کسی آدمی کے جہنمی ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ حق کے سامنے نہ دبے اور طاقت کے سامنے دب جائے۔ شرافت اور معقولیت اس کو متاثر نہ کر سکے، مگر جب ڈنڈے کا خطرہ ہو تو فوراً اپنا سر جھکا دے۔ خدا آخرت میں اپنی ذاتِ کمال کے ساتھ ظاہر ہوگا، مگر دنیا میں وہ دلیل کے روپ میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔
دنیا میں جب ایک شخص سچی دلیل کے آگے جھکتا ہے تو دراصل وہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے آخرت میں جنت کے باغات ہیں۔ اس کے برعکس جب ایک شخص سچی دلیل کے آگے نہیں جھکتا تو وہ دراصل خدا کے آگے نہیں جھکتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو باغی اور سرکش قرار دے کر جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔
کمزور آدمی کی زبان سے سچی بات سن کر جب ایک شخص اس کو نہیں مانتا تو وہ مطمئن رہتا ہے کہ میرا اس سے کچھ بگڑنے والا نہیں۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کسی کمزور کی بات کا انکار نہیں کیا ہے، بلکہ خدا کی بات کا انکار کیا ہے۔ یہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے۔ اور جو شخص خدا کو نظر انداز کر دے، اس کو ساری کائنات نظر انداز کر دیتی ہے۔
اس کے بعد اس زمین و آسمان کے اندر اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ وہ دن آنے والا ہے جب الفاظ والے بے الفاظ ہو جائیں گے، جب ٹھکانہ رکھنے والے بالکل بے ٹھکانہ نظر آئیں گے، جب مضبوط سہارے والے لوگ ایک تنکا بھی نہ پائیں گے جس کے سہارے وہ اپنے آپ کو کھڑا کر سکیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.