بھونچال خدا کی ایک نشانی ہے۔ بھونچال جب آتا ہے تو وہ تمام دنیاوی بھروسوں کو باطل ثابت کر دیتا ہے۔ بھونچال کے لیے پکے محل اور کچی جھونپڑیوں میں کوئی فرق نہیں؛ طاقتور اور کمزور دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں۔
وہ بے سہارا لوگوں کو بھی اسی طرح تحس نہس کر دیتا ہے جس طرح ان لوگوں کو جو مضبوط سہارا پکڑے ہوئے ہیں۔ بھونچال پیشگی طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں بالآخر ہر ایک کے لیے کیا ہونے والا ہے۔ بھونچال ایک قسم کی چھوٹی قیامت ہے جو بڑی قیامت کا پتہ دیتی ہے۔ جب ہولناک گڑگڑاہٹ لوگوں کے اوسان خطا کر دیتی ہے، جب مکانات تاش کے پتوں کی طرح گرنے لگتے ہیں، جب زمین کا نچلا حصہ اوپر آ جاتا ہے اور جو اوپر تھا وہ نیچے دفن ہو جاتا ہے، اس وقت انسان جان لیتا ہے کہ وہ قدرت کی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔
اس کے لیے صرف یہ مقدر ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے اپنی بربادی کا تماشا دیکھے اور اس کو روکنے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ قیامت کا بھونچال موجودہ بھونچال سے بے حساب گنا زیادہ ہوگا۔ اس وقت سارے سہارے ٹوٹ جائیں گے، ہر آدمی اپنی ہوشیاری بھول جائے گا، عظمت کے تمام منارے اس طرح گر چکے ہوں گے کہ ان کا کہیں وجود نہ ہوگا۔ اس دن وہی سہارے والا ہوگا جس نے موجودہ چیزوں کو بے سہارا سمجھا تھا۔
اس دن وہی کامیاب ہوگا جس نے اس وقت خدا کو اپنایا تھا جب سارے لوگ خدا کو بھول کر دوسری دوسری چھتریوں کے نیچے پناہ لیے ہوئے تھے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.