انسان ایک ابدی مخلوق ہے؛ اس کی عمر کا تھوڑا سا حصہ موجودہ دنیا میں گزرتا ہے، اور بقیہ تمام حصہ آخرت کی دنیا میں، جو مرنے کے بعد سامنے آنے والی ہے۔ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے، اور اگلی دنیا اپنے عمل کا انجام پانے کی جگہ۔ آخرت کی دنیا کے لیے کوئی شخص جو کچھ کر سکتا ہے، اسی موجودہ دنیا میں کر سکتا ہے۔
اس کے بعد کرنا نہیں، صرف بھگتنا ہے۔ موجودہ زندگی کا عرصہ بہت کم ہے۔ کتنے لوگ ہیں جن کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، مگر آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آج ہم کو دیکھ رہے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ ہم ان کے دیکھنے کے لیے اس دنیا میں موجود نہ ہوں گے۔
ہم اپنی عمر پوری کر کے اپنے رب کے پاس جا چکے ہوں گے۔ موجودہ زندگی وہ پہلا اور آخری لمحہ ہے جب کہ انسان اپنے ابدی مستقبل کی تعمیر کے لیے کچھ کر سکتا ہے۔ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی موقع انسان کو ملا تھا، اور نہ اس کے بعد ایسا کوئی موقع انسان کو ملے گا۔ ہم ایک ایسے امتحان سے گزر رہے ہیں جس کا ایک لازمی نتیجہ سامنے آنے والا ہے، اور بہت جلد ہم ایک ایسے لازمی نتیجے سے دوچار ہوں گے جس سے بچنے کی ہمارے پاس کوئی سبیل نہیں۔
یاد رکھیے، زندگی کا ہر لمحہ جو آپ صرف کر رہے ہیں، آخری طور پر صرف کر رہے ہیں، کیونکہ وہ دوبارہ آپ کے لیے واپس آنے والا نہیں۔ ہمارے لیے صرف ایک ہی موقع ہے، ہم خواہ اس کو استعمال کریں یا اس کو ضائع کر دیں۔ یہ دنیا ہم کو صرف ایک بار دی گئی ہے، خواہ یہاں ہم اپنے لیے جنت کی فصل اگائیں یا جہنم کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.