← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
اسباق سیرت
Urdu · 139 min
قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتےہوئے کہا گیا ہے
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا(33:21)۔ يعني تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امید وار ہو اوراللہ کو بہت زیادہ یا د کرے۔
Qur'anQuotes the Qur'an
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہر انسان کے لیے مکمل نمونہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ارشادہوا ہے کہ یہ نمونہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والا ہو، جو اللہ اور آخرت کا امید وار بن چکا ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گو یا رسول کی زندگی کا نمونہ، پوری طرح موجود ہو نے کے باوجود، اپنے آپ ہر آدمی کے لیے نمونہ نہیں بن جائے گا۔ وہ صرف اس بندۂ خدا کے لیے نمونہ بنے گا جس نے اللہ کو اتنی گہرائی کے ساتھ پایا ہو کہ وہ اس کی یا دوں میں سما جائے۔ اللہ جس کی تمناؤں کا سر ما یہ بن چکا ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرنے لگے اور آخرت کا انعام جس کی نظر میں اتنا اہم بن جائے کہ وہ دل و جان سے اس کا آرزو مند ہو۔
رسول کے اسوۂ حسنہ کو پانے کے لیے یہ شرط کیوں لگائی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی حقیقت کے ادراک کے لیے اس کے بارے میں سنجیدہ ہونا شرط لازم ہے۔ خدا اور آخرت سے مذکورہ قسم کا تعلق ہونا آدمی کو خدا اور آخرت کی باتوں میں سنجیدہ بناتاہے۔ یہی سنجیدگی اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو صحیح نظر سے دیکھے اور اس سے مطلوبہ سبق لے سکے۔
اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے ایک مثال لیجیے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ(سنن الترمذی، حدیث نمبر 1421ُ ؛سنن النسائی، حدیث نمبر 4106)۔ يعني،جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے دین کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے خون کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے گھر والوں کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے، یہ حدیث ’’لڑنے ‘‘ کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ’’مارے جانے ‘‘ کی صورت میں مومن کے انجام کو بتا نے سے متعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہےکہ جب بھی کہیں کوئی مال یا خون یا دین یا اہل و عیال کا مسئلہ پیش آئے، تم فوراً لڑجاؤ، خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ تم قتل کر دیے جاؤ۔ بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ مذکورہ اسباب سے کوئی شخص مومن کو قتل کردے تو اس کا قتل قتل نہیں بلکہ شہادت ہوگا۔ گویا یہ حدیث اصلاً لڑائی پر اکسانے کے لیے نہیں ہے بلکہ قتل کر دیے جانے کی صورت میں شہادت کا درجہ پانے سے متعلق ہے۔
اب جو شخص دین کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کو اپنے ذاتی ذوق کے لیے رسول اللہ کا جواز مطلوب ہو وہ بس حدیث کے الفاظ کو لے لے گا اور اپنے نفسانی جھگڑوں اور قومی لڑائیوں کو حق بجا نب ثابت کرنے کے لیے اس کو بطور دلیل پیش کر ے گا۔ وہ کہے گا کہ اسلام آدمی کو مردانگی کی تعلیم دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ اپنے دین و ایمان، جان و مال، زمین و جائداد، بیوی بچوں اور خویش و اقارب کی حفاظت کے لیے لڑ جاؤ۔ اگر تم جیت گئے تو تم نے اپنا مقصد پا لیا۔ اگر تم ہار گئے تو تم شہید ہوئے۔ اور شہادت و ہ بلند رتبہ ہے جو خوش قسمت انسانوں ہی کو ملتا ہے۔
مگر جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہو وہ اس کو نہایت سنجیدہ ہو کر دیکھے گا۔ اس کی سنجیدگی اس کو اس سوال تک پہنچائے گی کہ جب مال اور خون اور دین اور خاندان کے دفاع میں لڑنا مرنا مطلوب ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس قسم کی بر عکس مثالیں کیوں ہیں کہ آپ بہت سے مواقع پر صریح ظلم کے با وجود صبر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتے ہیں۔
1۔ مثال کے طور پر ابن ہشام نے ابو عثمان النهدی کے حوالہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے
other sourceWords of another person or source
بَلَغَنِي أَنَّ صُهَيْبًا حَيْنَ أَرَادَ الْهِجْرَةَ قَالَ لَهُ كُفَّارُ قُرَيْشٍأَتَيْتنَا صُعْلُوكًا حَقِيرًا، فَكَثُرَ مَالُكَ عِنْدَنَا، وَبَلَغْتَ الَّذِي بَلَغْتَ، ثُمَّ تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ بِمَالِكَ وَنَفْسِكَ، وَاَللهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ صُهَيْبٌأَرَأَيْتُمْ إنْ جَعَلْتُ لَكُمْ مَالِي أَتُخْلُونَ سَبِيلِي؟ قَالُوانَعَمْ. قَالَفَإِنِّي جَعَلْتُ لَكُمْ مَالِي. قَالَفَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَرَبِحَ صُهَيْبٌ، رَبِحَ صُهَيْبٌ(سیرۃ النبی لا بن ہشام،جلد 2، صفحہ 89) يعني،مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت صہیب نے جب مکہ سے ہجرت کا ارادہ کیا تو کفار قریش نے ان سے کہا کہ تم ہمارے یہاں آئے تو بالکل غریب تھے۔ پھر تمہارے پاس یہاں بہت مال ہو گیا اور تم اس درجہ کو پہنچے جس درجہ میں تم اب ہو۔ تم چاہتے ہو کہ اپنے جان و مال کے ساتھ یہاں سے چلے جاؤ تو خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ حضرت صہیب نے ان سے کہا، اگر میں اپنا مال تمہارے حوالے کر دوں تو تم مجھ کو جانے دوگے۔ انہوں نے کہا، ہاں۔ حضرت صہیب نے کہا پھر میں نے اپنا مال تمہارے حوالے کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب کی تجارت کا میاب رہی۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مذکورہ حدیث میں مال کےمقابلہ میں لڑکر جان دینا اگر مطلق معنوں میں ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہیے تھا کہ حضرت صہیب کو نا کامی کا الزام دیں، نہ کہ انہیں کامیابی کا کریڈٹ عطا فرمائیں۔
2۔ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادہ سے مدینہ سے روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آگے بڑھ کر روکا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان صلح کی گفت و شنید ہو رہی تھی کہ وہاں ابو جندل بن سہیل آگئے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیاتھا۔ اس کی وجہ سے مکہ والے ان کو سخت تکلیفیں دے رہے تھے اور ان کے پیروں میں لو ہے کی زنجیریں ڈال دی تھیں۔ انہوں نے جب سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب حدیبیہ میں ہیں تو وہ کسی طرح بھاگ کر مکہ سے حدیبیہ پہنچے۔ اس وقت بھی ان کے پیروں میں بیڑیاں تھیں اور ان کا جسم خون آلود ہو رہا تھا، ان کو دیکھ کر قریش کے سردار سہیل بن عمر و (ابو جندل کے والد) نے کہا کہ ابو جندل کو ہمیں واپس کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے بہت چاہا کہ انہیں دوبارہ مکہ نہ بھیجا جائے۔ مگر سہیل بن عمر و نے کہا کہ اگر آپ نے ابو جندل کو ہمارے حوالے نہ کیا تو ہم آپ سے کسی طرح کی کوئی صلح نہیں کریں گے۔
یہ بڑا جذباتی لمحہ تھا۔ ابو جندل بیڑیوں میں خون آلود سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا اے مسلمانو، کیا میں مشرکین کی طرف لوٹا دیا جاؤ ں گا، حالانکہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں۔ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ ان لوگوں نے مجھے کس قدر عذاب پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکہ کی طرف لوٹا دیا اور ان سےکہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يَا أَبَا جَنْدَلٍ، اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ، فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ لَك وَلِمَنْ مَعَكَ مِنْ الْمُسْتَضْعَفِينَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا(سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 318)۔يعني، اے ابو جندل، صبر کرو، اللہ تمہارے لیے اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے گنجائش پیدا کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ حدیث میں لڑنا اور شہید ہو جانا اگر مطلق معنوں میں ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پرحضرت ابو جندل کو صبر و رضا کی نصیحت نہ فرماتے۔ بلکہ انہیں شہادت کا راستہ بتاتے اور خود بھی اپنے اصحاب سمیت قریش سے لڑ جاتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
3۔ اسی حدیبیہ کا واقعہ ہے کہ قریش نے آپ کو روکا اور کہا کہ ہم اس سال آپ کو عمرہ کے لیے مکہ میںداخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ اس پر راضی ہو کر واپس مدینہ چلے آئے۔ اور عمرہ کے لیے مکہ جانے پر اصرار نہیں کیا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ حالانکہ یہ خالص دینی معاملہ تھا اور آپ خدائی بشارت کی بنیاد پر اپنے اصحاب کو لے کر زیارت حرم کے لیے جا رہے تھے۔اگر مذکورہ حدیث میں دین کے لیے لڑ کر شہید ہونا مطلق معنوں میں ہو تو آپ کو چاہیے تھا کہ اسی سال عمرہ کرنے کے لیے اصرار کریں، خواہ اس کے نتیجہ میں عمرہ ملے یا شہادت۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
4۔ مکہ میں عمار بن یاسر اور ان کے والدین بنو مخزوم کے غلام تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ بنو مخزوم کو ان کا اسلام لانا سخت نا پسند تھا۔ چنانچہ وہ ان کو عین دوپہر کے وقت صحرا میں لے جاتے اور تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر انہیں سخت عذاب دیتے۔ حتٰی کہ عمار کی والدہ کو انہوں نے قتل کر دیا۔ ابن ہشام اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فَيَمُرُّ بِهِمْ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ، فِيمَا بَلَغَنِيصَبْرًا آلَ يَاسِرٍ، مَوْعِدُكُمْ الْجَنَّةُ(سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 320)۔ يعني، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور جیسا کہ مجھے روایت پہنچی ہے ان سے کہتے اے خاندان یا سر، صبر کرو، تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ حدیث اگر مطلق معنوں میں ہو تو ایسا کہنا، نعوذ با اللہ، بزدلی کی تعلیم دینا ہوگا۔ پھر تو آپ کو آل یا سر سے کہنا چاہیے تھا کہ تم لوگ لڑ کر شہید ہو جاؤ اور خود بھی اس مقدس جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہو جاتے۔ خواہ آل یا سر کو بچا سکیں یا اسی راہ میں شہادت کا درجہ حاصل کر لیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسوۂ رسول ان چیزوں میں سے ہے جن کی ایک سے زیادہ تعبیر ممکن ہو تی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسوۂ رسول کے معاملہ میں آدمی ہمیشہ صحیح تعبیر اور غلط تعبیر کے درمیان رہتا ہے۔ اور جو چیز کسی کو غلط تعبیر سے بچاتی ہے وہ صرف ایک ہے۔ یہ کہ خوف خدانے آدمی کو حقیقت پسندی کی اُس سطح پر پہنچا رکھا ہو جس کو سنجیدگی کہا جاتا ہے۔
آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو اس کی سنجیدگی اس کو اسوۂ رسول کے بارے میں مذکورہ سوالات سے دو چار کر ے گی۔ اس کو چونکہ صرف مفید مطلب بات نہیں لینی تھی بلکہ یہ معلوم کرناتھا کہ حقیقی طور پر اسوۂ نبوت کیا ہے۔ اس کا یہ ذہن اس کو غلط تعبیر سے بچائے گا۔ وہ بے آمیز ذہن کے تحت اس مسئلہ پر غور کرے گا اور خدا کی تو فیق سے بات کی تہ تک پہنچ جائے گا۔ اب اس کو معلوم ہوگا کہ اس کا راز ہےبڑے فائدہ کی خاطر چھوٹے نقصان کو برداشت کرنا۔
اہل ایمان کے لیے سب سے اہم چیز دعوتی مصلحت ہے نہ کہ شخصی مصلحت۔ اگر دعوتی مصلحت اور شخصی مصلحت میں ٹکراؤ ہو تو شخصی مصلحت کو قربان کر کے دعوتی مصلحت کو حاصل کیا جائے گا۔ مذکورہ واقعات میں رسول کی طرف سے صبر کی تلقین کی وجہ یہی دعوتی مصلحت ہے۔ دعوتی کام کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لیے خدا کے رسول نے جان، مال اور خاندان کی قربانیاں بر داشت کیں۔ حتٰی کہ دشمنوں کی طرف سے ’’دین میں مداخلت ‘‘ کو بھی وقتی طور پر گواراکر لیا۔ تاکہ دعوت کا کام جاری رہے جو اہل ایمان کے لیے ہر قسم کی کامیابیوں کا واحد ذریعہ ہے۔
