دنیا کا سیلاب اس لیے آتا ہے کہ وہ ہم کو قیامت کے زیادہ بڑے سیلاب کا نقشہ دکھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت اسی طرح کا ایک بہت بڑا سیلاب ہے، جیسا سیلاب ہر سال ہماری زمین پر آتا ہے اور بستیوں اور آبادیوں کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ یہ آنے والا سیلاب جب آئے گا تو ہمارے تمام حفاظتی بند ٹوٹ جائیں گے۔ وہ ہم کو اس طرح گھیر لے گا کہ پہاڑ کی چوٹیاں بھی اس کے مقابلے میں ہم کو پناہ دینے سے عاجز رہیں گی۔
دنیا کے سیلاب میں وہی شخص بچتا ہے جس نے اس کے آنے سے پہلے اپنے لیے کشتیاں بنا لی ہوں۔ اسی طرح آخرت کے سیلاب میں صرف وہ شخص بچے گا جس نے اپنے آپ کو خدا کے حوالے کر دیا ہو، جو خدا کی کشتی میں سوار ہو گیا ہو۔ آج دنیا کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ قیامت کے آنے والے اس سیلاب سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ خدا نے اپنے پیغمبر اسی لیے بھیجے تاکہ وہ دنیا والوں کو اس آنے والے سیلاب سے خبردار کریں، تاکہ موت کے بعد جب خدا لوگوں کو پکڑے تو کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ ہم کو ایک ایسے معاملے کے لیے پکڑا جا رہا ہے جس کے بارے میں ہمیں اس سے پہلے کچھ بتایا نہیں گیا تھا۔
اب کوئی نبی آنے والا نہیں، مگر یہ کام بدستور اپنی جگہ باقی ہے۔ ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ اسی خاص کام پر مامور ہے۔ اس کی لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قوموں کو اس سے باخبر کرے، قبل اس کے کہ خدا کا وہ سیلاب پھٹ پڑے اور پھر نہ کسی کے لیے خبردار کرنے کا موقع ہو اور نہ کسی کے لیے خبردار ہونے کا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.