کسی شخص نے اپنی دنیا کی زندگی کو کامیاب بنا لیا ہو تو اکثر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کی آخرت بھی ضرور کامیاب ہوگی، حالانکہ دونوں میں کوئی لازمی تعلق نہیں۔ دنیا کی بڑائی بڑائی نہیں، وہ صرف امتحان کی غرض سے ہے۔ کسی کو اچھے حالات ملیں یا کسی کو برے حالات، دونوں امتحان کے لیے ہیں۔
یہ آدمی کی جانچ کے پرچے ہیں، نہ کہ اس کے عمل کا انجام۔ دوسروں کے مقابلے میں آپ کو کوئی بڑائی مل جائے، یا عزت حاصل ہو جائے، تو اپنے مقابلے میں دوسروں کو حقیر نہ سمجھیے، کیونکہ بڑے اور چھوٹے دونوں آخر کار برابر ہو جانے والے ہیں۔ موت دونوں کو بالکل ایک سطح پر پہنچا دے گی۔ اس کے بعد بڑائی اس کے لیے ہوگی جس کو خدا بڑا بنائے، اور چھوٹا وہ ہوگا جو خدا کے نزدیک چھوٹا قرار پائے۔
دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں آدمی حق کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر اپنے کو اونچے مقام پر بٹھا لیتا ہے، مگر بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ پردہ ہٹے اور ہر آدمی اپنی اصل صورت میں سامنے آ جائے۔ اس وقت کتنے عزت والے ذلت کے گڑھے میں پڑے ہوئے دکھائی دیں گے، کتنے انصاف اور انسانیت کا نعرہ لگانے والے انصاف اور انسانیت کے قاتل قرار دیے جائیں گے، کتنے بہادری کا ٹائٹل لینے والے بزدلی کی کالک سے رو سیاہ ہو رہے ہوں گے، کتنے سچائی پر فدا ہونے والے اس حال میں نظر آئیں گے گویا سچائی سے ان کا کوئی تعلق ہی نہ تھا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.