جب آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو تو وہ مقصد کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ وہ دوسرے تمام نقصانات کو نظر انداز کر تا رہتا ہے تاکہ اصل مقصد ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ اور جب کوئی مقصد سامنے نہ رہے تو وہ ہر چیز میں الجھتا ہے۔ وہ ہربات کے لیے دوسروں سے لڑتاہے۔ خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ چھوٹے نقصان کو بر داشت نہ کرنے کی بنا پر اس کو زیادہ بڑا نقصان برداشت کرنا پڑے۔داعی اس دنیا کا سب سے زیادہ با مقصد انسان ہے، اس لیے وہ ہمیشہ پہلے رویہ کو اختیار کرتا ہے نہ کہ دوسرے رویہ کو۔ اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ امور ہیں جب کہ معاملہ خالص دفاعی ہو، اس کا دعوتی مقصد سےکوئی تعلق نہ ہو۔
اس تمہید کے بعد یہاں ہم مختلف پہلوؤں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ واقعات نقل کرتے ہیں جن میں ہماری زندگی کے لیے زبر دست سبق اور نصیحت موجود ہے۔
_1_
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آغاز نبوت کا ذکر کرتے ہوئے ابن ہشام لکھتے ہیں اللہ نے جب ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے منصب پر مقرر کرے تو آپ کا یہ حال ہو ا کہ جب آپ اپنی کسی ضرورت کے لیے بستی سے نکلتے تو بہت دور چلے جاتے، یہاں تک کہ مکانات نظر نہ آتے۔ آپ مکہ کی پہاڑیوں اور وادیوں میں کھو جاتے (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 234-35)۔ ابن ہشام نے عبد اللہ بن زبیر کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ہر سال میں ایک مہینہ حراء پہاڑ میں چلے جاتے اور اس کے پڑوس میں رہتے (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي حِرَاءٍ مِنْ كُلِّ سَنَةٍ شَهْرًا)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ابو طالب کے کچھ اشعار ابن ہشام نے نقل کیےہیں۔ ایک مصر عہ یہ ہے
وَرَاقٍ لِيَرْقَى فِي حِرَاءٍ وَنَازِلِ
یعنی وہ حراء پر چڑھنے والے ہیں اور پھر اس سے اتر نے والے ہیں(سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 235)۔
other sourceWords of another person or source
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جب حقیقت کی تلاش کا جذبہ ابھر ا تو آپ کا یہ حال ہوا کہ انسانی بستیوں سے نکل کر آپ پہاڑی علاقوں میں چلے جاتے۔ یہ گو یا ایک صالح روح کا انسانی سرگرمیوں کے ماحول کو چھوڑ کر خدا ئی سرگرمیوں (فطرت)کے ماحول میں جانا تھا — صحرائی جغرافیہ خصوصیت سے اس کام کے لیے مناسب ترین جگہ ہوتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رومانیہ کے مستشرق کو نستان ور ژیل جارج (1916-1992ء) نے اسلام کے جغرافیہ کو سمجھنے کے لیے خود عرب کا سفر کیا تھا۔ وہ اپنی کتاب ’’پیغمبر اسلام ‘‘ میں لکھتے ہیں :
جب تک کوئی انسان عرب اور مشرق کے جنگلوں میں ایک مدت نہ گزارے، وہ اس کو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ صحرا کی وسعت او ر اس کا سکوت کس طرح فکر انسانی کی وسعت کا سبب ہوتا ہے اور خیال کو تقویت دیتا ہے۔ عرب کی گھاس اور یورپ کی گھاس میں بہت فرق ہے۔ گرم جنگلوں میں کوئی گھاس ایسی نہیں جس میں خوشبو نہ ہو۔ یہاں تک کہ عرب جنگلوں کے ببول بھی خوشبو دار ہیں۔ 30لاکھ کیلو میٹر والا مسطح جنگل اور گرم عر بستان ایسی جگہ ہے جہاں انسان گو یا بلاواسطه خدا تک پہنچ جاتا ہے۔
دوسرے ملک ایسی عمارت کےمثل ہیں جن کے درمیان بڑی بڑی دیواریں حائل ہیں۔ مگر عرب کےجنگلوں میں ایسا کوئی مانع نہیں جو دیدار حق کو رو ک سکے۔ لوگ جس طرف بھی نظر ڈالتے ہیں ، لا محدود جنگل اور بے کنار آسمان انہیں دکھائی دیتاہے۔ یہاں خدا اور فرشتوں کی شناسائی کے لیے کوئی چیز مانع نہیں ۔
_2_
زمانہ جاہلیت میں عرب کےکچھ لوگوں نے ایک باہمی معاہدہ کیا تھا جس کو حلف الفضول کہا جاتاہے۔اس معاہدہ کا مقصد لوٹ کھسوٹ اور ظلم کو روکنا تھا۔ اس معاہدہ میں شریک ہونے والوں کے نام تھے فضل بن فضالہ، فضل بن وداعہ اور فضیل بن حارث۔ چنانچہ انہیں کے نام پر اس معاہدہ کا نام حلف الفضول (فضل والوں کا معاہدہ ) پڑ گیا۔ یہ معاہدہ ابتدائی بانیوں تک زندہ رہا۔ ان کے مرنے کے بعد صرف ان کا نا م رہ گیا۔ زبیر بن عبد المطلب نے اپنے بعض اشعار میں اس معاہدہ کاذکر اس طرح کیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
إنّ الْفُضُولَ تَحَالَفُوا، وَتَعَاقَدُوا
أَلّا يُقِيمَ بِبَطْنِ مَكّةَ ظَالِمُ
أَمْرٌ عَلَيْهِ تَعَاهَدُوا، وَتَوَاثَقُوا
فَالْجَارُ وَالْمُعَتّرُ فِيهِمْ سَالِمُ
فضل نامی افراد نے باہم معاہدہ کیا اور عہد باندھا کہ مکہ میں کوئی ظالم نہ رہنے پائے گا انہوں نے اس بات پر باہم عہد باندھا اور اقرار کیا۔ پس مکہ میں پڑوسی اور ضرورت سے آنے والا سب محفوظ ہیں (الروض الانف للسهيلی، جلد2، صفحہ47)۔
other sourceWords of another person or source
واقعہ فیل کے بعد عرب میں ایک باہمی جنگ ہوئی جس کو حرب الفجار (حرام مہینوں میں کی جانے والی جنگ) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے بعد دو بارہ عرب میں بد ا منی بڑھ گئی۔ اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہو ا کہ یمن کے قبیلۂ زبید کا ایک شخص کچھ تجارتی سامان لے کر مکہ آیا۔ قریش کے ایک سردار عاص بن وائل سہمی نے اس کا سامان خرید ا مگر اس کی مطلوبہ قیمت نہیں اداکی۔ مذکورہ یمنی تاجر نے مکہ والوں سے فریاد کی۔ اس نے کچھ اشعار کہے اور ان کے ذریعہ عام لوگوں تک اپنی شکایت پہنچائی۔ اس واقعہ نے مکہ کے کچھ درد مند لوگوں کو چوکنا کر دیا۔ زبیر بن عبد المطلب کی تحریک پر بنو ہاشم اور بنو تمیم کے لوگ عبد اللہ بن جد عان کے مکان پر جمع ہوئے تاکہ صورت حال کے بارے میں مشورہ کریں۔ انہوں نے حلف الفضول کی ازسر نو تجدید کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے باہمی عہد کے ذریعہ اپنے کو پا بند کیا کہ وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے، اور ظالم سے اس کا حق دلا کر رہیں گے (فَتَعَاقَدُوا وَتَعَاهَدُوا بِالله الْقَائِلِ لَنَكُونَنَّ مَعَ الْمَظْلُومِ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَيْهِ حَقُّهُ) الطبقات الکبریٰ، جلد1، صفحہ 103۔اس عہد کے بعد وہ لوگ عاص بن وائل کے پاس گئے۔ اس سے مذکورہ شخص کا سامان چھینا اور اس کو اس کے مالک کے حوالے کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی عمر میں ہو اتھا۔ وہ اگر چہ عربو ں کا ایک معاہدہ تھا مگر آپ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس کی بابت آپ کے یہ الفاظ سیرت کی کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں
لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ الله بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا لَوْ دُعِيتُ بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ، تَحَالَفُوا أَنْ يَرُدُّوا الْفُضُولَ عَلَى أَهْلِهَا وَأَلَّا يَعُزَّ ظَالِمٌ مَظْلُومًا (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد1، صفحہ258)۔ یعنی، میں عبد اللہ بن جد عان کے گھر میں ہونے والے معاہدہ میں شریک تھا۔ اگر اسلام کے بعد بھی مجھے اس میں بلایا جاتا تو میں ضرور اس میں شریک ہوتا۔ انہوں نے اس بات کا عہد کیاتھا کہ وہ حقدار تک اس کا حق پہنچائیں گے اور یہ کہ کوئی ظالم کسی مظلوم پر غالب نہ آسکے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابن ہشام نے اس ذیل میں بعض واقعات نقل کیے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلف الفضول کا ذہنی اثر بعد کے عربوں میںبھی باقی تھا۔ ولید بن عتبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے بھتیجے تھے۔ حضرت معاویہ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایاتھا۔ اسی زمانہ میں ولید بن عتبہ اور حضرت حسین بن علی کے درمیان ایک جائداد کا جھگڑا ہوا جو کہ ذو المروہ نامی گاؤں میں تھی۔ ولید نے طاقت کے زور پر اس پر قبضہ کرنا چاہا۔ حضرت حسین نے فرمایا
أَحْلِفُ بالله لَتُنْصِفَنِّي مِنْ حَقِّي أَوْ لَآخُذَنَّ سَيْفِي، ثُمَّ لَأَقُومَنَّ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَأَدْعُوَنَّ بِحِلْفِ الْفُضُولِ۔ يعني،میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوںکہ تم کو میرے حق کے معاملہ میں انصاف کرنا ہوگا ،ورنہ میں اپنی تلوارلوںگا اور مسجد نبوی میں کھڑا ہو جاؤں گا اورحلف الفضول کے نام پر پکاروں گا۔
عبد اللہ بن زبیر جو اس وقت وہاں موجود تھے انہوں نے بھی یہی بات کہی۔ انہوں نے کہا میں بھی خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر حسین اس کے لیے پکا ریں گے تو میں اپنی تلوار لوں گا اور ان کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا یہاں تک کہ ان کا حق ان کو دیا جائے یا ہم دونوں ایک ساتھ قتل ہو جائیں۔ یہ بات مِسوَر بن مخرمہ زہری کو پہنچی تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔ اسی طرح یہ بات عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی کو پہنچی تو انہوں نے بھی ایساہی کہا۔ جب و لید بن عتبہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے حضرت حسین کو ان کا حق ادا کر دیا (سیرت ابن ہشام، جلد 1،صفحہ 135)۔
other sourceWords of another person or source
اوپر کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ بد امنی اور فساد کے مسئلہ کے حل کے لیے اسلام کا مصدقہ طریقہ حلف الفضول کا طریقہ ہے۔ یعنی معاشرہ کے ذمہ دار افراد کا خدا کے سامنے عہد باندھ کر اپنے آپ کو اس کا پابند کرنا کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوگا کہ ایک شخص دوسرے شخص پر ظلم کر رہا ہو تو وہ فوراً دوڑ کر موقع پر پہنچیں گے۔ مظلوم کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بنائیں گے۔ وہ اپنی ساری قوت اور ساری کوشش صرف کر کے ظالم کومجبور کریں گے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آئے اور مظلوم کو اس کا حق ادا کرے۔
آج ہر بستی میں یہ صورت حال ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستاتا ہے۔ کوئی کسی کو ذلیل کرنےپر تلا ہوا ہے، کوئی کسی کے اوپر جھوٹا مقدمہ قائم کیے ہوئے ہے۔ کوئی کسی کا مال ہڑپ کر لینا چاہتا ہے۔ غرض جس کو ذرا بھی کوئی طاقت یا موقع ہاتھ آتا ہے تو وہ اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ کمزور کو دبائے اور ظالمانہ طریقہ پر دوسرے کےحقوق کو غصب کرے۔ اس قسم کے واقعات ہر بستی میں اور ہر محلہ میں ہو رہے ہیں۔ مگر تمام لوگ غیر جانب دار بنے رہتے ہیں۔ حتٰی کہ ذمہ دار افراد بھی ان معاملات میں کوئی دخل نہیںدیتے۔ کسی کو اگر اصلاح امت یا خدمت قوم کا شوق ہوتا ہے تو وہ جلسوں اور تقریروں کا مشغلہ شروع کر دیتا ہے۔ حالانکہ اصل کام مظلوموں کی عملی دادر سی ہے نہ کہ مظلوموں کے نام پر جلسہ کرنا اور اس میںالفاظ کے دریا بہانا۔ مظلوموں کے نام پر جلسے کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص زخمی ہو جائے اور آپ اس کو اسپتال لے جانے کے بجائے ایک ’’شان دار زخمی کانفرنس ‘‘ منعقد کرنے کے لیے دوڑ پڑیں۔
_3_
قبائلی نظام میں آدمی قبیلہ کی حمایت کے تحت زندگی گزارتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ابتدائی زمانہ میں اپنے چچا ابو طالب کی حمایت میں رہے جو قبیلہ بنو ہاشم کے سردار تھے۔ نبوت کے دسویں سال ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد قبائلی روایات کےمطابق ابو لہب قبیلہ بنو ہاشم کا سردار مقرر ہوا۔ اس نے آپ کی حمایت سے انکار کر دیا۔ اب آپ نے ارادہ کیا کہ کسی دوسرے قبیلہ کی حمایت حاصل کر کے اپنا دعوتی کام جاری رکھیں۔ اس غرض کے تحت آپ نے طائف کا سفر فرمایا۔
