ہر شخص کے اوپر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو موت کے دروازے پر کھڑا ہوا پائے گا۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہوگی جس کو وہ چھوڑ چکا، جس میں اب وہ واپس نہیں جا سکتا۔ اور سامنے وہ عالم ہوگا جس میں اب اسے داخل ہونا ہے، جس میں داخلے سے وہ اپنے آپ کو روک نہیں سکتا۔ فیصلے کا یہ دن ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آ رہا ہے۔
اس دن ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو جائے گا، خواہ اس نے اپنے اوپر کتنے ہی زیادہ پردے ڈال رکھے ہوں، خواہ اس نے اپنے آپ کو کیسے ہی خوبصورت الفاظ میں چھپا رکھا ہو۔ موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے کہ ایک خود پرست آدمی اپنے آپ کو خدا پرست کے روپ میں ظاہر کرے۔ ایک شخص کو اپنے جاہ و مرتبے سے دلچسپی ہو، مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو اس انداز میں پیش کرے گویا وہ حق کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ ایک شخص کا یہ حال ہو کہ ذاتی مصلحتیں اور ذاتی مفادات اس کی سرگرمیوں کا مرکز و محور ہوں، مگر اپنی تقریر و تحریر سے وہ لوگوں پر ایسا جادو کرے کہ لوگ اس کو حق کا سب سے بڑا نمائندہ سمجھنے لگیں۔
مگر موت انسانی زندگی کا وہ واقعہ ہے جو اس قسم کی تمام چیزوں کو باطل کر دینے والا ہے۔ موت کے بعد آدمی جس دنیا میں پہنچتا ہے، وہاں اچانک اس قسم کے تمام لبادے اس کے اوپر سے اتر جاتے ہیں۔ وہ اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں سامنے آ جاتا ہے، اپنے لیے بھی اور دوسرے انسانوں کے لیے بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.