غریب آدمی کو یہ حسرت ہوتی ہے کہ اس کے پاس عمدہ مکان نہیں، مگر دوسری طرف ان لوگوں کا حال بھی بہت زیادہ مختلف نہیں جن کو ایک غریب آدمی رشک کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ دولت مند آدمی کے لیے پیسہ ہونا اس سے زیادہ بڑے مسئلے پیدا کرتا ہے جو غریب آدمی کو پیسہ نہ ہونے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ ایک بڑا آدمی جس کے گرد انسانوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہو، اندر سے اتنا بے چین ہوتا ہے کہ رات کو گولی کھائے بغیر اسے نیند نہیں آتی۔ اس دنیا میں ہر آدمی دکھی ہے، کوئی ایک صورت میں اور کوئی دوسری صورت میں۔
بالفرض کوئی آدمی خوشیوں کا خزانہ اپنے پاس جمع کر لے تو وہ بھی بس صبح سے شام تک کے لیے ہوگا۔ اس کے بعد اچانک موت کا بے رحم فرشتہ آئے گا اور اس کو اس طرح پکڑ لے گا کہ نہ اس کی دولت اس کو بچا سکے گی اور نہ اس کی فوج۔ ہوائی جہاز کے مسافر پر بھی موت اسی طرح قابو پا لیتی ہے جس طرح ایک پیدل چلنے والے پر۔ وہ عالی شان محلوں میں بھی اسی طرح فاتحانہ داخل ہو جاتی ہے جس طرح ایک معمولی مکان میں۔
موت آدمی کی سب سے بڑی مجبوری ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ آج سے اوپر اٹھ کر سوچے۔ وہ کامیابی کو زندگی کے اس پار تلاش کرے۔ کامیاب وہ ہے جو موت سے یہ سبق لے لے۔
جو شخص یہ سبق لینے سے محروم رہے، اس کی خوشیوں کے چراغ بہت جلد بجھ جائیں گے۔ وہ اپنے کو ایک ایسے بھیانک اندھیرے میں پائے گا جہاں وہ ہمیشہ ٹھوکریں کھاتا رہے اور کبھی اس سے نکل نہ سکے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.