وہ وقت کیسا عجیب ہوگا جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ عمل کے نام پر دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے، وہ بے عملی کی بدترین شکل تھی۔ لوگ اپنے آپ کو اوپر اٹھا کر فخر کرتے رہے، حالانکہ ان کے لیے فخر کی بات یہ تھی کہ وہ خدا کی اس دنیا میں اپنے آپ کو جھکا دیں۔ وہ اپنی غلطیوں کی تاویل کو کامیابی سمجھتے رہے، حالانکہ ان کی کامیابی یہ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیں۔
ان کو زبان اس لیے دی گئی تھی کہ اس کو اللہ کی تعریف میں استعمال کریں، مگر وہ اپنی زبان کو انسانوں کی تعریف میں استعمال کرتے رہے۔ ان کے اندر خوف و محبت کے جذبات اس لیے رکھے گئے تھے کہ وہ ان کو اپنے رب کے لیے وقف کر دیں، مگر وہ دوسری چیزوں کو اپنے خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنائے رہے۔ انہوں نے مال جمع کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھا، حالانکہ ان کے لیے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے کر بے مال ہو جائیں۔ ان کا اصلی کمال یہ تھا کہ وہ کمزوروں کا لحاظ کریں، مگر وہ کمزوروں کو نظر انداز کر کے طاقتوروں کا استقبال کرتے رہے۔
ان کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ معانی کے خاموش سمندر میں غوطہ لگائیں، مگر وہ شور و غل کے ہنگامے کھڑے کرنے میں مشغول رہے۔ ان کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ اپنی ذات کا احتساب کرنے والے بنیں، مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے میں لگے رہے۔ ہر آدمی نے اپنی خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا رکھی ہے اور اپنے آپ کو اس کے اندر پا کر مطمئن ہے، مگر قیامت ایسے تمام گھرندوں کو توڑ دے گی۔ اس وقت صرف وہ شخص محفوظ ہوگا جو خدا کے گھر میں پناہ پکڑے ہوئے تھا، جس نے اپنے لیے خدا کا سایہ حاصل کر لیا تھا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.