← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
حصہ اول ادم سے مسیح تک
Urdu · 15 min
آدم سے مسیح تک
خدا کی طرف سے جتنے رسول آئے، سب اس لیے آئے کہ انسان کو زندگی کی حقیقت سے باخبر کریں، یہ حقیقت کہ موجودہ دنیا کی زندگی، انسان کی ابدی زندگی کا صرف ایک امتحانی وقفہ ہے۔ کم و بیش سو سال یہاں زندگی گزار کر ہم اپنی مستقل دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں خدا کے وفا دار بندوں کے لیے جنت ہے اور اس کے نا فر مان بندوں کے لیے جہنم۔
آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے رسول بھی۔ اس کے بعد حضرت مسیح تک مسلسل خدا کے پیغمبر آتے رہے۔ ابو امامہ کی روایت میں آیا ہے کہ ابو ذر غفاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیاء کی تعداد کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا، ایک لاکھ 24ہزار۔ ان میں تین سو پندرہ رسول ہوئے (مسند احمد، حدیث نمبر 22288)۔ خدا کے ان نمائندوں نے مختلف قوموں اور آبادیوں کوخدا کے منصوبۂ تخلیق (creation plan of God) سے باخبر کیا اور خدا سے ڈر کر زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ مگر انسانوں میں بہت کم ایسے لوگ نکلے جو اپنی آزادیٔ عمل کو خدا کے حوالے کرنے کے لیے تیار هوئے ہوں۔ حضرت یحییٰ کو کوئی ساتھی نہیں ملا اور وہ قتل کر دیے گئے۔ حضرت لوط نے اپنی قوم کو چھوڑا تو ان کے ساتھ ان کی صرف دو لڑ کیاں تھیں۔ حضرت نوح کے ساتھ، ان کی کشتی کا قافلہ، تو ریت کے بیان کے مطابق، صرف آٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ تھیں اور ان کے بھتیجے لوط۔ بعد کو اس قافلہ میں ان کے دو بیٹے اسماعیل اور اسحاق شامل ہوئے۔ حضرت مسیح کو ساری کوشش کے بعد بارہ آدمی ملے، وہ بھی آخر وقت میں آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے (متی، 26:56)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیشتر انبیاء کا حال یہی رہا ہے۔ کوئی تنہا رہ گیا۔ کسی کو چند ساتھ دینے والے ملے (صحیح البخاری، حدیث نمبر5752)۔ ان چند میں بھی زیادہ تران کے اپنے اہل خاندان تھے جن سے رشتے کا تعلق نبی کا ساتھ دینے کے لیے ایک اضافی محرک بن گیا۔ قرآن کی یہ آیت اس پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ(36:30)۔ يعني، افسوس ہے بندوں کے حال پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کی ہنسی اڑائی۔
Qur'anQuotes the Qur'an
انسانی نسل میں خدا کے نزدیک سب سےاہم ہستیاں وہ ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ساری انسانی تاریخ میںیہی لوگ سب سے زیادہ غیر اہم رہے ہیں۔ بادشاہوں اور سپہ سالاروں کے واقعات تاریخ نے مکمل طور پر ضبط کیے۔ مگر آدم سے مسیح تک کوئی نبی ایسا نہیں جس کو با قاعدہ طور پر مدوّن تاریخ میں جگہ ملی ہو۔
ارسطو (384-322 ق م ) حضرت موسیٰ کے ہزار برس بعد پیدا ہوا۔ مگر وہ موسیٰ کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر انبیاء کو ان کی قوم نے رَدکر دیا۔ ان کے گھروں کو اجاڑا گیا، ان کو معاشرہ میں بے قیمت کر کے رکھ دیاگیا، ان کو ایسا بنا دیا گیا گو یا وہ اتنے غیر اہم لوگ ہیں جن کا ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
نبیوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیاگیا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے اپنی مخاطب قوموں کی روش پر تنقید۔ انسان کو سب سے زیادہ جو چیز محبوب ہے، وہ ہے اپنی تعریف، اور جو چیز سب سے زیادہ مبغوض ہے، وہ ہے اپنے خلاف تنقید۔ انبیاءچونکہ صحیح اور غلط کو بتانے کے لیے آتے ہیں، وہ اپنے ہم قوموں سے مصالحت نہیں کرتے۔ وہ ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس لیے قوم ان کی مخالف بلکہ دشمن ہو جاتی ہے۔ انبیاء اگر لوگوں کی دل پسند تقریریں کرتے تو کبھی ان کو اس صورت حال سے دو چار ہونا نہ پڑتا۔
اس عمومی انجام میں صرف چند نبیوں کا استثناہے۔ مثلاً حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت یوسف علیہم السلام۔ مگر ان حضرات کو جو عروج و اقتدار ملا، وہ ان کے نظریات کی عوامی مقبولیت کا نتیجہ نہ تھا۔ اس کے اسباب بالکل دوسرے تھے۔
حضرت داؤد اسرائیلی بادشاہ ساؤل کی فوج میں ایک نوجوان سپاہی تھے۔ ان کے زمانہ میں اسرائیلیوں اور فلسطیوں میںجنگ ہوئی۔ فلسطی فوج میں جالوت نام کا ایک دیو ہیکل پہلوان تھاجس سے مقابلہ کرتے ہوئے تمام لوگ ڈرتے تھے۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص اس کو قتل کر ے گا میں اپنی لڑکی کی شادی اس سے کردوں گا۔ حضرت داؤد نے مقابلہ کیااور اس کو مار ڈالا۔ اس طرح وہ اسرائیلی بادشاہ کے داماد بن گئے۔ اس کےبعد جب ایک جنگ میں بادشاہ اور اس کا ولی عہد دونوں ہلاک ہوگئے تو تخت حضرت داؤدکے حصہ میں آگیا۔ حضرت سلیمان آپ کے بیٹے تھے اور ان کو حکومت اپنے باپ سے وراثت میں ملی۔ حضرت یوسف کو خواب کی تعبیر کا علم دیاگیا۔ اس سے مصر کا مشرک بادشاہ متاثر ہو گیا، اور اپنے اقتدار اعلیٰ کے تحت حکومتی انتظامات آپ کے سپرد کر دیے۔ تاہم بادشاہ اور عام مصری باشندے بد ستور اپنے مشرکا نہ دین پر قائم رہے۔
اس صورت حال کا نقصان صرف یہی نہیں ہوا کہ ہر دور کی بیشتر آبادی خدا کی نعمت ہدایت سے محروم رہی۔ اس سےبڑا نقصان یہ ہوا کہ کوئی پیغمبر خدا کی طرف سے جو کتاب اور پیغامات لے کر آتا تھا، اس کے بعد اس کو محفوظ رکھنے کا سامان نہ ہوسکا۔ کیونکہ پیغمبر کے بعد اس کے متبعین ہی اس کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ مگر وہ یا تو حاصل نہیں ہوئے یا اتنے کم تھے کہ سماج کے علی الرغم کلام اِلٰہی کی حفاظت نہ کر سکے۔
خدا جس کا علم ازل سے ابد تک پھیلا ہوا ہے، جو آنے والے مستقبل کو بھی اسی طرح دیکھ رہا ہے جس طرح گزر ے ہوئے ماضی کو، اسے انسانیت کا یہ انجام معلوم تھا۔ اس لیے اس نے پہلے ہی یہ مقدر کر دیاتھا کہ پیغمبر ا نہ دور کے آخری مرحلہ میں وہ اپنا ایک خاص نمائندہ بھیجے گا۔ اس پیغمبر کو دعوت دین کے ساتھ اظہار دین کی نسبت بھی حاصل ہوگی۔ اس کو یہ نصرتِ خاص دی جائے گی کہ وہ ہر حال میں اپنے مدعوین پر غلبہ حاصل کرے اور ان کو حق کے آگے جھکنے پر مجبور کرےلَنْ يَقْبِضَهُ اللهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ المِلَّةَ العَوْجَاءَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2125)۔ خدا کی فوج اس کا ساتھ دے کر اس کے مخالفوں کو زیر کرے گی، تاکہ خدا کا دین ہمیشہ کے لیے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے۔ اور خدا کی کتاب کی حفاظت کا مستقل انتظام ہو سکے۔ بائبل کے الفاظ میں ’’ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہواہے، اسی طرح زمین خد ا وند کے جلال کے عرفان سے معمور ہو (حبقوق 2: 14)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس منصوبہ کو، بائبل کی شہادت کے مطابق، ہزاروں برس پہلے سے مختلف ابنیاء کے ذریعہ ظاہر کرنا شروع کر دیاتھا، چنانچہ بتا دیا گیا تھا کہ وہ نبی عرب کے صحرائی جغرافیہ سے اٹھے گا۔ وہ بنی اسرائیل کے بقیہ گھرانے یعنی ان کے بھائیوں (بنی اسماعیل) کی اولاد سے ہوگا۔ وہ حضرت مسیح کے بعد آئے گا۔ اس کے ساتھی خدا کے خریدے ہوئے کہلائیں گے۔ جو قومیں ان سے ٹکرائیں گی پاش پاش ہو جائیں گی۔ ازلی پہاڑ (ایران و روم) جھک جائیں گے۔ اس کی سلطنت خشکی سے لے کر بحری ممالک تک پھیلی ہوئی ہوگی۔ وغیرہ
موجودہ بائبل اگر چہ ترجمہ اور الحاقات کے نتیجہ میں اصل بائبل سے بہت کچھ مختلف ہو چکی ہے۔ تاہم آج بھی کثیر تعداد میں اس کے اندر ایسے بیانات موجود ہیں جو ایک غیر جانب دار آدمی کے لیے آنے والے آخری نبی کے سوا کسی اور ذات پر صادق نہیں آتے۔ خاص طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا تو مشن ہی یہ تھا کہ وہ دنیا کو، اور خاص طور پر یہود کو، آنے والے نبی سے آخری طور پر آگاہ کردیں۔ آپ نے جس ’’نئے عہد نامہ ‘‘ کی بشارت دی وہ حقیقۃً اسلام تھا جو یہود کی معزولی کے بعدبنی اسماعیل کے ذریعہ باندھا گیا۔ انجیل نئے عہد نامہ کی بشارت ہے، نہ کہ خود نیا عہد نامہ۔
حضرت مسیح علیہ السلام، نبی آخرالزماں سے چھ سو سال قبل تشریف لائے۔ قرآن کی سورہ الصف میں آیا ہے کہ حضرت مسیح نے فلسطین کے یہو دیوں سے کہا کہ اللہ نے مجھے ایک آنے والے نبی سے پہلے اس کا مبشر بنا کر بھیجا ہے جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ(61:6)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
احمد اور محمد دونوں ہم معنی الفاظ ہیں جن کے معنی ہیں ’’تعریف کیاہوا ‘‘۔ انجیل بر ناباس میں صاف صاف لفظ ’’محمد‘‘ آیا ہے۔ تاہم چونکہ مسیحی حضرات انجیل برناباس کو جعلی انجیل کہتے ہیں، اس لیے ہم اس کا حوالہ مناسب نہیں سمجھتے۔ نیز ہمیں اس میں شبہ ہے کہ حضرت مسیح نے اپنی پیشین گوئی میں لفظ احمد یا محمد کہا ہوگا۔ زیادہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ آپ نے احمد یا محمد کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال فرمایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
محمد بن اسحاق ( م152 ھ ) کی ایک روایت جو ابن ہشام نے نقل کی ہے، اس کے مطابق یہ لفظ غالباً مُنْحَمنَّا تھا۔ ابن اسحاق سیرت کے موضوع پر سب سے زیادہ اہم ماخذ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی روایت ہے کہ مجھے بتانے والوں نے بتایا کہ یحنس (یوحنا) کی انجیل میں آنے والے رسول کی جو پیشین گوئی ہے، اس میں اس کا نام مُنْحَمنَّا بتایا گیا ہے (تہذیب سیرۃ ابن ہشام جلد اول، صفحہ 50)۔اغلباً یہ روایت انہیں اپنے زمانہ کے فلسطینی عیسائیوں کی معرفت پہنچی جو اس وقت اسلام کے زیر اقتدار آچکا تھا۔مُنْحَمنَّا سر یانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’’تعریف کیاہوا ‘‘ ماضی کے اثر سے اُس وقت تک فلسطین کے با شندوں کی زبان سریانی تھی۔ غالب قیاس یہ ہے کہ حضرت مسیح کی مادری زبان میں بولا ہو ا اصل لفظ’’مُنْحَمنّا‘‘ ان کی روایات میں چلا آرہا تھا، جو بعد کے یونانی ترجموں میں فار قلیط بن گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it