Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Naar-e-Jahannam
Naar-e-Jahannam

بے ٹھکانہ

Urdu · 2 min

کسی آدمی کے جہنمی ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ حق کے سامنے نہ دبے اور طاقت کے سامنے دب جائے۔ شرافت اور معقولیت اس کو متاثر نہ کر سکے، مگر جب ڈنڈے کا خطرہ ہو تو فوراً اپنا سر جھکا دے۔ خدا آخرت میں اپنی ذاتِ کمال کے ساتھ ظاہر ہوگا، مگر دنیا میں وہ دلیل کے روپ میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔

دنیا میں جب ایک شخص سچی دلیل کے آگے جھکتا ہے تو دراصل وہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے آخرت میں جنت کے باغات ہیں۔ اس کے برعکس جب ایک شخص سچی دلیل کے آگے نہیں جھکتا تو وہ دراصل خدا کے آگے نہیں جھکتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو باغی اور سرکش قرار دے کر جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔

کمزور آدمی کی زبان سے سچی بات سن کر جب ایک شخص اس کو نہیں مانتا تو وہ مطمئن رہتا ہے کہ میرا اس سے کچھ بگڑنے والا نہیں۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کسی کمزور کی بات کا انکار نہیں کیا ہے، بلکہ خدا کی بات کا انکار کیا ہے۔ یہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے۔ اور جو شخص خدا کو نظر انداز کر دے، اس کو ساری کائنات نظر انداز کر دیتی ہے۔

اس کے بعد اس زمین و آسمان کے اندر اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ وہ دن آنے والا ہے جب الفاظ والے بے الفاظ ہو جائیں گے، جب ٹھکانہ رکھنے والے بالکل بے ٹھکانہ نظر آئیں گے، جب مضبوط سہارے والے لوگ ایک تنکا بھی نہ پائیں گے جس کے سہارے وہ اپنے آپ کو کھڑا کر سکیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.