آدمی جب بوڑھا ہوتا ہے تو وہ بالکل نئے تجربے سے دوچار ہوتا ہے۔ زندگی اب اس کے لیے اپنی تمام معنویت کھو دیتی ہے۔ اس کو نظر آتا ہے کہ جلد ہی وہ ایک نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانے والا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ کوئی ہو جو اس فیصلہ کن لمحے میں اس کو امید کی کرن دے سکے۔ مگر موت اچانک اس کو اس طرح اپنے قبضے میں کر لیتی ہے کہ اس کے لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ آدمی ہر قسم کی آزادی سے محروم کر کے مجبوری اور بے بسی کی دنیا میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ موت ہر آدمی کا پیچھا کر رہی ہے۔
بچپن اور جوانی میں آدمی اسے بھولا رہتا ہے، مگر آخر کار تقدیر کا فیصلہ غالب آتا ہے۔ بڑھاپے میں جب کہ وہ کسی کام کے قابل نہیں ہوتا، اس کی موت اچانک اس کو ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیتی ہے جہاں اس کے لیے اندھیروں میں بھٹکنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی دن کی روشنی میں یہ سمجھ کر اپنا نظام بناتا ہے کہ کچھ دیر کے بعد رات کا اندھیرا چھا جانے والا ہے، اور رات کو اس یقین کے ساتھ سوتا ہے کہ چند گھنٹوں کے بعد دوبارہ صبح کی روشنی چاروں طرف پھیل جائے گی۔ مگر آخرت کی دنیا کا کسی کو ہوش نہیں۔
کوئی نہیں جو آنے والی موت کو اس طرح دیکھے جس طرح دن کا ایک مسافر شام کو دیکھتا ہے۔ اور ایسے لوگ تو شاید معدوم کے درجے میں ہیں جو موت کے دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہوں۔ ہر آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے جیسے موت بھی دوسروں کے لیے ہے اور جہنم بھی دوسروں کے لیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.