وہ دن آنے والا ہے جب تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع کیے جائیں گے کہ ایک مالکِ کائنات کے سوا سب کی آوازیں پست ہوں گی۔ اس دن صرف سچائی میں وزن ہوگا، اس کے سوا تمام چیزیں اپنا وزن کھو چکی ہوں گی۔ یہ فیصلے کا دن ہوگا۔
ہمارے اور اس دن کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسے انجام کی طرف چلا جا رہا ہے جہاں اس کے لیے یا تو دائمی عیش ہے یا دائمی عذاب۔ ہر لمحہ جو گزرتا ہے وہ ہم کو اس آخری انجام سے قریب تر کر دیتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقدر ہے۔ ہر بار جب سورج ڈوبتا ہے تو وہ ہماری عمر میں ایک دن اور کم کر دیتا ہے، اس عمر میں جس کے سوا آنے والے ہولناک دن کی تیاری کا اور کوئی موقع نہیں۔
ہم کو زندگی کے صرف چند دن حاصل ہیں، ایسے چند دن جن کا انجام لامحدود مدت تک بھگتنا پڑے گا، جس کا آرام بے حد خوشگوار ہے اور جس کی تکلیف بے حد دردناک۔ قبل اس کے کہ موت آ کر ہم کو اس عالم سے جدا کر دے جہاں صرف کرنا ہے، اور اس عالم میں پہنچا دے جہاں کرنا نہیں، صرف پانا ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کا احتساب کر لیں۔ ہم سب کو ایک روز مالکِ کائنات کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔
کیسے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو خدا اپنے وفادار بندوں میں شمار کرے، کیونکہ وہی لوگ اس دن عزت والے ہوں گے۔ کیسے بدبخت ہیں وہ لوگ جن کو خدا رد کر دے، کیونکہ اس کے بعد ان کے لیے رسوائی اور عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.