرداروں (صفوان، سہیل، حارث) کے لیے بد دعا کے الفاظ نکل گئے۔ آپ نے کہاكَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ (وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کرے )۔ آپ کی زبان سے اتنی بات بھی اللہ کو پسند نہیں آئی۔ اور جبریل خدا کی طرف سے یہ وحی لے کر آگئے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ (3:128)۔ يعني، تم کو معاملہ کا کوئی اختیار نہیں۔ خدا یا ان کو توبہ کی تو فیق دے گایا ان کو عذاب دے گا۔ کیوں کہ وہ ظالم ہیں(صحیح مسلم، حدیث نمبر 1791، مسند احمد، حدیث نمبر 5674)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا کی طرف سے اتنی تنبیہ کافی تھی۔فوراً آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ آپ زخموں سے نڈھال ہیں۔ مگر ظالموں کے حق میں ہدایت کی دعا فرما رہے ہیں۔ آپ کے ایک ساتھی عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ’’اِس وقت بھی گو یا نبی صلی اللہ علیہ و سلم میرے سامنے ہیں۔ آپ اپنی پیشانی سے خون صاف کرتے ہوئے یہ دعا کررہے تھے 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ(صحیح مسلم،حدیث نمبر 1792)۔ يعني، خدایا میری قوم کو معاف کردے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوپر جو واقعات نقل کیے گئے، وہ اس قسم کے ان بے شمار واقعات میں سے صرف چند ہیں جو حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی زندگی کس طرح انسانی کردار کا معیاری نمونہ تھی۔ یہ واقعات عمل کی زبان میں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان خدا کا بندہ ہے اور اس کو ہر حال میں خدا کا بندہ بن کر رہنا چاہیے خدا اور بندےکے درمیان تعلق کا تقاضا ہے کہ بندے کے دل میں ہر وقت خدا کا اور اس کی آخرت کا طوفان بر پار ہے۔ ساری کائنات اس کے لیے یا دِالٰہی کا دستر خوان بن جائے۔ وہ ہر واقعہ کو خدا کی نظر سے دیکھے اور ہر چیز میں خدا کا نشان پالے۔ دنیا میں کوئی معاملہ کرتے وقت وہ کبھی یہ نہ بھولے کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے ہاتھ میں جانے والا ہے۔ جہنم کا خوف اس کو انسانوں سے تواضع اختیار کرنے پر مجبور کرے اور جنت کا شوق دنیا کو اس کی نظر میں بے حقیقت بنا دے۔ خدا کی بڑائی کا خیال اس کے ذہن پر اس قدر چھا جائے کہ اپنی بڑائی کا کوئی بھی مظاہرہ اس کو مضحکہ خیز دکھائی دینے لگے۔ کوئی تنقید اس کو مشتعل نہ کرے اور کوئی تعریف اس کے ذہن کو بگاڑ نے والی ثابت نہ ہو— یہ ہے انسانی کردار کا وہ نمونہ جو خدا کے رسول نے اپنے عمل سے ہمیں بتایا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyquoted sourceQuoted from another author or sourcehadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it