Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

نبوت محمدی کا ظہور

Urdu · 15 min

ایک طرف افریقہ اور دوسری طرف ایشیا اور یورپ کے وسط میں عرب کا جزیرہ نما قدیم آباد دنیا کا جغرافی قلب معلوم ہوتا ہے۔ مگر قدیم زمانہ کے سیاسی حوصلہ آزماؤں میں کوئی نہیں ملتا جس نے اس علاقہ کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کی ہو۔ تمام فوجی مہمیںعرب کے سرحدی علاقوں— عراق، شام، فلسطین، لبنان اور یمن پر آکر ٹھہر گئیں۔ اس سے آگے نجد و حجاز کے علاقہ کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کی ضرورت انہوں نے نہیں سمجھی۔ کیوں کہ تین طرف سے سمندروں سے گھرا ہونے کے باوجود یہاں ان کے لیے خشک پہاڑ اور اڑتی ہوئی ریت کے سوا اورکچھ موجود نہ تھا۔

اسی ’’بےآب و گیاہ ‘‘ وادی کی مرکزی بستی مکہ میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ پیدا ہوئے۔ آپ کے والد عبد اللہ بن عبدالمطلب آپ کی پیدائش سے چند ماہ پہلے انتقال کر گئے۔ والدہ کا انتقال بھی اس وقت ہو گیا جب کہ آپ کی عمر ابھی صرف چھ سال تھی۔ اب آپ کے سر پرست آپ کے دادا عبد المطلب بن ہاشم تھے تاہم دو سال بعد وہ بھی اس دنیا سے چلے گئے۔اس کے بعد آپ کی سر پرستی آپ کے چچا ابو طالب بن عبد المطلب کے حصہ میں آئی۔ مگر ہجرت کےتین سال پہلے، آپ کی زندگی کےمشکل ترین مرحلہ میں، ان کے لیے بھی موت کا پیغام آگیا۔

اگر چہ فطرت سے آپ نے بڑی شان دار شخصیت پائی تھی۔ بچپن میں آپ کودیکھنے والے کہہ اٹھتےإن لهَذَا الْغُلَام لشأناً ( الوفالابن الجوزي، صفحہ 57)۔ اس لڑکے کا مستقبل عظیم ہے۔ جب بڑے ہوئے تو آپ کے شخصی رعب و وقار کا حال یہ تھا کہ حضرت علی کے الفاظ میں :مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ، وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3638)۔ جو آپ کو پہلی بار دیکھتا مرعوب ہو جاتا، جو ساتھ بیٹھتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا۔ مگر چالیس سال کی عمر میں جب آپ نے دعوت نبوت کا آغاز کیا تو لوگوں کو آپ کا دعویٰ اتنا حقیر معلوم ہوا کہ انہوں نے كهاهذا ابن أبي كبشة يكلم من السماء(منار القاري، شرح مختصر صحيح البخاري، جلد 1، صفحه 66)۔اس كا مطلب تھا ديكھو يه فلاں ديهاتي كا لڑكا، وه سمجھتا هے كه آسمان سے اس كو وحي آتي هے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ کی دعوتی جدو جہد کی کل مدت صرف 23سال ہے۔ مگر اس انتہائی مختصر مدت میں عرب کے قبائل میں آپ نے ایسا انقلاب بر پا کر دیا جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس انقلاب نے سو سال سے بھی کم عرصہ میں دنیا کی دو بڑی شہنشاهيتوں، ساسانی سلطنت اور باز نطینی سلطنت کو زیر کر لیا اور ایک طرف عراق و ایران سے لے کر بخار ا تک، دوسری طرف شام و فلسطین سے لے کر مصر اور پورے شمالی افریقہ تک کو فتح کر لیا۔ پھر یہ سیلاب مغربی سمت بڑھا اور 711ء میں جبر الٹر (Gibraltar)سے گزر کر اسپین اور پر تگال میں داخل ہو گیا۔ مغربی یورپ میں قافلۂ اسلام کی پیش قدمی 732ء میں شاہ فرانس چارلس (Charles Martel)نے فرانس میں تورز(Tours)کے مقام پر روک دی۔ تاہم دو صدیوں تک یورپ کی صلیبی جنگوں اور اس کے بعد تا تاریوں کے بے پناہ حملوں کے با وجود پندر ھویں صدی تک اس کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچا۔ باوجود اس کے کہ انہوں نے اپنے اندرونی اختلاف کی وجہ سے اسپین کو کھو دیا۔

