Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Naar-e-Jahannam
Naar-e-Jahannam

قیامت کی چنگھاڑ

Urdu · 2 min

جو لوگ واقعی معنوں میں اپنے رب کو پا لیں، وہ ایک اور ہی انسان بن جاتے ہیں۔ بظاہر وہ عام آدمیوں کی طرح ہوتے ہیں، مگر ان کا اندرونی انسان بالکل دوسرا انسان ہو جاتا ہے۔ ان کی جینے کی سطح عام انسانوں سے مختلف ہو جاتی ہے۔

ایسے لوگ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کی فضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں۔ دنیا کی ہر چیز ان کے لیے آخرت کا آئینہ بن جاتی ہے۔ آج کی رونقوں میں انہیں جنت کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں، آج کی تلخیاں ان کو جہنم کی یاد دلانے والی بن جاتی ہیں۔ وہ دنیا میں آخرت کو دیکھ لیتے ہیں، وہ زندگی میں موت کا پیغام سن لیتے ہیں۔

مومن حقیقت میں وہی ہے جو دنیا میں آخرت کے عالم کو دیکھ لے۔ جو حالتِ غیب میں رہتے ہوئے حالتِ شہود میں پہنچ جائے، غیر مومن پر بھی وہ دن آئے گا جب کہ وہ آخرت کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ مگر یہ دیکھنا اس وقت ہوگا جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہری پردوں کو پھاڑ دے گی۔ جب غیب اور شہود کا فرق مٹ جائے گا۔

مگر اس وقت کا دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا، کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ ایمان و یقین کا ثبوت دینے کا۔ قیامت کا فرشتہ سور لیے کھڑا ہے کہ کب حکم ہو، اور پھونک مار کر سارے عالم کو تہ و بالا کر دے۔ یہ بے حد ہولناک وقت ہوگا۔ اس وقت آدمی بولنا چاہے گا مگر وہ بول نہ سکے گا۔

وہ چلنا چاہے گا مگر اس کے پاؤں چلنے کی طاقت کھو چکے ہوں گے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.