ہر آدمی جو زندہ ہے وہ ایک روز مرے گا۔ ہر آدمی جو دیکھتا ہے اور بولتا ہے، یقیناً ایک دن اس کی آنکھ بے نور ہوگی اور اس کا بولنا بند ہو جائے گا۔ ہر آدمی پر وہ وقت آنا ہے جب کہ وہ موت کے دروازے پر کھڑا کر دیا جائے۔
اس وقت اس کے پیچھے دنیا ہوگی اور اس کے آگے آخرت۔ وہ ایک ایسی دنیا کو چھوڑ رہا ہوگا جہاں وہ دوبارہ کبھی نہیں آئے گا، اور ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہا ہوگا جس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ وہ اپنے عمل کے مقام سے ہٹا کر وہاں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ اپنے عمل کا ابدی انجام بھگتتا رہے۔ ہم زندگی کے مقابلے میں موت سے زیادہ قریب ہیں۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں، حالانکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ مرے ہوئے ہیں۔ وہ موت جس کا کوئی وقت مقرر نہ ہو، وہ گویا ہر وقت آ رہی ہے۔ ایسی موت کے لیے یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ آ چکی ہے، بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ وہ آنے والی ہے۔ ہر آدمی زندگی سے موت کی طرف سفر کر رہا ہے۔
کسی کا سفر دنیا کی خاطر ہے اور کسی کا آخرت کی خاطر۔ کوئی سامنے کی چیزوں میں جی رہا ہے اور کوئی چھپی ہوئی چیزوں میں۔ موجودہ دنیا میں دونوں بظاہر یکساں نظر آتے ہیں، مگر موت کے بعد آنے والی منزل کے اعتبار سے دونوں کا حال یکساں نہیں۔ جو شخص خدا اور آخرت میں جی رہا ہے، وہ اپنے کو بچا رہا ہے، اور جو دنیا کی دلچسپیوں اور اپنے نفس کی خواہشوں میں جی رہا ہے، وہی وہ شخص ہے جو ہلاک ہوا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.