آج ہر آدمی بے ہوش نظر آتا ہے، ہر آدمی اپنے آپ میں اس طرح گم ہے جیسے اس کے اوپر کوئی اور طاقت نہیں۔ حالانکہ موت ہر روز بتا رہی ہے کہ آدمی ایک ایسی حقیقت سے دوچار ہے جس کے مقابلے میں کسی کا کچھ بس نہیں چلتا۔ انسان کتنا زیادہ مجبور ہے، مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ بااختیار سمجھتا ہے۔
آدمی وعدہ کرتا ہے، مگر اس کے بعد اس کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ اس کے اوپر کسی کا ایک حق آتا ہے، مگر وہ اس کو ادا نہیں کرتا۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے، مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ دوسرے کے اوپر ایک طرفہ الزام لگاتا ہے، اور اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
وہ چھوٹوں کو نظرانداز کر کے بڑوں کا استقبال کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو اصول کے تابع کرنے کے بجائے خواہشات کے تابع کرتا ہے۔ وہ زورآور سے دبتا ہے اور بے زور کو ستاتا ہے۔ وہ خدا کو مرکز توجہ بنانے کے بجائے خود اپنی ذات کو مرکز توجہ بناتا ہے۔
وہ جنت کے اشتیاق اور جہنم کے اندیشے میں جینے کے بجائے دنیا کے اشتیاق اور دنیا کے اندیشوں میں جیتا ہے۔ آدمی یہ سب کچھ کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ اپنی اس روش سے وہ اپنے آپ کو جہنم کے قریب لے جا رہا ہے، اور اپنے آپ کو جنت کے لیے نااہل ثابت کر رہا ہے۔ آہ، وہ انسان جس کو اس چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق کرنا چاہیے۔ آہ، وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اسے سب سے زیادہ خوف کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.