طائف مکہ کے جنوب مشرق میں 65میل کے فاصلہ پر ایک سر سبز و شاداب بستی تھی۔ وہاں آپ کے بعض رشتہ دار تھے۔ چنانچہ آپ اپنے خادم زید بن حارثہ کو لے کر طائف پہنچے۔ اس وقت وہاں کی آبادی میں تین ممتاز سردار تھے۔ عبد یا لیل، مسعود اور حبیب۔ آپ ان تینوں سے ملے۔ مگر ہر ایک نے آپ کا ساتھ دینے یا آپ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا خدا نے اگر تم کو رسول بنایا ہو تو میں کعبہ کا پردہ پھاڑ ڈالوں۔ دوسرے نے کہا خدا کو کیا تمہارے سوا کوئی نہ ملا تھا جس کو وہ رسول بنا کر بھیجتا۔ تیسرے نے کہا خدا کی قسم میںتم سے بات نہیں کروںگا۔ اگر تم رسول ہو تو تمہارا جواب دینا گستاخی ہے اور اگر تم جھوٹے ہو تو میرے لیے مناسب نہیں کہ میں تم سے بات کروں۔ (فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمْهُوَ يَمْرُط ثِيَابَ الْكَعْبَةِ إنْ كَانَ اللهُ أَرْسَلَكَ، وَقَالَ الْآخَرُأَمَا وَجَدَاللهُ أَحَدًا يُرْسِلُهُ غَيْرَكَ! وَقَالَ الثَّالِثُوَاللهِ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا، لَئِنْ كُنْتَ رَسُولًا مِنْ اللهِ كَمَا تَقُولُ، لَأَنْتَ أَعْظَمُ خَطَرًا مِنْ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ الْكَلَامَ، وَلَئِنْ كُنْتَ تَكْذِبُ عَلَى اللهِ، مَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أُكَلِّمَكَ) سیرۃ ابن ہشام جلد2صفحہ 29۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غم گین ہو کر واپس ہوئے۔ مگر ان لوگوں نے پھر بھی آپ کو نہ بخشا۔ انہوں نے بستی کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ گالیوں اور پتھروں سے آپ کا پیچھا کرتے رہے۔ آپ کے خادم زید بن حارثہ نے اپني چادر سے آپ کو آڑ میں لینے کی کوشش کی۔ مگروہ آپ کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اور آپ کا جسم لہو لہان ہو گیا۔
بستی سے کچھ دور جاکر عتبہ اور شیبہ دو بھائیوں کا انگور کا باغ تھا۔ یہاں پہنچتے پہنچتےشام ہو گئی اور آپ نے اس باغ میں پناہ لی۔ آپ زخموں سے چور تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ خدا یا میری مدد فرما مجھے تنہا نہ چھوڑدے۔
عتبہ اور شیبہ دونوں مشرک تھے۔ مگر جب انہوں نے آپ کا حال دیکھا تو ان کو آپ کے اوپر رحم آگیا۔ انہوں نے اپنے نصرانی غلام کو بلایا جس کا نام عداس تھا۔ انہوں نے عداس سے کہا کہ ان انگوروں کے کچھ خوشے لو اور ان کو ایک برتن میں رکھ کر اس آدمی کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اس میں سے کھائے۔ عداس نے ایساہی کیا۔ وہ انگور لے کر آیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ یہ کھاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو بسم اللہ کہا اور پھر کھایا۔
عداس نے آپ کے چہرہ کی طرف دیکھا اور کہا خدا کی قسم یہ جو آپ نے کہا، اس ملک کے لوگ ایسا نہیں کہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اے عداس، تم کس ملک کے رہنے والے ہو اور تمہارا دین کیا ہے۔ عداس نے کہا میں نصرانی ہوں اور میں نینوا (عراق) کا رہنے والا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا مرد صالح یونس بن متی کے شہر کا۔ عداس نے کہا آپ کو کیسے معلوم کہ یونس بن متی کون تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم نے کہا وہ میرے بھائی ہیں۔ وہ نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں (ذَاكَ أَخِي، كَانَ نَبِيًّا وَأَنَا نَبِيٌّ) یہ سن کر عداس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک پڑا اور آپ کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کو چومنے لگا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
عتبہ اور شیبہ اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ ایک نے دوسرے سے کہا دیکھو اس شخص نے تمہارے غلام کو خراب کر دیا۔ عداس جب لوٹ کر آیا تو انہوں نے اس سے کہا عداس تمہارا برا ہو۔ تم کو کیا ہوا کہ تم اس کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کو چومنے لگے۔ عداس نے کہا اے میرے آقا، زمین پر اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اس آدمی نے مجھ کو ایسی بات بتائی جس کو صرف ایک نبی ہی جان سکتاہے۔ دونوں نے کہا اے عداس، تمہارا برا ہو۔ وہ تم کو تمہارے دین سے پھیر نہ دے۔ کیونکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے وَيْحَكَ يَا عَدَّاسُ، لَا يَصْرِفَنَّكَ عَنْ دِينِكَ، فَإِنَّ دِينَكَ خَيْرٌ مِنْ دِينِهِ(سیرۃ ابن ہشام جلد 1 صفحہ 421)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کے رسول کو ایک ہی سفر میں مختلف لوگوں سے تین الگ الگ قسم کے سلوک کا تجربہ ہوا
ایک نے آپ کے اوپر پتھر پھینکے۔
دوسرے نے آپ کی ضیافت کی۔
تیسرے نے آپ کی نبوت کا اقرار کر لیا۔
اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ یہ سبق کہ اس دنیا میں امکانات کی کوئی حد نہیں۔ یہاں اگر چٹیل میدان ہیں تو وہیں سایہ دار درخت بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کی زندگی میںکچھ لوگوں سے اگر برے سلوک کا تجربہ ہو تو آدمی کو مایوس نہیںہونا چاہیے۔ آدمی اگر خود سچائی پرقائم رہے۔ وہ اپنے دل کو منفی جذبات سے بچائے تو ضرور اس کو خدا کی مدد حاصل ہوگی۔ ایک قسم کے لوگ اگر اس کا ساتھ نہ دیں گے تو کچھ دوسرے لوگوں کے دل اس کے لیے نرم کر دیے جائیں گے۔
_4_
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دعوت کا آغاز کيا تو آپ کی شدید ترین مخالفت کی گئی۔ آپ کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ آپ کو دبانے اور ناکام کرنے کے لیے وہ لوگ جو کچھ کر سکتے تھے وہ سب انہوں نے کیا۔ مگر آپ کا مشن بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ مدینہ کے لوگوں تک اسلام کی آواز پہنچی۔ وہاں کثرت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔ آپ کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی مکہ والے بہت ستاتے تھے۔ آپ نے مکہ کے مسلمانوں سے کہا مدینہ میںاللہ نے تمہار ے لیے کچھ بھائی او رمدد گار مہیا کر دیے ہیں، تم لوگ وہاں چلے جاؤ۔ لوگ ایک ایک کرکے جانے لگے۔ قریش کو اس منصوبہ کا علم ہوا تو انہوں نے کوشش کی کہ لوگوں کو جانے سے روکیں۔ کچھ لوگوں کو مارا، کچھ لوگوں کو پکڑ کر گھروں میں بند کر دیا۔ تاہم بیشتر لوگ کسی نہ کسی طرح مکہ سے مدینہ پہنچ گئے۔
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری تھی۔ قریش کو اندازہ ہو گیا کہ تمام مسلمانوں کو مدینہ بھیجنے کے بعدا ب پیغمبر اسلام خود بھی مدینہ چلے جائیں گے۔ چنانچہ بنو ہاشم کے سوا تمام قبائل قریش کے سردار دار الندو ہ (قصی بن کلاب کا مکان) میں جمع ہوئے۔ مشورہ میں مختلف تجویز سامنے آئیں۔ با لآخر اس رائے پر اتفاق ہوا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی تلوار لے اور بیک وقت حملہ آور ہو کر محمد کو قتل کر دے۔ اس طرح محمد کا خون تمام قبائل میں تقسیم ہو جائے گا۔ بنو ہاشم تمام قبائل کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور قصاص کے بجائے دیت پر راضی ہو جائیں گے۔ اس کے بعدا گلی رات کو تمام سرداروں نے آپ کا مکان گھیرلیا، تاکہ صبح کو جب آپ گھر سے باہر نکلیں تو اچانک حملہ کر کے آپ کا خاتمہ کر دیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام حالات کی خبر تھی اور آپ بھی خاموشی کے ساتھ اپنی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آپ اسی رات کو ابو بکر صدیق کے ساتھ مکہ سے نکل گئے۔ آپ مکہ سے چل کر چار میل کے فاصلہ پر جبل ثور کے ایک غار میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ آپ کو اندازہ تھا کہ قریش کو جب معلوم ہو گا کہ آپ مکہ سے چلے گئے ہیں تو وہ آپ کی تلاش میں اِدھر اُدھر نکلیں گے۔ اس لیے آپ چاہتے تھے کہ چند دن غار ثور میں گزاریں اور جب قریش کی تلاش رکے تومدینہ کا سفر کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب قریش کے سوار چاروں طرف آپ کی تلاش میںدوڑ نے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دستہ غار ثور تک بھی پہنچ گیا۔ یہ لوگ تلواریں لیے ہوئے غارثور کے پاس اس طرح کھڑے تھے کہ ان کے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دکھائی دے رہے تھے۔ یہ انتہائی خطر ناک لمحہ تھا۔ ابو بکر صدیق نے کہا اے خدا کے رسول، دشمن تو یہاں تک پہنچ گیا۔ آپ نے کہالا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا(9:40)۔ یعنی، غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر اطمینان کے ساتھ فرمایا اے ابو بکر، ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہومَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا( صحیح البخاری، حدیث نمبر 4653)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
_5_
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ ذات الرقاع ہے جو 4 ھ میں پیش آیا۔ اس غزوہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے صحیح بخاری (کتاب المغازی) میں نقل ہوا ہے۔ سیرت کی کتابوں میں بھی یہ واقعہ معمولی فرق کےساتھ آیا ہے۔
quoted sourceQuoted from another author or source
بنو غطفان کا ایک شخص جس کا نام غورث ابن الحارث تھا، اس نے اپنی قوم سے کہا کیا میں تمہارے لیے محمد کو قتل کر دوں (الا اَقتل لکم محمدا )۔انہوں نے کہا ضرور، مگر تم کیسے ان کو قتل کرو گے۔ غورث نے کہا میں ان کو غفلت کی حالت میں پکڑوں گا اور قتل کردوں گا۔ اس کے بعد غورث روانہ ہوا۔ وہ ایک مقام پر پہنچا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ اس مقام پر درخت اور جھاڑیاں تھیں۔ لوگ جھاڑیوں کے سایہ میںلیٹے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے آرام کر رہے تھے اور اپنی تلوار آپ نے درخت کی شاخ سے لٹکادی تھی۔ اتنے میں مذکورہ اعرابی (غورث) آپ کو تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچا۔ اس نے جب دیکھا کہ آپ تنہا لیٹے ہوئےہیں اور آپ کی تلوار بھی آپ سے الگ درخت کے اوپر لٹک رہی ہے تو اس نے بڑھ کر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی۔ پھر تلوار کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور کہا آپ کو کون مجھ سے بچائے گا(مَنْ يَمْنَعُك مِنِّي)۔آپ نے فرمایا اللہ عز وجل۔ اعرابی نے تلوار کو ہلاتے ہوئے کہا اپنی اس تلوار کی طرف دیکھو جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تم کو اس سے ڈر نہیں معلوم ہوتا۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ میں تم سے کیوں ڈروں۔ جب کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ مجھے بچائے گا (يَمْنَعُنِي اللهُ مِنْك)آپ کے پُر اعتماد جو اب کے بعد اعرابی کو اقدام کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے تلوار میان میں ڈال کر آپ کو واپس کر دی (فَشَامَ الْأَعْرَابِيُّ السَّيْفَ )۔اب آپ نے اعرابی کو بٹھایا اور لوگوں کو آواز دی۔ لوگ آئے تو دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ آپ نے پورا قصہ بتایا۔ اعرابی سہما ہوا تھا کہ اب شاید تلوار میری گردن پر چلے گی۔ مگر آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کو کوئی سزانہ دی (سیرت ابن ہشام جلد 2،صفحہ 205، دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد3، صفحہ374، السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد3، صفحہ162-64)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جو لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کر لیں ان کو کسی دوسری چیز کا خوف نہیں رہتا۔ یہ عقیدہ کہ اللہ ایک زندہ اور طاقت ور ہستی کی حیثیت سے ہر وقت موجود ہے، ان کو ہر دو سری طاقت کے مقابلہ میں نڈر بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں کسی شخص کی سب سے بڑی طاقت بے خوفی ہے۔ دشمن کو اگر یقین ہو جائے کہ اس کا حریف اس سے نہیں ڈرتا تو وہ خود اس سے ڈرنے لگتا ہے۔
_6_
