وہ وقت کیسا عجیب ہوگا جب خدا کی عدالت قائم ہوگی، کسی کے لیے ڈھٹائی اور انکار کا موقع نہ ہوگا۔ وہ شخص جس کو دنیا میں لوگوں نے بے قیمت سمجھ کر نظرانداز کر دیا تھا، وہی خدا کی نظر میں سب سے زیادہ قیمت والا قرار پائے گا۔ جس کو لوگوں نے اپنے درمیان سب سے کمزور سمجھ لیا تھا، وہی اُس وقت خدا کے حکم سے وہ شخص ہوگا جس کی گواہی پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کا فیصلہ کیا جائے۔
اُس وقت اُن لوگوں کا کیا حال ہوگا جو دنیا میں بہت بولنے والے تھے، مگر وہاں اپنے آپ کو گونگا پائیں گے؟ جو دنیا میں عزت اور طاقت والے سمجھے جاتے تھے، مگر وہاں اپنے آپ کو بالکل بے زور دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ جب اُن کا ظاہری پردہ اتارا جائے گا، اور پھر دیکھنے والے دیکھیں گے کہ دین کا لبادہ پہننے والے دین سے کس قدر خالی تھے۔ جب کتنی سفیدیاں کالی نظر آئیں گی، اور کتنی رونقیں بے رونق ہو چکی ہوں گی۔
موجودہ دنیا میں لوگ مصنوعی غلافوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ کسی کے لیے خوبصورت الفاظ اُس کی اندرونی حالت کا پردہ بنے ہوئے ہیں، اور کسی کو اُس کی مادی رونقیں اپنے جلوے میں چھپائے ہوئے ہیں۔ مگر آخرت میں لوگوں کے الفاظ بھی اُن سے چھن جائیں گے، اور اُن کی مادی رونقیں بھی۔ اُس وقت ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں سامنے آ جائے گا۔
کیسا سخت ہوگا وہ دن! اگر آج لوگوں کو اس کا اندازہ ہو جائے تو اُن کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جائے۔ کسی چیز میں اُن کے لیے لذت باقی نہ رہے۔ دنیا کی عزت بھی اُن کو اتنی ہی بے معنی معلوم ہو جتنی دنیا کی بے عزتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.