Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Naar-e-Jahannam
Naar-e-Jahannam

عدالت میں پیشی

Urdu · 2 min

موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ہماری اصل زندگی کا آغاز ہے۔ موت دراصل کسی انسان کا وہ وقت ہے جب وہ مالکِ کائنات کی عدالت میں آخری فیصلے کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔ موت سے پہلے آدمی کو بہت سے کام نظر آتے ہیں، مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے صرف ایک ہی کام ہوگا: یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچے۔ جب آدمی کے پاس بہت زیادہ وقت ہو تو وہ بہت سے کام چھیڑ دیتا ہے، مگر جس شخص کو وقت کے صرف چند لمحے حاصل ہوں، وہ صرف وہی کام کرتا ہے جو انتہائی ضروری ہے۔

فیصلہ کن لمحات میں کوئی شخص غیر متعلق یا غیر اہم کام میں مصروف ہونے کی حماقت نہیں کرتا۔ موت کے معاملے کی نزاکت اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں؛ وہ کسی بھی وقت، کسی بھی شخص کے لیے آ سکتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک بتانے والے کے پاس سب سے پہلی اور سب سے بڑی بات جو لوگوں کو بتانے کے لیے ہونی چاہیے، وہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو موت کے خطرے سے آگاہ کرے۔ وہ کل سے پہلے لوگوں کو کل کے بارے میں خبردار کر دے۔

اسلام کی دعوت کیا ہے؟ آخرت کی چتاونی۔ یہ قبر کے اس پار کے معاملات سے قبر کے اس پار والوں کو باخبر کرنا ہے۔ اسلام کا داعی موت اور زندگی کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔

اس کو موت سے پہلے مر جانا پڑتا ہے تاکہ وہ دوسری طرف کی دنیا کو دیکھے اور مردوں کے احوال سے زندوں کو باخبر کر سکے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.