ہماری موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کے درمیان موت کی غیر یقینی دیوار حائل ہے۔ ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ موت اس دیوار کو توڑ دے، اور اس کے بعد آخرت کے سنگین حقائق ایک بے پناہ سیلاب کی طرح ہمارے اوپر پھٹ پڑیں۔ اس وقت کوئی زور اور کوئی لفظی بازیگری کام نہ آئے گی۔ آدمی بالکل بے سہارا ہو کر اپنے مالک کے سامنے کھڑا ہوگا۔
وہ تمام لوگ تباہی کے دائمی جہنم میں ڈال دیے جائیں گے، جو دنیا کی خوش نمائیوں میں اس طرح گم تھے کہ کوئی نصیحت کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہ ہوتے تھے۔ صرف وہ شخص بچے گا جس نے مالکِ کائنات کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے سے پہلے خود اپنا حساب کر لیا ہوگا۔ سب سے زیادہ غافل وہ ہے جو آنے والے دن سے غافل ہے۔ اس کی غفلت اس کو بچانے والی ثابت نہ ہوگی۔
سب سے زیادہ بے سہارا وہ ہے جو دنیاوی اسباب کو اپنا سہارا سمجھے ہوئے ہے، حالانکہ یہ سہارے آخرت میں مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ثابت ہوں گے۔ بہت سے دیوار اٹھانے والے اپنی دیوار کو گرا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جو اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھ رہے ہیں، وہ دوسروں کے پیروں تلے روندے جائیں گے۔ یہ اس دن ہوگا جب آخرت کا طوفان تمام عالم کو زیر و زبر کر دے گا۔
اس وقت خدا اپنے فرشتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ اس وقت سارے آدمیوں سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا اور اپنے آگے کے لیے کیا روانہ کیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.