قبر دوسری دنیا کا دروازہ ہے؛ اس دروازے کے ذریعے آدمی آج کی دنیا سے نکل کر کل کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص جو آج قبر کے اس پار ہے، وہ کل اپنے آپ کو قبر کے اس پار پائے گا۔ ہر شخص جو زندہ ہے، وہ موت کے مقابلے میں اس طرح شکست کھانے والا ہے کہ کوئی نہ ہوگا جو اس کو بچا سکے۔ مگر اس سب سے بڑی حقیقت کو انسان سب سے زیادہ بھولا ہوا ہے۔
ہم میں سے ہر ایک نے یہ منظر دیکھا ہے کہ کسی شخص کے لیے قبر کا دروازہ کھلا اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے اوپر بند ہو گیا۔ مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو یہ جانتے ہوں کہ خود ان کے لیے بھی یہ دروازہ ایک دن کھولا جائے گا، اور پھر اسی طرح ان کے اوپر بند کیا جائے گا جس طرح وہ دوسروں کے اوپر ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ آدمی کی یہ نفسیات بھی کیسی عجیب ہے کہ دوسروں کو وہ ہر روز مرتے ہوئے دیکھتا ہے، مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے گویا اس کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اس کے اپنے لیے موت کا وقت کبھی آنے والا نہیں۔
وہ دیکھتا ہے کہ لوگ ایک ایک کر کے روزانہ خدا کے یہاں پیشی کے لیے بلائے جا رہے ہیں، مگر خود اپنے کو اس طرح الگ کر لیتا ہے گویا عدالتِ الہی میں حاضری کا یہ دن اس کے اپنے لیے کبھی نہیں آئے گا۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی کے مقابلے میں موت سے زیادہ قریب ہے۔ یہ احساس اگر زندہ ہو تو آدمی ہر موت کو اپنی موت سمجھے۔ وہ دوسرے کا جنازہ دیکھے تو اس کو ایسا معلوم ہو گویا خود اس کی لاش اٹھا کر قبر کی طرف لے جائی جا رہی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.