امتحان کی اس دنیا میں ہر ایک کے لیے آزادی ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے پڑوسی کو ستائے، اس کے باوجود اس کو دینداری کے اسٹیج پر بیٹھنے کے لیے نمایاں جگہ ملی ہوئی ہو۔ ایک شخص اپنی لیڈری کے لیے سرگرم ہو، پھر بھی وہ مجاہد حق کے نام سے شہرت پائے۔ ایک شخص اپنے اہلِ معاملے سے بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے، اس کے باوجود امن و انصاف کے نام پر ہونے والے اجلاس میں اس کو صدارت کے لیے بلایا جائے۔
ایک شخص کی تنہائیاں اللہ کی یاد سے خالی ہوں، مگر عوامی مقامات پر وہ اللہ کا جھنڈا اٹھانے والا سمجھا جاتا ہو۔ ایک شخص کے اندر مظلوم کی حمایت کا کوئی جذبہ نہ ہو، پھر بھی اخبارات کی سرخیوں میں اس کو مظلوموں کے حامی کی حیثیت سے نمایاں کیا جا رہا ہو۔ ایک شخص صرف قول کا کارنامہ دکھا رہا ہو، پھر بھی کریڈٹ دینے والے اس کو عمل کا کریڈٹ دے رہے ہوں۔ ہر آدمی کی اصل حقیقت خدا کے علم میں ہے، مگر دنیا میں وہ لوگوں کی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔
آخرت میں وہ ہر ایک کی حقیقت کھول دے گا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا کی ترازو کھڑی ہو، اور ہر آدمی کو تول کر دیکھا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ اس وقت کا آنا مقدر ہے۔ کوئی شخص نہ اس کو ٹال سکتا اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچا سکتا۔
کامیاب صرف وہ ہے جو آج ہی اپنے کو خدا کی ترازو میں کھڑا کر لے۔ کیونکہ جو شخص کل خدا کی ترازو میں کھڑا کیا جائے، اس کے لیے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.