Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Naar-e-Jahannam
Naar-e-Jahannam

آخری وقت

Urdu · 2 min

ہر آدمی کا ایک آخری وقت مقرر ہے۔ کسی پر سوتے ہوئے وہ وقت آ جاتا ہے، کوئی راہ چلتے پکڑ لیا جاتا ہے، اور کوئی بستر پر بیمار ہو کر مرتا ہے۔ یہ وقت بہرحال ہر ایک پر آنا ہے، خواہ وہ ایک صورت میں آئے یا دوسری صورت میں۔

موت کا یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے: ایک جیتی جاگتی زندگی اچانک بجھ جاتی ہے، ایک ہنستا ہوا چہرہ لمحہ بھر میں اس طرح ختم ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ مٹی سے بھی زیادہ بے قیمت تھا۔ حوصلوں اور تمناؤں سے بھری ہوئی ایک روح دفعتاً اس طرح منظرِ عام سے ہٹا دی جاتی ہے جیسے اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ زندگی کس قدر بامعنی ہے، مگر اس کا انجام اس کو کس قدر بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی بظاہر کتنا آزاد ہے، مگر موت کے سامنے وہ کتنا مجبور نظر آتا ہے۔

انسان اپنی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنا عزیز رکھتا ہے، مگر قدرت کا فیصلہ اس کی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنی بے رحمی کے ساتھ کچل دیتا ہے۔ آدمی اگر صرف اپنی موت کو یاد رکھے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے۔ بہتر زندگی کا واحد راز یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی حد کے اندر رہنے پر راضی ہو جائے، اور موت بلاشبہ اس حقیقت کی سب سے بڑی معلم ہے۔ موت آدمی کو بتاتی ہے کہ وہ کسی کو حقیر نہ سمجھے، کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ خود سب سے زیادہ حقیر ہوگا۔

موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ کسی کو نہ دبائے، کیونکہ بہت جلد وہ خود ہزاروں من مٹی کے نیچے دبا ہوا ہوگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.