اس کے بعد اسلام کی اندرونی طاقت نے تر کوں اور مغلوں کو کھڑا کیا۔ ترکوں نے 1453 میں قسطنطنیہ کو فتح کیا اور مشرقی یورپ میں یوگو سلاویہ تک پہنچ گئے۔ وياناکے سامنے 1683تک ایک ترک فوج موجود تھی۔ سو لھویں صدی میں مغلوں نے بر صغیر ہند اور افغانستان کے علاقہ میں اسلام کا اقتدار قائم کیا۔ تیرہ صدیوں کے بعد اس تو سیع کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کے تقریباً تمام حصوں میں مسلمان موجود ہیں۔ ایشیا اور افریقہ سے لے کر یورپ تک تقریباً چار درجن ممالک کا ایک مسلم علاقہ بن چکاہے۔ موتمر عالم اسلامی کے شائع کر دہ عالمی مسلم گزیٹیر ( World Muslim Gazetteer 1975)کے مطابق آج دنیا بھر میں اہل اسلام کی تعداد 90 کرور ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ سب جو ہوا، اسی 23سالہ عمل کا نتیجہ تھا جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں عرب میں انجام دیا گیا تھا۔ 23سال کی مدت میں ایک ایسا انقلاب آنا جو نہ صرف تاریخ انسانی میں دائمی طور پر ثبت ہو جائے بلکہ خود اپنی ایک مستقل تاریخ پیدا کرے، کسی انسان کے بس کی چیز نہیں۔ یہ ایک خدائی معاملہ تھا اور اسی نے اس کو انجام دیا۔ بد ر کی فتح کے بعد جب مسلمان واپس ہوئے تو روحاء کے مقام پر کچھ لوگ ملے جنہوں نے ان کو فتح کی مبارک باددی۔ سلمہ بن سلامہ نے جواب دیا تم لوگ کس چیز کی مبارک باد دے رہے ہو۔ خدا کی قسم یہ تو گو یا بندھے ہوئے اونٹ تھے جن کو ہم نے ذبح کر دیاكَالْبُدْنِ الْمُعَقَّلَةِ فَنَحَرْنَاهَا (سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ644)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خصوصی اہتمام سے پیشگی اس کے اسباب فراہم کر دیے تھے۔ عرب کے خشک جغرافیہ میں ایک ایسی قوم جمع کر دی گئی جس میں صحرائی زندگی کے نتیجہ میں کردار کی صلابت غیر معمولی حد تک پائی جاتی تھی۔ وہ اقرار اور انکار کے درمیان کسی تیسری چیز کو نہ جانتے تھے، ان کے اندر وہ تمام فطری خصائص پوری طرح محفوظ تھے جو کسی تحریک کا مجاہد بننے کے لیے ضروری ہیں۔ پھر عرب کےجزیرہ نما کے گرد اس وقت کی دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتیں قائم کر دی گئی تھیں، بالکل فطری تھا کہ وہ اپنے پڑوس میں ایک نئی ابھرتی ہوئی طاقت کو بر داشت نہ کریں اور اس کے خلاف جار حیت کا آغاز کر دیں۔ اس طرح ان کی جا ر حیت اہل اسلام کے لیے جو از فراہم کر دے کہ وہ دنیا کے اِس سرے سے اُس سرے تک ملکوں کو فتح کرتے چلے جائیں۔ کیونکہ عملاً اس وقت کی تقریباً تمام دنیا انهي دونوں جارح قوموں کا علاقہ تھی۔ یہ ایک حقیقت ہےکہ اسلام کی لڑائیاں دوسروں کے خلاف جار حیت نہیں تھیں۔ بلکہ یہ دوسروں کی جار حیت کا جواب تھا جو ہمیشہ تمام دنیا میں جائز سمجھا گیا ہے۔

اس طرح جو واقعات ظہور میں آئے۔ ان کی اہمیت صرف سیاسی نہ تھی۔ اس سے زیادہ بڑی بات یہ تھی کہ اس انقلاب کے ذریعہ انسانی تاریخ کے بند دروازے کو کھول دینا مقصود تھا۔ اس کے ذریعہ وہ انقلاب آنا تھا جو دین حق کو ایک تاریخی حقیقت بنا دے، جو اس سے پہلے تاریخی واقعہ کی حیثیت حاصل کرنے سے محروم تھا۔ وہ پریس کا دورلے آئے جس کے بعد قرآن کی دائمی حفاظت کا انتظام ہو جائے۔ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ آئے جو داعیان حق کے لیے حق کی اشاعت کی راہ سے تمام مصنوعی رکاوٹوں کو ہٹا دے۔ اس سے طبیعیاتی علوم کی وہ دریا فتیں ظاہر ہوں جو دین کی صداقت کو عقلیاتی سطح پر مد لل و مبرہن کردیں۔

