دنیا میں کوئی کامیاب نظر آتا ہے اور کوئی ناکام؛ اس بنا پر لوگ اسی دنیا کو ہار جیت کی جگہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا ذہن یہ ہو جاتا ہے کہ اسی دنیا کی جنت جنت ہے اور اسی دنیا کی دوزخ دوزخ، مگر یہ محض دھوکا ہے۔ ہار جیت تو دراصل وہ ہے جو اگلی زندگی میں سامنے آنے والی ہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں اپنے کو کامیاب سمجھتے ہیں، جب پردہ ہٹے گا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اصل حقیقت تو کچھ اور تھی۔
اس وقت معلوم ہوگا کہ کون گھاٹے میں رہا اور کون نفع کما لے گیا، کس نے دھوکا کھایا اور کون ہوشیار نکلا۔ کون مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا اور کون آگے بڑھنے والا ثابت ہوا۔ کس نے اپنی صلاحیتوں کو نتیجہ خیز کام میں لگایا اور کون تھا جس نے اپنی قوتوں کو وقتی تماشوں میں ضائع کر دیا۔ کس نے عزت پائی اور کون رسوا اور ذلیل ہو کر رہ گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہار اس کی ہے جو آخرت میں ہارا، اور جیت اس کی ہے جو آخرت کے دن جیتا۔ وہ لوگ جو مصلحت پرستی اور موقع شناسی کی مہارت دکھا کر آج کی دنیا میں عزت اور ترقی حاصل کر رہے ہیں، کل کی دنیا میں ان کی یہ مہارتیں بالکل بے کار ثابت ہوں گی۔ مرنے کے بعد جب وہ آخرت کے عالم میں پہنچیں گے تو وہاں کے حالات میں عزت کی جگہ لینے کے لیے وہ اسی طرح اپنے آپ کو نااہل پائیں گے جس طرح ایک قدیم طرز کا دستکار آدمی روایتی ماحول میں باکمال نظر آتا ہے۔ لیکن اگر وہ جدید طرز کے ٹیکنیکل معاشرے میں پہنچ جائے تو وہاں وہ بالکل بے قیمت ہو جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.