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ خندق ہے جو شوال 5ھ میں پیش آیا۔ اس کو غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی فوجوں کا غزوہ۔ اس جنگ میں عرب کے مختلف قبیلوں نے مل کر مدینہ پر حملہ کر دیا تھا۔ قبائل قریش، قبائل غطفان اور قبائل یہود کے دس ہزاسے زیادہ افراد اس میں شریک تھے۔ یہ حملہ کتنا شدید تھا، اس کا اندازہ قرآن کے ان الفاظ سے ہوتا ہے’’ جب وہ اوپر سے اور نیچے سے تمہارے اوپر چڑھ آئے۔ اس وقت ڈر کی وجہ سے تمہاری آنکھیں پتھر اگئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنےلگے۔ اس وقت اہل ایمان کی بڑی جانچ ہوئی اور وہ بالکل ہلادیے گئے (هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ) 33:11۔ مخالفین اسلام کا یہ لشکر پوری طرح ہتھیار بند تھا۔ اس میں ساڑھے چار ہزار اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دشمنوں نے مدینہ کو اس طرح گھیرے میں لے لیا کہ باہر سے ہر قسم کی امداد آنا بند ہو گئی۔ سامان رسد کی اتنی کمی ہوئی کہ لوگ فاقے کرنے لگے۔ اسی دوران کا واقعہ ہے کہ ایک صحابی نےبھوک کی شکایت کی اور کُرتا اٹھا کر دکھا یا کہ پیٹ پر ایک پتھر باندھ رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں اپنا کُرتا اٹھایا تو آپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ مختلف قبائل ایک ساتھ ہو کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی کی رائے کے مطابق طے ہو ا کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ اس وقت مدینہ تین طرف سے پہاڑوں، گھنے درختوں اور مکانات کی دیواروں سے گھرا ہو اتھا۔ شمال مغربی حصہ خالی تھا۔ طے ہوا کہ اس کھلے ہوئے حصہ میں دو پہاڑوں کے درمیان خندق کھودی جائے۔ چنانچہ چھ دن کی لگا تا ر محنت سے ایک خندق کھود کر تیار کی گئی۔ یہ خندق دشمنوں کی یلغار کو روکنے کے لیے اتنی کارآمد ثابت ہوئی کہ اس غزوہ کا نام غزوہ خندق پڑ گیا۔
سیرت کی کتابوں میں خندق کی تفصیلات جب ہم پڑھتے ہیں توایک سوال سامنے آتا ہے۔ ’’ایک معمولی خندق دشمنوں کی فوج کو روکنے کا سبب کیسے بن گئی ‘‘ مذکورہ تفصیلات کے مطابق یہ خندق تقریباً 6 کیلو میٹر لمبی تھی۔ اور اس کی گہرائی اورچو ڑائی ایک معمولی نہر سے زیادہ نہ تھی۔ وہ تقریباً ڈھائی میٹر گہری اورتقریباً تین میٹر چوڑی تھی۔ اِس قسم کی ایک خندق ایک مسلح فوج کے لیے ایک نالی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ وہ لوگ بآسانی اس کو عبور کر کے مدینہ میںداخل ہو سکتے تھے۔ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس خندق کے با وجود مسلمان دشمن فوج کی تیروں کی زد میںتھے۔ جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ کو تیر لگنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم کچھ لوگ خندق کے دوسری طرف پہنچنے میں کا میاب ہو گئے تھے۔ عمرو بن عبد وُد اور اس کے کچھ ساتھیوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر خندق کا جائزہ لیا اور ایک جگہ خندق کو کچھ کم چوڑی دیکھ کر وہاں ٹھہرے اور گھوڑا کداکر خندق کے دوسری طرف پہنچ گئے۔ اس کے بعد عمر و بن عبد ود کا مقابلہ حضرت علی بن ابی طالب سے ہوا جس میں عمر و بن عبد و د ماراگیا۔ تقریباً ایک مہینہ کا یہ محاصرہ اپنے آخری دنوں میں آندھی اور طوفان کے بعد ختم ہو گیا۔ آندھی نے دشمن کے لشکر میںاتنی بد حواسی پیدا کی کہ ابو سفیان نے اونٹ کی رسی کھولے بغیر اونٹ پر بیٹھ کر اس کو ہا نکنا شروع کر دیا۔ پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ 10ہزار سے زیادہ تعداد کی مسلح فوجیں خندق کو عبور کر کے مدینہ میں کیوں نہ داخل ہو ئیں جہاں تین ہزار آدمیوں کا بے سر وسامان قافلہ ان کی یلغار کو روکنے کے لیے بالکل نا کافی تھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس سوال کا جواب خدا کی ایک سنت میں ملتا ہے۔ وہ سنت یہ کہ اللہ اہل ایمان کی طاقت ان کے دشمنوں کو بڑھا کر دکھاتا ہے تاکہ وہ مرعوب اور ہیبت زدہ ہو جائیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہےسَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا َ (3:151)۔ یعنی، ہم منکروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے۔ کیوں کہ انہوں نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اللہ تعالیٰ کی یہ نصرت رعب غزوہ خندق میں اور دوسرے مواقع پر ظاہر ہوئی۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کی کھودی ہوئی نالی ان کے دشمنوں کو بہت بڑی خندق کی صورت میں دکھائی دی۔ تاہم مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں کو تھکا کر ایک ’’نالی‘‘ کھو دنا ضروری ہے۔ اگر وہ نالی کھود نے میں اپنے ہاتھوں کو نہ تھکا ئیں تو خدا ان کی نالی کو خندق بنا کر کس طرح دوسروں کو دکھائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللہ تعالیٰ کی نصرت رعب جو قرنِ اول کے مسلمانوں کو کمال درجہ میں حاصل ہوئی وہ بعد کے دور کے مسلمانوں کو بھی مل سکتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ اس راستہ پر چلیں جس راستہ پر صحابہ خدا کے رسول کی رہنمائی میں چلے۔ کسی اور راستہ پر چلنے والے شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ پھر ان کو خدا کی نصرت کس طرح ملے گی۔ اللہ کی نصرت کا مستحق آدمی اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے کو حق کے ساتھ اس طرح شامل کرے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس کو وہ حق کے حوالے کر دے، وہ اپنے سرکا تاج دوسرے کے سر پر رکھ دے جیسا کہ ہجرت کے بعد مدینہ کے لوگوں نے کیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خدا کی نصرت کا مستحق بننے کی شرط ایک لفظ میں یہ ہے کہ ’’جب تم مدد کرو گے تو تمہاری مدد کی جائے گی ‘‘۔ خدا ہماری مدد پر اس وقت آتا ہے جب کہ ہم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریںجو ہم خدا سے اپنے لیے چاہتے ہیں۔ہماری ذات سے اگر دوسروں کو زحمت پہنچ رہی ہو تو خدا کے فرشتے ہمارے لیے خدا کی رحمت کا تحفہ لے کر نہیں آسکتے۔ اگر ہمارا یہ حال ہو کہ جس پر ہمارا قابو چلے اس کو ہم نا حق ستانے لگیں تو نا ممکن ہے کہ خدا وہاں ہماری مدد کرے جہاں کوئی دوسرا ہمارے اوپر قابو پاکر ہمیں ستانے لگتا ہے۔ ایک آدمی اپنی مصیبت میں ہم کو پکارے اور ہم استطاعت کے با وجود اس کی پکار پر دھیان نہ دیں تو کبھی یہ ممکن نہیں کہ خدا اس وقت ہماری پکار کو سنے جب کہ کوئی طاقت ور ہمارے اوپر چڑھ آتا ہے اور ہم خدا کو پکار نے لگتے ہیں ۔ دنیا کی زندگی میںہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ کسی کے مقابلہ میں آدمی طاقت ور ہو تا ہے اور کسی کے مقابلہ میں کمزور۔ یہی صورت حال نصرت خداوندی کے معاملہ میں آدمی کے امتحان کا پرچہ ہے۔ کوئی شخص یا قوم اپنے طاقت وروں کے مقابلہ میں خدا کی جو نصرت چاہے اس کا ثبوت اس کو اپنے کمزوروں کے معاملہ میں دینا پڑتا ہے اگر آدمی اپنےکمزوروں پر ظلم کرتا ہو تو اپنے طاقت وروں کے مقابلہ میں وہ خدا کی مدد کا مستحق نہیں بن سکتا، خواہ وہ کتنا ہی خدا کو پکارے، خواہ وہ کتنا ہی یوم دعا منائے۔
_7_
بدر کی لڑائی (2ھ ) سے کچھ پہلے60 آدمیوں پر مشتمل قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں شام بھیجا گیاتھا۔ اس تجارتی قافلہ میں مکہ کے مردوں اور عورتوں نے اپنا تمام سرمایہ لگا دیا تھا۔ بدر کی لڑائی میں قریش کو مکمل شکست ہوئی۔ تاہم ابو سفیان کو اس میں کامیابی ہوئی کہ وہ تجارتی قافلہ کو ساحلی راستہ سے چلاکر مکہ پہنچ جائیں۔ جنگ کے بعد سارامکہ جوش انتقام سے بھرا ہواتھا۔ قریش کے ذمہ دار افراد کا ایک اجتماع دار الندوہ میںہوا۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ تجارتی قافلہ کے شرکا صرف اپنا اصل سرمایہ لے لیں او رمنافع کی رقم پوری کی پوری محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف جنگ کی تیاری میں لگا دی جائے۔ منافع کی یہ رقم پچاس ہزار دینار تھی جو اس وقت کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی۔ اب قریش نے زبردست تیاری کی اور شوال 3 ھ میں مکہ سے نکل کر مدینہ پر حملہ کے لیے روانہ ہوئے۔
اسی جنگ کا نام جنگ احد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ نے صحابہ کو جمع کرکے مشورہ کیا۔ بڑ ے صحابہ میںسے اکثر کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میںرہ کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر نوجوان طبقہ اس کا پر جوش مخالف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر ہم یہاں ٹھہریں گے تو دشمن اس کوہماری بزدلی اور کم زوری پر محمول کرے گا۔ اس لیے ہمیں باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ عبد اللہ بن ابی کی رائے بھی وہی تھی جو اکا بر صحابہ کی تھی (سیرۃ ابن ہشام جلد 2صفحہ 64) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جن لوگوں کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیاجائے، اس کی بڑی وجہ مدینہ کا جغرافیہ تھا جو ایک قدرتی حصار کا کام کرتاتھا۔ مدینہ کا جائے وقوع ایسا تھا کہ اس کے جنوب میںکھجوروں کے گھنے باغات اس کثرت سے تھے کہ ادھر سے کوئی فوج بستی کے اوپر حملہ نہیں کرسکتی تھی۔ اسی طرح مشرق اور مغرب کے بڑے حصہ میں پہاڑ یاں تھیں جو کسی فوجی پیش قدمی کے لیے قدرتی روک کا کام کررہی تھیں۔ اس لیے کوئی دشمن صرف ایک ہی سمت سے مدینہ پرحملہ کر سکتا تھا۔ اس جغرافی پوزیشن نے مدینہ کو جنگی اعتبار سے کافی محفوظ شہربنا دیا تھا۔ گویا مدینہ ایک قسم کا قلعہ تھا۔ شہر سے باہر نکل کر وہ چاروں طرف سے دشمن کی زد میں ہو جاتے تھے جب کہ مدینہ کے اندر صرف ایک طرف سے مقابلہ کا انتظام کرنا تھا۔ غزوۂ احزاب میں مدینہ کے اسی جائے وقوع سے فائدہ اٹھایا گیا اور اس کی کھلی سمت میں(شمال مغربی رخ پر) خندق کھود کر پورے شہر کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔
بڑے صحابہ کی اکثریت اور عبد اللہ بن ابی کی رائے اگر چہ یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔مگر آپ نے نو جوان طبقہ کی رائے کا لحاظ کیا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدینہ سے نکل کر احد کی طرف روانہ ہوئے۔ عبد اللہ بن ابی نے جب دیکھا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی جو بظاہر ِحالات معقول بھی تھی تو اس کو بہت دکھ ہوا۔ وہ مدینہ سے ساتھ نکل پڑاتھا مگر دل کے اندر غصہ باقی تھا۔ چنانچہ اسلامی لشکر بھی مدینہ اور احد کے درمیان تھا کہ عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف واپس ہو گیا۔ عبد اللہ بن ابی نے کہا
unverifiedAttribution could not be verified automatically
أَطَاعَهُمْ وَعَصَانِي، مَا نَدْرِي عَلَامَ نَقْتُلُ أَنْفُسَنَا هَاهُنَا أَيُّهَا النَّاسُ (سیرۃ ابن ہشام جلد2 صفحہ 64)۔ یعنی، رسول اللہ نے ان کی بات مان لی اور میری بات نہیں مانی۔ اے لوگو! ہم کو نہیں معلوم کہ ہم اپنی جانوں کو یہاں کیوں ہلاک کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
احد کی جنگ میں شکست نے یہ ثابت کیا کہ انہیں لوگوں کی رائے درست تھی، جو مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کے لیے کہتے تھے، اور باہر نکلنے سے روکتے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد غزوۂ خندق (5ھ) میں اسی رائے کو اختیار کیا گیا اور مدینہ میں رہ کر مقابلہ کی تدبیر کی گئی۔ تاہم تمام بڑے صحابہ اپنے اختلاف رائے کو بھول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور جنگ میں شدید نقصان اور تکلیف کے با وجود پوری بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ صرف عبد اللہ بن ابی الگ ہوا اور اس کی بنا پر رئیس المنا فقین کہلایا۔ عبد اللہ بن ابی کی رائے اصولاً درست تھی۔ تجربہ نے بھی اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کی۔ مگر صحت رائے کے با وجود اطاعت سے نکلنا اس کے لیے گمراہی اور خدا کی ناراضی کا سبب بن گیا۔
اسلام میں مشورہ کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنا مشورہ پیش کرے۔ لیکن ہر مشورہ دینے والا اگر یہ بھی چاہے کہ اس کے مشورہ پر ضرور عمل کیا جائے تو کبھی کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مختلف رایوںمیں سے کسی ایک ہی رائے کو عملاً اختیار کیاجا سکتا ہے ،نہ کہ ہر رائے کو۔ سچے مسلمان وہ ہیں جو مشورہ پیش کرنے کے بعد اپنا مشورہ بھول جائیں اور ذمہ داروں کی طرف سے جو فیصلہ ہواس کو اس طرح مان لیں جیسے وہی ان کی اپنی رائے تھی۔
