ہر آدمی امیدوں اور تمناؤں کی ایک دنیا اپنے ذہن میں لیے ہوئے ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی امیدوں کی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہوں، میں اپنے خوابوں والے کل کی طرف چلا جا رہا ہوں۔ مگر اس کی موت اسے آ کر بتاتی ہے کہ وہ اپنی تمناؤں والی دنیا کی طرف نہیں، بلکہ خدا کی دنیا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ دنیا کی منزل کے بجائے آخرت کی منزل کی طرف چلا جا رہا تھا۔
آدمی کہاں جا رہا ہے اور کہاں پہنچ رہا ہے، مگر کسی کو اس کی خبر نہیں۔ آدمی اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے، مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھ کر خوش ہو، وہ خود اپنے اس مستقبل کی طرف ہانک دیا جاتا ہے جس کے لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ آدمی اپنے آرام کے لیے ایک مکان کھڑا کرتا ہے، مگر ابھی وہ وقت نہیں آتا کہ وہ اپنے پسندیدہ مکان میں چین کے ساتھ رہے کہ موت اس کے اور اس کے مکان کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ آدمی کماتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں عزت و ترقی کی بلندیوں پر اپنے کو بٹھانے جا رہا ہوں، مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا دن اس کے لیے جس چیز کا انتظار کر رہا تھا، وہ ایک سنسان قبر تھی، نہ کہ عزت و ترقی کی رونقیں۔
آدمی اپنے وقتی عیش کو کھونا نہیں چاہتا، اس لیے وہ کھلی کھلی حقیقتوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر وہ جانے کہ اس کا وقتی عیش بالآخر ابدی عذاب میں تبدیل ہونے والا ہے، تو اچانک اس کی زندگی کچھ سے کچھ ہو جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.