موت ایک قسم کی گرفتاری ہے۔ موت وہ دن ہے جبکہ فرشتے کسی آدمی کو پکڑ کر اس کے مالک کے پاس پہنچا دیتے ہیں۔ گرفتاری کا یہ دن ہر شخص کی طرف تیزی سے دوڑا چلا آ رہا ہے، مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسروں کی گرفتاری کو تو خوب جانتے ہیں مگر خود اپنی گرفتاری کی انہیں خبر نہیں۔ وہ دوسروں کے پکڑے جانے کا بہت چرچا کرتے ہیں، مگر اپنے لیے آنے والے اس دن کو یاد نہیں کرتے جبکہ خدا کے فرشتے بے رحمی کے ساتھ انہیں پکڑ کر مالکِ کائنات کی عدالت میں پہنچا دیں گے۔
آدمی دوسروں کی کمیوں کو جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے، حالانکہ جاننے والا وہ ہے جو اپنی کمیوں کو جانتا ہو۔ آدمی لفظی جواب دے کر اپنے کو محفوظ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ محفوظ وہ ہے جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لے۔ خدا کی گرفتاری کا دن تمام ہولناک دنوں سے زیادہ ہولناک ہے۔ اس کا اگر واقعی احساس ہو جائے تو آدمی کی پوری زندگی بدل جائے۔
وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے عالم میں پہنچ جائے۔ وہ خدائی انصاف کے اس ترازو پر آج ہی اپنے کو کھڑا کر لے جس پر دوسرے لوگ مرنے کے بعد کھڑے کیے جانے والے ہیں۔ آدمی اگر خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو تو ہر گرفتاری کو وہ اپنی گرفتاری سمجھے۔ آدمی اگر خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو تو ہر گرفتاری کو وہ اپنی گرفتاری سمجھے۔
دوسرے کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگتی ہوئی دیکھے تو اس کو ایسا محسوس ہو گویا خود اس کو باندھ کر کائنات کی عدالت میں لے جایا جا رہا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.