’’سب سے بڑی قربانی رائے کی قربانی ہے ‘‘ کسی شخص کا یہ قول بہت با معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رائے کی قربانی واحد چیز ہے جس کے اوپر کوئی مضبوط اجتماعیت کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی عمارت صرف اس وقت بنتی ہے جب کہ کچھ اینٹیں اپنے آپ کو زمین میں دبانے کے لیے تیار ہوں۔ اسی طرح کوئی حقیقی اجتماعیت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ اس کے لیے تیار ہوں کہ وہ اپنی رایوں کو اپنے سینہ میں چھپالیں گے اور اختلاف رائے کے باوجود اتحاد عمل کا ثبوت دیں گے۔ اس قربانی کے بغیر کسی انسانی اجتماعیت کا وجود میں آنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اینٹوں کے بنیاد میں دفن ہوئے بغیر عمارت کا وجود میں آنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
_8_
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میںخواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کر رہے ہیں۔ صحابہ کو آپ نے یہ خواب بتایا تو وہ بہت خوش ہو ئے کہ چھ سال کے بعد اب مکہ جانے اور حرم کی زیارت کرنے کا موقع ملے گا۔ اسی خواب کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ چودہ سوا صحاب بھی آپ کے ساتھ ہوگئے۔ غدیر اشطاط کے مقام پرپہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش آپ کے سفر کی خبر پا کر سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک لشکر جمع کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کعبہ کی زیارت سے کسی کو روکنا عرب روایات کے بالکل خلاف تھا۔ مزید یہ کہ آپ اشارۂ خدا وندی کے تحت یہ سفر کر رہے تھے۔ مگر اس کے با وجود آپ اس خبر کو سن کر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ کے جا سوس نے بتایا کہ خالد بن ولید دو سو سواروں کو لے کر مقام غمیم تک پہنچ گئے ہیں تاکہ آپ کا راستہ روکیں۔ یہ خبر سن کر آپ نے یہ کیا کہ معروف راستہ کو چھوڑ دیا اور ایک غیرمعروف اور دشوار گزار راستہ سے چل کر حدیبیہ تک پہنچ گئے تاکہ خالد سے ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ اس واقعہ کو ابن ہشام نے جن الفاظ میںنقل کیا ہے وہ یہ ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قَالَ مَنْ رَجُلٌ يَخْرَجُ بِنَا عَلَى طَرِيقٍ غَيْرِ طَرِيقِهِمْ الَّتِي هُمْ بِهَا؟...قَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَفَسَلَكَ بِهِمْ طَرِيقًا وَعْرًا أَجْرَلَ بَيْنَ شِعَابٍ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْهُ، وَقَدْ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَأَفْضَوْا إلَى أَرْضٍ سَهْلَةٍ عِنْدَ مُنْقَطِعِ الْوَادِي،قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِقُولُوا نَسْتَغْفِرُ اللهَ وَنَتُوبُ إلَيْهِ. فَقَالُوا ذَلِكَ، فَقَالَوَاَللهِ إنَّهَا لَلْحِطَّةُ الَّتِي عُرِضَتْ عَلَى بَنِي إسْرَائِيلَ. فَلَمْ يَقُولُوهَا(سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ309-10)۔يعني، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کون شخص ہے جو ہم کو ایسے راستہ سے لے جائے جو ان کے راستہ سے مختلف ہو۔ ایک شخص نے کہا کہ میں اے اللہ کے رسول۔ چنانچہ وہ لوگوں کو لے کر ایسے راستہ پر چلا جو سخت دشوار اور پتھر یلا تھا اور پہاڑی راستوں سے گزرتاتھا۔ جب لوگ اس راستہ کو طے کر چکے اور مسلمانوں کو اس پر چلنا بہت شاق گزراتھا اور وہ وادی کے ختم پر ایک ہموار زمین میں پہنچے تو رسول اللہ نے لوگوں سے کہا کہ کہو ہم اللہ سے مغفرت مانگتے ہیں اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ لوگوں نے اسی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا خدا کی قسم یہی حِطّہ ہے جو بنی اسرائیل کو پیش کیا گیا تھا۔ مگر انہوں نے نہیں کہا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حِطّہ کا مطلب تو بہ اور بخشش ہے۔ اس صبر آزما موقع پرتوبہ وا ستغفار کر انا ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے بتائے ہوئے صابرانہ طریق کا ر کا آدمی کو اس قدر زیادہ پابند ہونا چاہیے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے جو کمزوری یا جھنجھلاہٹ پیدا ہو اس کو بھی آدمی گناہ سمجھے اور اس کے لیے خدا سے معافی مانگے۔ اس کو خدا کے طریقہ پر راضی رہنا چاہیے نہ کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر خود ساختہ طریقے نکالنے لگے۔
حدیبیہ کا مقام مکہ سے 9میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں آپ ٹھہر گئے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں ۔ حدیبیہ سے آپ نے خراش بن امیہ خزاعی کو ایک اونٹ پر سوار کر کے اہل مکہ کے پاس بھیجا کہ ان کو خبر کردیں کہ ہم صرف بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئے ہیں، جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں۔ جب وہ مکہ پہنچے تو اہل مکہ نے ان کے اونٹ کو ذبح کر ڈالا اور خود حضرت خراش کو بھی قتل کرنے کے لیے دوڑے۔ مگر وہ کسی طرح بچ کر واپس آگئے۔ پھر آپ نے حضرت عثمان کو یہ پیغام لے کر مکہ بھیجا کہ تم لوگ مزاحمت نہ کرو، ہم عمرہ کے مراسم ادا کر کے خاموشی سے واپس چلے جائیں گے۔ اہل مکہ نے حضرت عثمان کو بھی روک لیا۔ پھر مکر زبن حفص پچاس آدمیوں کو لے کر رات کے وقت حدیبیہ پہنچا اور مسلمانوں کے پڑاؤ پر تیر ا ور پتھر بر سانے لگا۔ مکر زکو گرفتار کر لیا گیا۔ مگر اس کے خلاف کوئی کا رروائی نہیں کی گئی۔ اس کو بلاشر ط چھوڑ دیاگیا۔ اسی طرح مقام تنعیم کی طرف سے80آدمی صبح سویرے آئے اورعین نماز کے وقت مسلمانوں پرچھا پہ مارا۔ یہ لوگ بھی پکڑلیے گئے۔ مگر آپ نے ان کو بھی غیر مشروط طور پر رہا کر دیا۔
اس کے بعد قریش سے طویل مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہوئی۔ مگر یہ صلح ظاہر بینوں کے لیے سراسر قریش کی فتح اور مسلمانوں کی شکست کے ہم معنی تھی۔ مسلمان یہ سمجھے ہوئےتھے کہ وہ بشارت اِلٰہی کے تحت عمرہ کرنے کے لیے مکہ جار ہے ہیں مگرجو صلح ہوئی اس میںرسول اللہ صلی اللہ علی وسلم اس شرط پر راضی ہو گئے کہ وہ عمرہ کیے بغیر حدیبیہ سے واپس چلے جائیں۔ اگلے سال وہ عمرہ کے لیے آئیں مگر صرف تین دن مکہ میں ٹھہریں اور اس کے بعد خاموشی سے واپس چلے جائیں۔ اس طرح کی ذلت آمیز دفعات مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے بالکل کافی تھیں۔ مگر آپ نے بظاہر شکست کے باوجود تمام د فعات کو منظور کر لیا۔
قریش نے اس موقع پر آپ کے ساتھ جو کچھ کیا آپ کو اشتعال دلانے کے لیے کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح آپ کو مشتعل کر کے آپ کی طرف سے کوئی جا رحانہ اقدام کرادیں تاکہ قریش کے لیے آپ سے لڑنے کا جواز نکل آئے۔ حرم کی زیارت سے روکنایوں بھی عرب روایات کے خلاف تھا۔ مزید یہ کہ یہ ذو قعدہ کا مہینہ تھا جو عربوں میں حرام مہینہ شمار ہوتا تھا۔ اس میں جنگ ناجائز سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے اہل مکہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے اوپر جا ر حیت کی ذمہ داری ڈال کر ان سے جنگ کی جائے۔ مسلمان اس وقت کم تعداد میں تھے۔ ان کے پاس سامان جنگ نہیں تھا۔ وہ اپنے مرکز (مدینہ) سے ڈھائی سو میل دور اور قریش کے مرکز (مکہ) کی عین سر حد پر تھے۔ قریش کے لیے بہترین موقع تھا کہ آپ کے اوپر بھر پور وار کر کے آپ کے خلاف اپنے دشمنانہ حوصلوں کو پورا کرسکیں۔ اسی لیے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح آپ مشتعل ہو کر لڑ پڑیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شرارت کو نظر انداز کرتے رہے اور کسی طرح اشتعال کی نوبت نہ آنے دی۔
یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ حضرت ابو بکر کے سوا صحابہ کرام میں سے کوئی شخص نہ تھا جو یہ محسوس نہ کر رہا ہو کہ ہم ظالم کے آگے جھک گئے ہیں اور اپنے کو تو ہین آمیز شرائط پر راضی کر لیا ہے۔ قرآن میں جب اس معاہدہ کے بارے میں آیت اتری کہ یہ فتح مبین ہے تو صحابہ نے کہا کیا یہ فتح ہے (أَوَفَتْحٌ هُوَ؟) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3182۔ ایک مسلمان نے کہا یہ کیسی فتح ہے کہ ہم بیت اللہ جانے سے روک دیے گئے۔ ہماری قربانی کے اونٹ آگے نہ جاسکے۔ خد ا کے رسول کو حد یبیہ سے واپس آنا پڑا۔ ہمارے مظلوم بھائی (ابو جندل او ر ابو بصیر ) کو اس صلح کے تحت ظالموں کے حوالے کر دیا گیا۔ وغیرہ۔ مگر اسی ذلّت آمیز صلح کے ذریعہ خدانے فتح عظیم کا دروازہ کھول دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ معاہد ہ بظاہر دشمن کے آگے جھک جانا تھا۔ مگر حقیقۃً وہ اپنے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کا وقفہ حاصل کرنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے تمام مطالبات منظور کر کے ان سےصرف ایک یقین دہانی لے لی۔ یہ کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ اب تک یہ تھا کہ مسلسل حالت جنگ کی وجہ سے تبلیغ و تعمیر کا کام رکا ہوا تھا۔ آپ نے حدیبیہ سے لوٹ کو فورا ً دعوت و تبلیغ کا کام عرب اور اطراف عرب میںتیزی سے شروع کر دیا۔ ابتدائی زمین پہلے تیار ہو چکی تھی۔ پر امن حالات نے جو موقع دیا اس میں دعوت کا کام تیزی سے پھیلنے لگا۔ ہزاروں کی تعدادمیںلوگ اسلام قبول کرنے لگے۔ عرب قبائل ایک کے بعد ایک اسلام میں داخل ہونے لگے۔ عرب کے باہر ملکوں میںاسلام کی دعوت پھیلائی جانےلگی۔ مشرکین مکہ کی طرف سے مامون ہو کر آپ نے خیبر کے یہودیوں کے خلاف کا ر روائی کی اور ان کا خاتمہ کر دیا۔ دعوتی سرگرمیوں کے ساتھ داخلی استحکام اور تیاری کا کام بہت بڑے پیمانہ پر ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو اکہ صلح کے صرف دو سال بعد اسلام اتنا طاقت ور ہو گیا کہ قریش نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے ۔جس مکہ سے تو ہین آمیز واپسی پر اپنے کو راضی کر لیا گیا تھا اسی مکہ میں اس واپسی سے فاتحانہ داخلہ کا راستہ نکل آیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ حریف کی طرف سے کوئی ناخوش گواربات پیش آئے تو فوراً بپھر اٹھتے ہیں اور اس سےلڑجاتے ہیں۔ اور جب بے فائدہ لڑائی کے نقصانات بتائے جائیں تو کہتے ہیں کہ ہم خود سے نہیں لڑے۔ ہمارے خلاف سازش کر کے ہم کو جنگ میں الجھا یا گیا۔یہ لوگ نہیں جانتے کہ نہ لڑنا حقیقۃً اس کا نام نہیں ہے کہ کوئی لڑنے نہ آئے تو آپ نہ لڑیں۔ نہ لڑنا یہ ہے کہ لوگ لڑنے آئیں پھر بھی آپ ان سے نہ لڑیں۔ لوگ آپ کو اشتعال دلائیں مگر آپ مشتعل نہ ہوں۔ لوگ آپ کے خلاف سازشیں کریں مگر اپنی خاموش تد بیروں سے آپ ان کی سازش کو ناکام بنا دیں۔ لوگ آپ کے خلاف اپنے دلوں میں دشمنی لیے ہوئے ہوںتب بھی آپ ان کی دشمنی کو عمل میں آنے نہ دیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زندگی کا اصل راز حریف سے لڑنا نہیں ہے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ لڑائی سے بچ کر اپنے آپ کو اتنا طاقت ور بنا یا جائے کہ لڑائی کے بغیر محض دبدبہ سے حریف ہتھیار ڈال دے۔ جو لوگ مشتعل ہو کر لڑنا جانیں اور خاموش ہو کر تیاری کرنا نہ جانیں ان کے لیے یہاں صرف بربادی کا انجام ہے۔ نا ممکن ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب ہو سکیں۔ کیسی عجیب بات ہے، جو کامیابی پیغمبر نے نہ ٹکرانے کی پالیسی اختیار کر کے حاصل کی اس کو ہم ٹکرانے کا طریقہ اختیار کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہمارا یقین ہے کہ ہم رسول خدا کے امتی ہیں اور آپ ضرور خدا کے یہاں ہماری شفاعت فرمائیں گے۔
_9_
