موت یہ ثابت کرتی ہے کہ ہر آدمی اکیلا ہے۔ دنیا میں آدمی دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر آدمی ایک خاندان میں شامل ہوتا ہے۔
ہر آدمی اپنے کو کسی نہ کسی مجموعے سے وابستہ کیے رہتا ہے۔ مگر موت انتہائی بے رحمی کے ساتھ آدمی کو ہر چیز سے الگ کر دیتی ہے۔ موت آدمی کو اس کے ساتھیوں سے جدا کر کے اس کو تنہا کھڑا کر دیتی ہے۔ موت اس حقیقت کو یاد دلاتی ہے کہ آدمی اکیلا ہے۔
کوئی اس کا ساتھی اور مددگار نہیں۔ یہ تجربہ ہر روز اور ہر مقام پر ہوتا ہے۔ آدمی اپنے سامنے دیکھتا ہے کہ ایک آدمی اپنے خاندان اور اپنے گروہ میں جی رہا تھا۔ اس کے بعد موت آئی اور اس نے اس کو کھینچ کر ایک ایسے گڑھے میں پہنچا دیا جہاں نہ کوئی اس کے دائیں ہوتا اور نہ کوئی اس کے بائیں۔
کیسا عجیب اور کیسا شدید ہے یہ تجربہ۔ مگر کوئی نہیں جو اس تجربے کو دیکھ کر سبق لے۔ دنیا کی زندگی میں ہر موقع پر بہت سے ساتھی اس کی مدد کے لیے کھڑے ہونے والے تھے۔ مگر موت کے بعد کی زندگی میں وہ تنہا اپنی قبر کو بساتا ہے۔
وہ فرشتوں سے مقابلے کے لیے اکیلا ہوتا ہے۔ وہ خدا کے سامنے اس طرح پہنچتا ہے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ انسان اپنے کو بہت کچھ سمجھتا ہے۔ مگر انسان بے کچھ ہے۔
موت اس لیے آتی ہے کہ وہ آدمی کو اس کی اس حقیقت سے آخری حد تک باخبر کر دے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.