जैसा बोना वैसा काटना। काटने के दिन वही आदमी खेती काटता है जिसने काटने का दिन आने से पहले खेती की हो, और वही चीज़ काटता है जो उसने अपने खेत में बोई थी। यही मुआमला आख़िरत का भी है। آخرت میں ہر شخص کو وہی فصل ملے گی جو اس نے موت سے پہلے دنیا میں بوئی تھی۔ جو شخص حسد و عداوت اور ظلم و خود پرستی کے طریقوں پر چلتا رہا، وہ گویا اپنی زمین میں کانٹے دار درخت کا بیج بو رہا ہے۔ ایسا شخص آخرت میں کانٹے دار پھل پائے گا۔ اس کے برعکس جو شخص انصاف اور خیرخواہی اور اعترافِ حق کا طریقہ اختیار کرے، وہ گویا پھل دار درخت کا بیج بو رہا ہے۔
ایسا شخص آخرت میں خوشبودار پھلوں کا وارث بنے گا۔ آدمی دنیا میں سرکشی دکھاتا ہے، پھر بھی یہ خیال کرتا ہے کہ آخرت میں وہ خدا کے فرمانبردار بندوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ وہ دنیا میں تخریبی سرگرمیوں میں مشغول رہتا ہے، پھر بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ آخرت کے تعمیری نتائج میں اپنا حصہ پائے گا۔ وہ دنیا میں الفاظ کے اوپر اپنی زندگی کھڑی کرتا ہے، پھر بھی یہ یقین رکھتا ہے کہ آخرت میں حقائق کی صورت میں اس کا انجام اس کی طرف لوٹے گا۔
اس کے پاس خدا کا پیغام آتا ہے، مگر وہ اس کو نہیں مانتا، پھر بھی وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے مقبول بندوں میں شامل کیا جائے گا۔ خدا انسان کو جنت کی طرف بلا رہا ہے، جو ابدی آرام اور خوشیوں کی جگہ ہے، مگر وہ چند دن کی جھوٹی لذتوں میں کھویا ہوا ہے۔ وہ خدا کی پکار کی طرف نہیں دوڑتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں حاصل کر رہا ہوں، حالانکہ وہ صرف کھو رہا ہے۔
دنیا میں مکان بنا کر وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی زندگی کی تعمیر کر رہا ہوں، حالانکہ وہ صرف ریت کی دیواریں کھڑی کر رہا ہے جو صرف اس لیے بنتی ہیں کہ بننے کے بعد ہمیشہ کے لیے گر پڑیں۔ کتاب "نعرہ جہنم" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.