فتح مکہ کے بعد عرب کے قبائل کثرت سے مسلمان ہوئے۔ مگر یہ لوگ زیادہ تر اسلام کا سیاسی غلبہ دیکھ کر مسلمان ہوئے تھے۔ ان کے اندر وہ ذہنی و فکری انقلاب نہیں آیا تھا جو ابتدائی لوگوں میں آیا تھا۔ اسلام کے بعض احکام، خاص طور پر زکوٰۃ ان کی آزادانہ زندگی کے لیے نا قابل بر داشت معلوم ہونے لگی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند ماہ پہلے یمن اور نجد کے علاقوں میں ان کے درمیان ایسے لیڈر ابھرے جو اسلام کا ایسا تصور پیش کرتے تھے جس میں زکوٰۃ کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ان لیڈروں، مثلاً اسود اور مسیلمہ نے اپنی بات کو خدا کی بات ثابت کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ تاکہ جس الہامی زبان میں زکوٰۃ کو فرض کیا گیا ہے اسی الہامی زبان میں اس کی فر ضیت کو ساقط کیا جا سکے۔ اس قسم کی ’’نبوت‘‘ ان قبائل کی پسندکے عین مطابق ثابت ہوئی جو زکوٰۃ کو اپنے اوپر ایک بوجھ خیال کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے جو ق در جوق ان جھوٹے مدعیان نبوت کا ساتھ دینا شروع کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ان لوگوں کا حوصلہ اور بڑھا اور یہ فتنہ تیزی سے پھیلنے لگا۔ حتٰی کہ یہ حال ہوا کہ مکہ، مدینہ اور طائف کے سوا تمام عرب میں بیشتر لوگ باغی ہوگئے۔ اسی کے ساتھ یہ خبریں بھی پھیلنے لگیں کہ یہ لوگ منظم ہو کر مدینہ پر حملہ کی تیار یاں کر رہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں جو کام کیے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے اسامہ بن زید کی قیادت میں ایک لشکر تیار کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ رومیوں کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف جائے جہاں اس سے پہلے موتہ کے مقام پر رومیوں نے اسامہ کے والد حضرت زید کو شہید کیا تھا۔ یہ لشکر روانہ ہو کر ابھی مدینہ کے باہر پہنچا ہی تھا کہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی او ر وہ خلیفۂ اول کے حکم کے انتظار میں وہیں ٹھہر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر نے اس لشکر کو آگے روانہ کرنا چاہا تو بیشتر صحابہ نے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ سارا عرب باغی ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت مدینہ پر حملہ ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں لشکر کو مدینہ کے دفاع کے لیے یہاں رکھنا چاہیے نہ کہ ایسے نازک موقع پر اس کو دور بھیج دیا جائے۔ مگر حضرت ابو بکر صدیق نے ایسی کسی رائے کو ماننے سے شدت کے ساتھ انکار کر دیا۔
تمام بڑے بڑے صحابہ اسامہ بن زید کی سر داری میں مدینہ کے باہر جمع تھے۔ اس وقت لوگوں کے اندر دو باتیں بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ ایک یہ کہ اتنے نازک موقع پر اسلامی لشکر کا مدینہ سے دور جانا حکمت کے خلاف ہے۔ دوسرے یہ کہ اسامہ بن زید ایک غلام کے لڑکے تھے اس لیے بہت سے لوگوں کو ان کی سرداری پر انقباض تھا۔ نیز وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اسامہ ابھی صرف سترہ سال کے نوجوان ہیں اور ان کی ماتحتی میں بڑے بڑے صحابہ ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ کسی معمر قریشی کو سردار مقرر کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو۔
عمر فاروق بھی ابتداء ً اس لشکر میں شامل تھے، وہ لوگوں کا پیغام لے کر حضرت ابو بکر کے پاس روانہ ہوئے۔ حضرت ابو بکر نے پہلی بات سن کر فرمایا لشکر کی روانگی کے بعد اگر میں مدینہ میں تنہا رہ جاؤں اور درندے مجھ کو پھاڑ کھائیں تب بھی میں ایک ایسےلشکر کی روانگی کو روک نہیں سکتا جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا ہو۔ دوسرے پیغام کو سن کر آپ نے فرمایا ’’کیا ان کے دلوں میں ابھی تک جاہلی فخر و تکبر کا اثر باقی ہے ‘‘۔ یہ کہہ کر آپ اٹھے اور لشکر کو خود رخصت کرنے کے لیے پیدل چل کر لشکر گاہ تک پہنچے۔ اسامہ بن زید کو ان کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا، جب اسامہ اپنی سواری پر چلے تو آپ ان کے ساتھ ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلنے لگے۔ اسامہ نے کہا کہ یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں، یا میں سواری سے اتر جاؤں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا نہ میں سوار ہوں گا اور نہ تم کو سواری سے اتر نے کی ضرورت ہے( يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ، إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ، فَقَالَ وَاللهَ لَسْتَ بِنَازِلٍ وَلَسْتُ بِرَاكِبٍ) البدایۃ و النہایۃ، جلد6، صفحہ 336۔ یہ خلیفہ اول کی طرف سے گو یا لوگوں کے سوال کا عملی جواب تھا۔ خلیفہ کو اسامہ کی رکاب میں چلتے دیکھ کر سب کا انقباض ختم ہو گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسامہ کی سر کر دگی میں صحابہ کا لشکر رومی علاقہ کی طرف روانہ ہوا تو اس کی خبر یں چاروں طرف پھیل گئیں۔ بہت سے مخالفین کے لیے یہ مسلمانوں کے اعتماد کا مظاہرہ بن گیا۔ انہوں نے سو چا کہ مدینہ والوں کے پاس کا فی طاقت ہو گی جبھی تو وہ اس نازک وقت میں اتنا بڑا لشکر دارالسلطنت سے دور بھیج رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے سو چا کہ مدینہ پر اقدام کرنے میں ہم کو تو قف کرنا چاہیے۔ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ مسلمانوں اور رومیوں کی جنگ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ اگر مسلمانوں کو اس جنگ میں شکست ہوتی ہے تو وہ اور زیادہ کمزور ہو جائیں گے اور اس کے بعد ان کے اوپر اقدام کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اسامہ بن زید کے لشکر کو رو میوں کے خلاف مہم میں زبر دست کامیابی ہوئی۔ اس مہم میں ان کو چالیس دن لگے۔ اسامہ بن زید اس مہم کی قیادت کے لیے موزوں ترین شخص تھے۔ کیونکہ ان کے باپ زید بن حارثہ کو رومیوں نے موتہ کی جنگ میں شہید کیا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصدپوری طرح کامیاب نہ ہوسکا تھا، یعنی مخالفین کا حوصلہ توڑنا۔
اسامہ کی رہنمائی میں اسلامی لشکر انتہائی بے جگری سے لڑا اور رومیوں کو شکست دی۔ اس کے بعد وہ کافی قیدی اور مال غنیمت لے کر مدینہ واپس آئے۔ یہ دیکھ کر باغیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ اور نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ ان کو زیر کر لیا گیا— رسول کی پیروی ان کے لیے دشمنوں پر غلبہ کا ذریعہ بن گئی۔
_10_
بیہقی اور ابن عسا کرنے حضرت عروہ ابن زبیر سے روایت کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ ذات السلاسل کے لیے ایک دستہ حضرت عمر و بن العاص کی سرداری میں بھیجا۔ یہ جگہ شام کے اطراف میں تھی۔ حضرت عمر و بن العاص جب وہاں پہنچے اور حالات معلوم کیے تو دشمن کی کثرت سے ان کو خوف پیدا ہوا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر مزید مدد طلب کی۔ آپ نے مہا جرین کو بلایا اور دو سو آدمیوں کا ایک دستہ تیارکیا۔ اس دستہ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر و غیرہ بھی شامل تھے۔ آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو اس دستہ کا امیرمقرر کیا اور حکم دیا کہ فوراً روانہ ہوں اور حضرت عمر و بن العاص سے جاکر مل جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کا دستہ جب منزل پر پہنچا اور دونوں دستے ساتھ ہو گئے تو یہ سوال پید اہوا کہ دونوں کا امیر کون ہو۔ حضرت عمر و بن العاص نے کہا میں تم سب کا امیر ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مدد کے لیے لکھا تھا تم لوگ اس کے مطابق میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہو۔ حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ جو مہا جرین آئے تھے انہوں نے اس کو نہیں مانا۔ انہوں نے حضرت عمر و بن العاص سے کہا تم اپنے ساتھیوں کے امیر ہو اور ابو عبیدہ ہمارے امیر ہیں (بَلْ أَنْتَ أَمِيرُ أَصْحَابِكَ وَأَبُو عُبَيْدَةَ أَمِيرُ الْمُهَاجِرِينَ)۔ حضرت عمر وبن العاص اس تقسیم پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ تمہاری حیثیت امدادی فوج کی ہے اور تم لوگ میرا ساتھ دینے کے لیے بھیجے گئے ہو (إِنَّمَا أَنْتُمْ مَدَدٌ أُمْدِدْتُ)حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے جب یہ حال دیکھا تو کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تَعَلَّمْ يَا عَمْرُو أَنَّ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ’’إِذَا قَدِمْتَ عَلَى صَاحِبِكَ فَتَطَاوَعَا‘‘ وَإِنَّكَ إِنْ عَصَيْتَنِي لَأُطِيعَنَّكَ (اے عمرو !تم پر واضح ہو کہ رسول اللہ نے مجھ کو رخصت کرتے ہوئے جو آخری عہد لیا وہ یہ تھا کہ جب تم اپنے ساتھی کے پاس پہنچو تو دونوں اتفاق کے ساتھ مل کر کام کرنا، باہم اختلاف نہ کرنا۔پس خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو گے تب بھی میں تمہاری اطاعت کروںگا)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابو عبیدہ نے امارت عمر و بن العاص کے حوالے کر دی اور ان کی ماتحتی میں کام کرنے پر راضی ہوگئے (فَسَلَّمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْإِمَارَةَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ)دلائل النبوة للبيهقي ، جلد 4، صفحه 399۔
other sourceWords of another person or source
اگر دونوں اپنا اپنا اصرار جاری رکھتے تو مسئلہ ختم نہ ہوتا اور جو طاقت دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجی گئی تھی وہ آپس میں لڑ کر فنا ہو جاتی۔ ایسے اختلافی مواقع پر ایک شخص کا جھکنا پوری جماعت کو طاقت ور بنا دیتا ہے اور ایک شخص کے نہ جھکنے سے پوری جماعت کمزور ہو جاتی ہے۔
_11_
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے آخری ابراہیم تھے۔ وہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے 9ھ میں پیدا ہوئے، اور تقریباً 18ماہ کی عمر میں ابراہیم کی وفات ہو گئی۔ جس دن ان کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن تھا۔ محمود پاشا فلکی (وفات 1302ھ)کی تحقیق کے مطابق یہ 29شوال 10ھ کی تاریخ تھی۔ قدیم زمانہ میں گرہن کے متعلق طرح طرح کے تو ہماتی خیالات پھیلے ہوئے تھے۔ انہیں میں سے ایک یہ تھا کہ جب کوئی بڑا آدمی مرتا ہے تو سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا ہے۔ ابراہیم کی وفات کے دن جب سورج گرہن پڑا تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے یہ سورج گرہن ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوا تو آپ نے بتایا کہ موت کےواقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ابو موسیٰ اشعری کی روایت کے مطابق آپ نے فرمایا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
هَذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِل ُاللهُ ، لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِه (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1059) يعني،یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے وہ نہ کسی کی موت کی وجہ سے ہوتی ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے بلکہ ان کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس جب تم اس قسم کی چیز دیکھو تو ڈر کے ساتھ اللہ کو یاد کرو اور اس کو پکارو اور اس سے مغفرت مانگو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سورج گرہن یا چاند گرہن محض اتفاقاً نہیں ہوتے بلکہ متعین فلکیاتی قانون کے تحت ہوتے ہیں۔ سورج اور چاند دونوں نہایت محکم قدرتی اصول کے مطابق حرکت کر رہے ہیں ۔ اس حرکت کے دوران کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زمین، سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے، اس طرح سورج کی روشنی چاند تک نہیں پہنچ پاتی اور چاند گرہن ہو جاتاہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چاند، زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے، اس کے نتیجہ میں سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچتی اور وہ صورت پیش آتی ہے جس کو سورج گرہن کہا جاتا ہے۔ گویا سورج گرہن کا مطلب سورج کا چاند کے اوٹ میں آجانا ہے اور چاند گرہن یہ ہے کہ زمین کے اوٹ میں آجانے کی وجہ سے سورج کی روشنی چاند تک نہ پہنچے۔ یہ جو کچھ ہوتا ہے معلوم فلکیاتی نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ مثلاً 16فروری 1980کو جو سورج گرہن پڑا وہ بہت پہلے سے فلکیات دانوں کو معلوم تھا اور نہایت صحت کے ساتھ اس کے اوقات متعین کیے جا چکے تھے اور انہیں متعین اوقات کے مطابق وہ شروع اور ختم ہوا۔ اس طرح کے گرہن برابر ہوتے رہتے ہیں۔ البتہ ان کے دکھائی دینے کے علاقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ کہیں مکمل گرہن دکھائی دیتا ہے اور کہیں جزئی گرہن۔ مکمل سورج گرہن کے وقت سورج کی روشنی تقریباً ایک ہزار گنا کم ہو جاتی ہے۔
