آج لوگوں کے لیے سب سے آسان کام بولنا ہے، اور سب سے مشکل کام چپ رہنا۔ مگر بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ بولنا اتنا سنگین کام معلوم ہوگا کہ لوگ سوچیں گے کہ کاش وہ ساری عمر اپنی زبان کو بند رکھتے۔ کاش انہوں نے اپنے ہونٹوں کو سی لیا ہوتا۔
کاش وہ الفاظ رکھنے کے باوجود بے الفاظ ہو جاتے۔ آدمی کے وجود میں زبان سب سے زیادہ فتنے کی چیز ہے، مگر آدمی اپنی زبان ہی کا سب سے زیادہ غلط استعمال کرتا ہے۔ زبان حق کے اعتراف کے لیے ہے، مگر آدمی اپنی زبان کو حق کے انکار کے لیے استعمال کرتا ہے۔ زبان اس لیے ہے کہ آدمی اس سے بھلائی کے الفاظ بولے، مگر وہ اپنی زبان سے برائی کے الفاظ نکالتا ہے۔
جب کسی سے معاملہ پڑتا ہے تو آدمی ایک جواب دے کر مطمئن ہو جاتا ہے، اگر اس کو احساس ہو کہ آخری جواب کسی انسان کو نہیں بلکہ خدا کو دینا ہے، تو وہ بولنے کے بجائے چپ رہنا پسند کرے۔ وقار کو بچانے کے بجائے وقار کو کھو دینا اس کی نظر میں زیادہ محبوب ہو جائے۔ اس قسم کی تمام باتوں کی وجہ یہ ہے کہ آدمی نے غلط طور پر اپنے آپ کو اپنا مالک سمجھ لیا ہے۔ اس کو یاد نہیں کہ بہت جلد اس کا خالق و مالک ظاہر ہوگا اور اس کو گرفتار کر کے بے بسی کے گڑھے میں پھینک دے گا۔
اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ کل ان کا کیا انجام ہونے والا ہے، تو ان کا آج ان کے لیے بے لذت ہو جائے۔ ان کی ڈھٹائی اچانک عاجزی میں تبدیل ہو جائے۔ یہ صرف آنے والے کل سے بے خبری ہے جس نے لوگوں کے آج کو ان کے لیے لذیذ بنا رکھا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.