لوگوں کی دوڑ دھوپ آج کس چیز کے لیے ہے؟ کھانا، کپڑا، مکان، عزت، دولت، اور خوشیوں کی زندگی کے لیے۔ ہر شخص اپنی ساری طاقت بس انہی چیزوں کے پانے میں لگائے ہوئے ہے۔
سب کی توجہ انہی چیزوں کی طرف ہے۔ انہی کے ملنے سے لوگ خوش ہوتے ہیں، اور انہی کے نہ ملنے سے ناخوش۔ مگر موت کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ خوشیاں موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے مقدر نہیں۔ یہاں اگر کوئی شخص ان تمام چیزوں کو پا لے، تب بھی وہ بے حد عارضی مدت کے لیے انہیں پاتا ہے۔
پچاس سال کی جدوجہد کے بعد جب آدمی اپنی ترقیوں کے کنارے پہنچتا ہے، تو عین اس وقت موت آ جاتی ہے اور اچانک اس کی تمام ترقیوں کو باطل کر دیتی ہے۔ یہ صورتحال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا ان چیزوں کے پانے کی اصل جگہ نہیں۔ ان کو پانے کی جگہ حقیقتاً موت کے بعد آنے والی دنیا ہے، جہاں آدمی کو ہمیشہ رہنا ہے۔ لوگ اپنی ساری قوتوں کو دنیا کے مستقبل کو بنانے میں لگائے ہوئے ہیں۔
آخرت کے مستقبل کو بنانے کی کسی کو فکر نہیں۔ موجودہ عارضی دنیا میں لوگ سب سے زیادہ جس چیز کے طالب ہیں، اسی سے وہ زندگی کے اگلے طویل تر مرحلے میں سب سے زیادہ غافل ہو گئے ہیں۔ آدمی اسی چیز کو کھو رہا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے۔ محرومی کی یہ قسم بھی کیسی عجیب ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.