مسلمان خدا کی طرف سے اس ذمہ داری پر مقرر کیے گئے ہیں کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کو بتا دیں کہ قیامت کا ایک دن آنے والا ہے، جبکہ ان کا رب ان سے ان کا حساب لے گا، اور پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق انعام یا سزا دے گا۔ اس تقرر نے ان کے حال اور مستقبل کو تمام تر اس کام کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ ان کی قیمت صرف اس وقت ہے جبکہ وہ خدائی پیغام رسانی کی اس خدمت کو انجام دیں۔ اگر وہ اس کے لیے نہ اٹھیں تو خدا کے نزدیک وہ اپنی قیمت کھو دیں گے۔
اس کام کو چھوڑنے کے بعد کوئی بھی دوسری چیز ان سے قبول نہ کی جائے گی، خواہ بظاہر وہ دین و ملت ہی کا کوئی کام کیوں نہ ہو۔ اس ذمہ داری سے غافل ہونے کے بعد خدا ان کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دے گا۔ ان کے اوپر دوسری قومیں غلبہ حاصل کریں گی، حتیٰ کہ دوسری بنیادوں پر اٹھائی ہوئی ان کی اسلامی سرگرمیوں پر بھی رولر چلا دیا جائے گا۔ خود ساختہ خیالات کے تحت اگرچہ وہ خوش فہمیوں میں مبتلا رہیں گے، مگر حالات کی بے رحم زبان چیخ کر کہہ رہی ہوگی کہ ان کا خدا ان کو چھوڑ چکا ہے۔
دنیا کی قوموں کے سامنے آخرت کا اعلان کرنے کے لیے اگر مسلمان نہیں اٹھتے تو ان کی کوئی قیمت خدا کے نزدیک نہیں ہے، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہود کی تاریخ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے: آدمی کی قیمت اس ذمہ داری کے اعتبار سے ہوتی ہے جس کی ادائیگی پر اس کو مامور کیا گیا ہے۔ پھر مسلمان جب اپنی ذمہ داری ہی کو ادا نہ کریں تو اس کے بعد ان کی قیمت ان کے مالک کے نزدیک کیا ہوگی؟
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.