اس انقلاب کا اس سے بھی اہم پہلو یہ ہے کہ نبی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر دکھا دیا۔ سچے لوگوں کو آپ کے ذریعہ غالب کر دیا گیا جو آخرت میں دائمی برتری حاصل کریں گے، اور بر ے لوگوں کو آپ کے ذریعہ مغلوب کر دیا گیا جو آخرت میں  دائمی پستی اور مغلوبیت کا شکار رہیں گے۔

تاریخ کا یہ اندو ہناک منظر ہے کہ خدا کے سچے پرستار یہاں ہمیشہ دبے اور پسے ہوئے نظر آتے ہیں، اور دولت اور اقتدار کو پوجنے والوں کویہاں تفوق حاصل رہتا ہے۔ تمام انبیاء اور صلحاء کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔ یہ صورت حال حقیقی صورت حال کے بالکل برعکس ہے۔ کیونکہ بالآخر جو ہونے والا ہے، وہ تو یہ ہے کہ خدا اپنے پرستاروں کو دائمی عزت اور بر تری عطا فرمائے گا اور جو لوگ اپنے نفس کی اوردنیا کی پو جا میں لگے رہے، ان کو ہمیشہ کے لیےذلت اور رسوائی میں دھکیل دے گا۔

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں لوگوں کو موقع ہے کہ وہ جو چا ہیں کریں۔ اس لیے یہاں خدا کسی کا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ تا ہم پیغمبر اسلام کے ذریعہ، کم از کم ایک بار، اس زمین پر وہ منظر ابتدائی شکل میں دکھا دیا گیا ہے جو کامل اور دائمی صورت میں آخرت میں سامنے آنے والاہے۔ آپ کے ساتھی— جن کا حال یہ تھا کہ ان کے گھروں کو اجاڑ دیا گیا، جن کے لیے زمین تنگ كر دي گئي، جن کی معا شیات تباہ کر دی گئیں، جن کو اس قدر خوف وہراس میں مبتلا کیا گیا کہ ان کو ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا کہ لوگ انہیں اچک لیںگے،ان کو عزت اور اقتدار کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ دوسری طرف قریش اور یہود، رومی اور ایرانی، یمنی اور غسانی، جو دولت اور اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ان کو ذلیل کر کے پستی کے گڑھے میں ڈال دیا گیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ہر نبی جو خدا کی طرف سے آتا ہے، وہ زمین پر خدا کی عدالت ہوتا ہے۔ اس کی معرفت خدا اپنےان فیصلوں سے لوگوں کو باخبر کرتا ہے جس کو وہ آخرت میں براہ راست خود سنانے ولا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام کے ذریعہ یہ عدالت اِلٰہی ایسی خصوصی شکل میں ظاہر ہوئی کہ وہ خود تاریخ انسانی کا جز بن گئی۔ جس طرح بہت سے دوسرے انسانی تجربات تاریخی حقیقت کا درجہ اختیار کر چکے ہیں، اسی طرح یہ واقعہ بھی ایک تاریخی حقیقت کی حیثیت سے انسانی معلومات میں ثبت ہو چکا ہے کہ خدا اپنے متقی بندوں کو سر فراز کرتا ہے اور جو لوگ سر کشی اختیار کریں، ان کوذلّت و بر بادی کے دائمی عذاب میں دھکیل دیتا ہے۔ جنت اور جہنم اگرچہ دوسری دنیا میں قائم ہو نے والی حقیقتیں ہیں، مگر انسان کی نصیحت کے لیے اللہ نے اس کا ایک ابتدائی منظر اسی دنیا میں لوگوں کو دکھا دیاہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نبوت محمدی کا ظہور، خدا کی خدائی کا ظہور تھا، اسی لیے انجیل میں اس کو ’’خدا کی باد شاہت ‘‘ سے تعبیر کیاگیاہے۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کی بلاشبہ سیاسی اور عمرانی اہمیت بھی ہے اور دوسری بہت سی اہمیتیں بھی۔ مگر اس کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ انسان کو خدا کے جلال کا مشاہدہ کراتاہے۔ وہ خدا کی عدالت کا منظر دکھارہا ہے، اس نے ان حقیقتوں کو آخرت سے پہلے انسان کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے جن کو انسان آخرت میں اپنی کلّی شکل میں دیکھے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content