سنت یہ ہے کہ سورج گرہن او رچاند گر ہن کے موقع پر نماز پڑھی جائے۔ یہ نماز اللہ کے آگے اپنے عجز اور بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔ سورج اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ نے ہمارے لیے روشنی اور حرارت کا مستقل انتظام کیاہے۔ سورج گرہن یہ بتانے کے لیے ہوتا ہے کہ جس خدانے اس کو روشن کیا ہے وہی اس کو ماند بھی کر سکتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جس نعمت کو جب چاہے واپس لے لے۔ اس لیے جب گرہن ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اللہ کو یاد کرے۔ اللہ کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تصورکر کے اللہ کے آگے گر پڑے۔ وہ پکار اٹھے کہ ’’خدا یا اگر تو سورج کو بجھادے تو کوئی اس کو جلانے والا نہیں۔ اگر تو ہم کو روشنی اور حرارت سے محروم کر دے تو کوئی ہم کو روشنی اور حرارت دینے والا نہیں‘‘۔
’’گرہن ‘‘ کا یہ معاملہ صرف چاند اور سورج کے ساتھ مخصوص نہیں۔ اس قسم کے واقعات اللہ کی دوسری نعمتوں کے ساتھ بھی مختلف صورتوں میںپیش آتے ہیں ۔ صحت کے ساتھ بیماری گو یا جسم کا گرہن ہے اور اچھے موسم کے ساتھ خراب موسم گو یا فضا کا گرہن۔ اس طرح ایک ملی ہوئی نعمت کو تھوڑی دیر کے لیے روک کر اس کے نعمت ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے تاکہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے اور وہ یہ سوچے کہ اگر اللہ اس کو مستقل طور پر چھین لے تو آدمی کا کیا حال ہوگا۔ اللہ کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اپنے رب سے ڈریں۔ انسان کو ڈرنے والا بنانے کے لیے جو اہتمام کیے گئے ہیں ان میں سے ایک قسم کا اہتمام وہ ہے جس کو ’’گرہن ‘‘ کہا جاتا ہے۔
زمین مسلسل حرکت میں ہے۔ اس کے علاوہ زمین کے گولے کا اندرونی حصہ نہایت گرم پگھلے ہوئے مادہ کی صورت میں ہے جو ہر وقت کھولتے ہوئے پانی کی طرح جوش میں رہتا ہے۔ اس کے با وجود ہمارے قدموں کے نیچے زمین کی سطح بالکل ٹھہری ہوئی حالت میں ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر عام حالات میں ہم کو اس کے نعمت ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ اس لیے کبھی کبھی بھو نچال کے ذریعہ زمین کی اوپری سطح کو ہلا دیا جاتا ہے تاکہ آدمی یہ جانے کہ خدانے اس کے لیے تباہ کن لاوا کو کس طرح بند کر رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو آزاد کر دے تو انسان کا کیا حال ہو۔ اسی طرح بارش ایک عجیب و غریب نعمت ہے۔ سورج کے اثر سے پانی کے بخارات کا اٹھ کر اوپر جانا، ان کا بدلیوں کی صورت میں جمع ہونا اور پھر ہوا کے ذریعہ جگہ جگہ بارانِ رحمت بن کر نازل ہو نا اور پھر زمین کو سر سبز و شاداب کرنا، یہ سب رحمت خدا وندی کےعجیب و غریب کرشمے ہیں جو وہ مستقل طور پر اپنے بندوں کےلیے کرتا رہتا ہے۔ مگر خود بخود ملتے رہنے کی وجہ سے آدمی اس نعمت کی قدر بھول جاتا ہے اس لیے کبھی کبھی زمین پر خشک سالی پید ا کی جاتی ہے تاکہ آدمی کا شعور جاگے او ر وہ خدا کی نعمت کی قدر کر سکے۔ ہوا کیسی عجیب و غریب نعمت ہے۔ ہواہر آن ہم کو تازہ آکسیجن پہنچا رہی ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے خدائی پنکھے کی طرح ہم کو فرحت بخشتے رہتے ہیں۔ ہوا بارش کے نظام کو درست کرتی ہے۔ ہو ا کے بے شمار فائدے ہیں ۔ مگر جس طرح وہ ہماری آنکھوں کو نظر نہیں آتی اسی طرح اس کی اہمیت بھی ہمارے شعور سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھی ہوا کو طوفان بنا دیا جاتا ہے تاکہ آدمی یہ جانے کہ ہوا کی صورت میں اللہ نے اس کی زندگی کے لیے کیسا حیران کن انتظام کر رکھا ہے۔ اسی طرح ہر چیز کا ایک ’’گرہن ‘‘ ہے اور وہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی کے اندر نعمت کے احساس کو جگا ئے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن میں ارشاد ہواہے’’اس چیز کو دیکھو جس کو تم بوتےہو تم اس سے کھیتی اگاتے ہو یا ہم ہیں اس کو کھیتی بنانے والے۔ اگرہم چاہیں تو اس کو بُھس بنا کر رکھ دیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم قرضدار ہوگئے۔ بلکہ ہم تو بالکل محروم ہوگئے۔ پانی کو دیکھو جس کو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادل سے اتارا ہے یا ہم ہیں اتارنے والے۔ اگرہم چاہیں تو اس کو کھاری کر دیں پھر کیوں تم شکر نہیں کرتے۔ آگ کو دیکھو جس کو تم جلاتے ہو۔ کیا تم نے اس کا درخت پید ا کیا ہے یا ہم ہیں اس کے پیدا کرنے والے۔ ہم نے ہی اس کو بنایا ہے یاد دلانے کے لیے اور تمہارے برتنے کے لیے۔ پس اللہ کے نام کی پاکی بیان کرو جو سب سے بڑا ہے ‘‘ (56:63-74)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ہماری پوری زندگی ایسی خدائی نعمتوں کے اوپر نر بھر ہےجو کسی بھی لمحہ واپس لی جا سکتی ہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق و مالک کا شکر گزار بنے تاکہ وہ اپنی نعمتوں سے کبھی اس کو محروم نہ کرے۔ یہ شکر گزاری ہی آدمی کو خدا کی نعمتوں کا مستحق بناتی ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور موت کے بعد آنےوالی آخرت میں بھی۔
_12_
احمد اور طبرانی نے حضرت عائشہ کی ایک روایت مختلف الفاظ میں نقل کی ہے۔ بعد کے زمانہ میں حضرت عائشہ نے ایک شخص کو وہ احوال بتائے جو ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خاندان پر گزر ے تھے۔ انہوں نے ایک رات کا ذکر کیا، جب انھوں نے اندھیرے میں ٹٹول کر کام کیا تھا۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں
hadithQuotes a hadith
يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، عَلَى مِصْبَاحٍ ذَاك؟ قَالَتْلَوْ كَانَ عِنْدَنَا دُهْنُ مِصْبَاحٍ لَأَكْلَنْاهُ(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 8872)۔یعنیراوی کہتے ہیں، میں نے حضرت عائشہ سے چراغ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لیے تیل ہو تا تو چراغ جلانا تو در کنا رہم اس کو بھوک کی وجہ سے پی جاتے۔
other sourceWords of another person or source
ہجرت کے بعد جس بستی کو مدینۃ الرسول اور مدینہ طیبہ کا لقب ملا، وہاں اس وقت ایک بھی پکا مکان نہ تھا۔ مسجد نبوی بس ایک بڑا سا چھپر تھی جس کو چاروں طرف سے مٹی اور کھجور کے پتوں سے گھیر دیا گیا تھا۔ مسجد میں رات کے وقت روشنی کاکوئی انتظام نہ تھا۔ مسجد نبوی میں ہجرت کے نویں سال چراغ جلایا گیا۔ پہلا شخص جس نے مدینہ کی مسجد نبوی میں رات کو چراغ جلایا وہ تمیم داری ہیں(معرفة الصحابة لابی نعيم الاصبهاني، جلد1، صفحہ 448)۔ تمیم داری نے 9ھ میں اسلام قبول کیا ، اس وقت مکہ فتح ہو چکا تھا اور تقریباً سارا عرب اسلام میں داخل ہو چکا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جب مسلمانوں کے پاس اپنے گھروں کو روشن کرنے کے لیے چراغ نہ تھے اور مسجد میں رات کے وقت اندھیرا رہتا تھا تو اسلام اور مسلمانوں کو دنیا میں عزت و غلبہ حاصل تھا۔ آج مسلمانوں کے گھر روشن ہیں۔ ان کی مسجدیں جدید طرز کے قمقموں سے جگمگارہی ہیں، مگر دنیا میں اسلام کا غلبہ نہیں، مسلمانوں کو کہیں عزت حاصل نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عزت و غلبہ کا مقام حاصل کرنے کے لیے اصل اہمیت انسان کی ہوتی ہے۔ آج مسلمانوں کے یہاں سب کچھ ہے مگر وہی چیز نہیں جس کو’’انسان‘‘کہا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا مردہ روحوں کا ایک عظیم قبر ستان معلوم ہوتی ہے جہاں روشنیوں کی رونقیں اور در و دیوار کی عظمتیں تو بہت ہیں مگر وہ انسان نہیں جو خدا کے لیے تڑپے، جو سچائی کے آگے جھک جائے، جو آخرت کی خاطر اپنی دنیا کو قربان کر سکے،جو اپنی خواہشوں کو بر تر اصولوں کے تابع کر دے۔ اسلام کو سر بلند کرنے کے لیے وہ انسان درکا رہیں جن کو عظمت خدا وندی کے احساس نے متواضع بنادیاہو، جن کا خوفِ آخرت ان سے ان کی اکڑ چھین لے۔ اور یہی وہ انسان ہیں جو اسلام کے بھرے ہوئے شاندار پنڈال میں آج کہیں موجود نہیں ۔
_13_
قدیم عرب کے شمال اور جنوب کے زر خیز حصے اس زمانہ کی دو بڑی شہنشا ہیتوں ساسانی سلطنت اور باز نطینی سلطنت کے قبضہ میں تھے۔ شمال میں امارتِ غسا سنہ اور امارت بُصری تھی۔ یہ دونوں بازنطینی سلطنت رومیوں کے ماتحت تھیں اور یہاں ان کی طرف سے عرب سردار حکومت کرتے تھے۔ رومی اثرات کے تحت یہاں کی اکثر آبادی مسیحی مذہب اختیار کر چکی تھی، عرب کے جنوب میں امارت بحرین، امارت عمان، امارت یمامہ تھی۔ یہ ریا ستیں ساسانی سلطنت (ایرانیوں) کے ماتحت تھیں اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں میں مجوسیت پھیلی ہوئی تھی۔
6ھ میں جب حدیبیہ کے مقام پر قریش سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ ہوا اور حالات پر امن ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے اطراف میں واقع سلطنتوں کو دعوتی مراسلے بھیجنے شروع کیے۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ حارث بن ابی شمر غسانی کے نام تھا۔ رسول اللہ کے سفیر شجاع بن وهب آپ کا مراسلہ لے کر اس کے پاس گئے۔ اس مراسلہ میں یہ بھی تھا کہ اللہ پر ایمان لاؤ تمہاری حکومت باقی رہے گی ( يَبْقَى لَك مُلْكُك) ۔ اس نے مکتوب نبوی میںیہ جملہ پڑھا تو اس کو غصّہ آگیا۔ اس نے خط کو زمین پر پھینک دیا اور کہا میری حکومت مجھ سے کون چھین سکتا ہے ( مَنْ يَنْزِعُ مِنِّي مُلْكِي) تاریخ الطبری، جلد2، صفحہ652۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حاکم بُصری شر جیل بن عمر و غسانی نے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سلوک کیا۔ اس رومی گورنر کے پاس نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سفیر حارث بن عمیر ازدی آپ کا خط لےکر گئے تھے، وہ سر حد شام پر قصبہ موتہ میں داخل ہوئے تھےکہ حاکم بصری کے اشارہ پر ایک اعرابی نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا(الطبقات الكبرى لابن سعد، جلد4، صفحہ255)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بین اقوامی روایات کے مطابق یہ واقعہ ایک ملک پر دوسرے ملک کی جا رحیت کے ہم معنی تھا۔ مختلف قرائن یہ بھی ظاہر کر رہے تھے کہ شام کی فوجیں پیش قدمی کر کے مدینہ میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔ رومی شہنشا ہیت اس کو بر داشت نہیں کر سکتی تھی کہ عرب میں کوئی آزاد حکومت قائم ہو اور ترقی کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حارث بن عمیر کے قتل کی خبر مدینہ پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فوجی جواب دینا ضروری سمجھا۔ آپ نے حکم دیا کہ مسلمان اپنے اپنے ہتھیارلے کر موضع حرق میں جمع ہو جائیں۔ چنانچہ تین ہزار کی تعداد میں اسلامی لشکر اکٹھا ہو گیا۔ آپ نے اس لشکر پر زید بن حارثہ کو سردار مقرر کیا اور ضروری نصیحتیں کرنے کے بعد ان کو شام کی طرف روانہ کیا۔
اسلامی لشکرنے معان (شام )پہنچ کر قیام کیا۔ دوسری طرف حاکم بصری بھی جنگ کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کی حوصلہ افزائی اس واقعہ سے بھی ہوئی کہ اتفاق سے ہر قل انھیںدنوں مآب (بلقاء) میں آیا ہواتھا۔ اس کے ساتھ ایک لاکھ مسلح فوج تھی۔ نیز اس علاقے کے عیسائی قبائل لخم، جذام، قین، بھراء، بلّی بھی مسیحی حمیت کے جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور بنی بلی کے سردار مالک بن زافلہ کی قیادت میں لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس طرح شامی محاذ پر ایک لاکھ سے بھی زیادہ کا لشکر جمع ہو گیا جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔
یہ جنگ جو جمادی الاولیٰ 8ھ میں ہوئی، اس میں زید بن حارثہ دشمنوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اس کے بعد جعفر بن ابی طالب اور عبد اللہ بن رواحہ بھی قیادت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ مسلمانوں کا جھنڈا گر جانے سے انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس وقت لشکر اسلام کے ایک سپاہی ثابت بن اقرم نے بڑھ کر جھنڈا اٹھا لیا اور بلند آواز سے کہا ’’مسلمانو! کسی ایک شخص کو امیر بنانے پر اتفاق کرلو ‘‘ (يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اصْطَلِحُوا عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمان فوجیوں کی طرف سے آواز آئی رضينا بك(ہم تمہاری سرداری پر راضی ہیں) ثابت ابن اقرم نے جواب دیامَا أَنَا بِفَاعِلٍ، فَاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ (میں یہ کام نہ کر سکوں گا، تو مسلمانوں نے خالد بن ولید کو اپنا سردار بنایا)۔ خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور رومی لشکر پر حملہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیا (دیکھیے،تاریخ الطبری، جلد3، صفحہ36-42، الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد2، صفحہ234-238)۔
other sourceWords of another person or source
تاہم یہ جنگ فیصلہ کن طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ رومیوں کی مدد سے غساسنہ مدینہ پر چڑھ آئیں اور اس نو مولود ریاست کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ذی الحجہ 5ھ میں بنو قريظه کے خاتمہ کے بعد جب مدینہ میں بعض معاشی مسائل پیدا ہوئے اور ازواج رسول نے اضافہ نفقہ کا مطالبہ کیا تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آپ نے ایک مہینہ تک گھر کے اندر نہ آنے کی قسم کھالی۔ اس سلسلے میں تاریخ میں آتا ہےکہ جب ایک صحابی عمر فاروق سے ملے اور ان سے کہا ’’کچھ سنا آپ نے ‘‘تو عمر فاروق کی زبان سے فوراً نکلا ’’کیا غسا سنہ آگئے ‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں غسانیوں کی طرف سے مدینے کے لیے کتنا خطرہ لاحق تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ اپنی عمر کے آخری ایام میں جن امور کے لیے آپ نے شدت سے اہتمام کیا، ان میں غساسنہ یا با لفاظ دیگر رومیوں سے مقابلہ کے لیے فوج کی تیاری بھی تھی۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک فوج ترتیب دی۔ اس فوج میں اگرچہ ابو بکر و عمر جیسے بڑے بڑے اصحاب تھے مگر آپ نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اس لشکر کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر کیا۔ اسامہ ایک بہادر نوجوان تھے۔ وہ اس کام کو پورا کرسکتے تھے، جو ان کے والد کے وقت میں موتہ کی جنگ میں ادھورا رہ گیا تھا۔ موتہ کی جنگ میں مسلمانوں نےاسامہ کے والد زید بن حارثہ کی قیادت میں رومیوں کے خلاف مقابلہ کیا تھا، اورزید اس جنگ میں قتل ہوئے تھے۔ جب اہل اسلام کو انداز ہ ہوا کہ جنگ کا جاری رکھنا ان کے حق میں نہیں ہے تو حضرت خالد درمیان ہی میں واپس ہوکر مدینہ آگئے، وغیرہ۔
تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میںیہ اسامہ کالشکر روانہ نہ ہوسکا۔ کیونکہ عین وقت پر آپ کے اوپر مرض الموت کا غلبہ ہوگیا۔ آپ کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے خلیفۂ اول کی حیثیت سے اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ روانگی بھی اسلامی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آنے لگیں۔ لوگوں نے خلیفۂ اول کومشورہ دیا کہ اب جب کہ مرکز اسلام خطرہ میں پڑ گیا ہے اور مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں، اس لشکر کی روانگی کو ملتوی کر دیا جائے، مگر صدیق اکبر کا یہ جواب لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے کافی تھا ’’اگر مجھ کو یقین ہو کہ لشکر کی روانگی کے بعد مجھ کو مدینہ میں کوئی در ندہ تنہا پاکر پھاڑ ڈالے گا، تب بھی میںاُس لشکر کی روانگی کو ملتوی نہیں کر سکتا جس کو خود رسول اللہ نے ترتیب دیاہو ‘‘ وَاللهِ لَا أَحُلُّ عُقْدَةً عَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ أَنَّ الطَّيْرَ تَخَطَفُنَا، وَالسِّبَاعَ مِنْ حَوْلِ الْمَدِينَةِ وَلَوْ أَنَّ الْكِلَابَ جَرَّتْ بِأَرْجُلِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ لَأُجَهِّزَنَّ جَيْشَ أُسَامَةَ (البدایۃ و النہایۃ، جلد6، صفحہ 304)۔صدیق اکبر کی یہ ایمانی جرأت کام آئی۔ اسامہ کا لشکر نہ صرف رومیوں کے مقابلہ میں کامیاب ہو ا بلکہ رومی شہنشا ہیت کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فتح نے مرتدین کی بھی حوصلہ شکنی کی اور نسبتاً آسانی کے ساتھ وہ مغلوب کر لیے گئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس واقعہ میں ایک اور بہت بڑی حکمت شامل تھی، عرب قبائل ہمیشہ سے آپس میں لڑتے چلے آر ہے تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کے اظہار کا دوسرا میدان نہ پا کروہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں گے۔ نبی نے اپنی وفات کے وقت عرب طاقت کو رومی شہنشا ہیت سے متصادم کر کے اس کا جواب فراہم کر دیا۔ اب عربوں کی جنگجو فطرت کے لیے ایک بہترین میدان مل چکا تھا۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ جو اپنے ہم وطنوں کی قتل و غا رتگری کے سوا کچھ نہ جانتے تھے انہوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا کو فتح کر ڈالا۔
برٹش رائٹر جان بیگٹ گلب(Sir John Bagot Glubb, 1897-1986)نے اپنی کتاب دی لائف اینڈ ٹائمز آف محمد میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے ’’عرب نامعلوم زمانے سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ و جدل میں زندگی بسر کرنے کے عادی تھے۔ یہ جنگ و جدل کسی خاص سبب کا نتیجہ نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ ان کی طرز زندگی میں داخل تھی۔ اب جب کہ وہ بحیثیت مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے سے روک دیے گئے تھے، یہ کیسے ممکن تھا کہ فوجی ذہنیت کے قبائلی آدمیوں کو ہمیشہ کے لیے پر امن زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے ؟ پیغمبر اسلام نے خود اس مہم کو روانہ کر کے جس نے موتہ میںشکست کھائی تھی اس سوال کا حل پیش کر دیا تھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
634 ء کے سرما میں تین عرب کا لموں نے فلسطین اور شام پر حملہ کر دیا اسی اثنا ء میں مشرقی عرب کے قبیلوں نے جو حیرہ کی لخمی ریاست کی ضبطی کے بعد سے ایران کے دشمن بنے ہوئے تھے، فرات کی طرف پیش قدمی کر کے حیرہ پر قبضہ کر لیا۔ 26اگست 636ء کو باز نطینی (رومی) قوت نے یر موک کے میدان میں مکمل شکست کھائی اور شام کا تمام علاقہ طبر یہ تک عربوں کے قبضہ میں آگیا۔ فروری 637ء میں ایرانی فوج قا دسیہ کے مقام پر جو حیرہ سے چند میل کے فاصلہ پر تھا مکمل طور پر تباہ کردی گئی اور قدیم عراق بشمول ایرانی دارا لسلطنت مدائن جو دجلہ کے جنوب میں موجودہ بغداد کے قریب واقع تھا، عربوں کے زیر تسلّط آگیا۔ 640ء میں مصر پر حملہ ہوا اور ایک بار پھر باز نطینی حکومت شکست یاب ہوئی اور ستمبر 642ء تک پورے مصر پر عرب قبضہ مکمل ہو گیا۔ اسی سال بچی کھچی ایرانی فوج نہا وند کے مقام پر تباہ کر دی گئی اور ایرانی سلطنت کا پورے طور پر خاتمہ ہو گیا۔ ‘‘
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد پہلے خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انتہائی نازک حالات کے باوجود حضرت اسامہ کے لشکر کو رومیوں کی طرف بھیجا۔ یہ مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک عظیم سبق تھا مسلمانوں کے لیے طاقت آزمائی کا میدان خارجی دنیا ہے، نہ کہ داخلی دنیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ اہم ترین سبق بعد کے زمانہ میں مسلمان بھول گئے۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ میں تو یہ حال ہے کہ مسلم ممالک دوگروہوں (ترقی پسند اور قدامت پسند ) میں بٹ کر ایک دوسرے کے حریف بنے ہوئے ہیں۔ ان کی مسلح فوجیں اپنے ہی ملکوں کو ’’فتح‘‘ کرنے میں مشغول ہیں، مسلم جماعتیں خود اپنے ملکوں کی حکومتوں سے نبرد آزما ہیں۔ باہر کے حریفوں سے مقابلہ کے لیے ہر ایک عاجز ہے اور اپنے بھائیوں سے لڑنے کے لیے ہر ایک بہادر بنا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر اسلام کی توسیع و اشاعت کا کام رک جائے تو اس پر تعجب نہ کرنا چاہیے۔
_14_
مشہو ر روایات کے مطابق، کعبہ کی تعمیر چار بار ہوئی ہے۔ پہلی بار جب کہ حضرت ابراہیم نے اپنے صاحب زادہ اسمٰعیل کی مدد سے اسے بنایا۔ دوسری بار اسلام سے پہلے قریش نے بنایا جب کہ بارش کی کثرت سے وہ گر گیا تھا۔ اس تعمیر ثانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قبل ازنبوت شریک تھے۔ قریش نے اس کےطول میں چھ ہاتھ کے بقدر کمی کر دی جہاں اب حطیم واقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے بارے میں حضرت عائشہ سے فرمایا لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ... وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333)۔ یعنی، تمہاری قوم اگر جلدہی جاہلیت سے نہ نکلی ہوتی تو میں کعبہ کو دوبارہ ابراہیم کے نقشہ کے مطابق تعمیر کر دیتا اور اس کے دو دروازے بنا دیتا۔ ایک پورب میں ، دوسرا پچھم میں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تیسری تعمیر 36 ھ میں یز ید بن معاویہ کے زمانہ میں ہوئی۔ یزید بن معا ویہ کی شامی فوج نے حصین بن نمیر کی قیادت میں عبد اللہ بن الز بیر کا مکہ میں محاصرہ کیا اور کعبہ پر منجنیق سے پتھر پھینکے جس کی وجہ سے کعبہ میں آگ لگ گئی اور وہ گر گیا۔ اس کے بعد عبد اللہ بن زبیر نے اس کی تعمیر کرائی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مند رجہ بالا حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو دوبارہ ابراہیم کے نقشہ پر تعمیر کرایا اور اس میں دو دروازے کھول دیے کہ آدمی ایک دروازے سے داخل ہو اور دوسرے دروازے سے باہر آئے۔ عبد اللہ بن زبیر کے قتل کے بعد حجاج نے خلیفہ عبد الملک بن مر وان کو صورت حال سے باخبر کیا۔ عبد الملک بن مروان نے حکم دیا کہ ہم عبد اللہ بن زبیر کےعمل کے پابند نہیں ہیں۔ تم کعبہ کو دوبارہ سابقہ بنیاد پر تعمیر کر اؤ اور وہ دوسرا دروازہ بند کرادو جو عبد اللہ بن زبیر نے کھولا ہے۔ یہ کعبہ کی چوتھی تعمیر تھی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ آیا تو اس نے ارادہ کیا کہ کعبہ کو پھر سےا س طرح تعمیر کرائے جس طرح عبد اللہ بن زبیر نے تعمیر کرایاتھا۔ اس وقت امام مالک بن انس نے خلیفہ سے کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
أَنْشُدُك اللهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْ تَجْعَلَ هَذَا الْبَيْتَ مَلْعَبَةً لِلْمُلُوكِ بَعْدَك، لَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يُغَيّرَهُ إلّا غَيّرَهُ فَتَذْهَبُ هَيْبَتُهُ مِنْ قُلُوبِ النّاسِ فَصَرَفَهُ عَنْ رَأْيِهِ (الروض الأنف للسہیلی، جلد2، صفحہ173)۔ یعنی اے امیر المومنین، میں آپ کو خدا کی قسم دلاتا ہوں کہ اس گھر کو اپنے بعد بادشاہوں کا کھیل نہ بنا دیجیے کہ جو بھی چاہے اس میں تغیر و تبدل کرتا رہے۔ پس اس کی ہیبت لوگوں کے دلوں سے جاتی رہے۔ اس طرح امام مالک نے خلیفہ ہارون رشید کو اس کی رائے پر عمل کرنے سے روک دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
روایات کو توڑے بغیر خاموشی کےساتھ انقلاب لانا پیغمبر انہ طریق کا ر کا ایک اہم اصول ہے۔ سماجی زندگی میں روایات کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ بیشتر لوگ روایات کے سہارے چلتے ہیں۔ روایات اگر اچانک توڑدی جائیں تو عام لوگوں کے لیے اخلاقیات کاکوئی سہارا باقی نہیں رہتا۔
کسی سماج میں روایات ہمیشہ صدیوں کی تاریخ سے بنتی ہیں۔ کسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ ایک چھوٹی سی روایت بنانے کے لیے بہت لمبی تاریخ درکار ہوتی ہے
It requires a lot of history to make a little tradition
یہی وجہ ہے کہ پیغمبر تدریجی حکمت کے تحت اصلاح لے آتا ہے نہ کہ پر شور تبد یلیوں کے طریقے سے۔